گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کے اس اہم خطے کے عوام سیاسی شعور رکھتے ہیں اور اپنی رائے کے اظہار کے لئے جمہوری عمل میں بھرپور شرکت کرتے ہیں۔ انتخابات میں ووٹرز کی بڑی تعداد نے حصہ لیا، پولنگ اسٹیشنوں پر صبح سے شام تک لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں اور مجموعی طور پر امن و امان کی صورتحال بھی تسلی بخش رہی۔ یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عوام جمہوری عمل پر اعتماد رکھتے ہیں اور اپنے مستقبل کے فیصلوں میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں ۔ نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی 24 میں سے 10 نشستیں حاصل کرکے سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے جبکہ مسلم لیگ(ن)نے 6 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ پانچ آزاد امیدواروں کی کامیابی نے سیاسی منظرنامے کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ دو آزاد امیدوار اور مجلس وحدت المسلمین کا ایک امیدوار بھی کامیاب ہوا ہے۔ ان نتائج نے واضح اکثریت کے بجائے ایک ایسے ایوان کی تشکیل کی بنیاد رکھی ہے جس میں سیاسی جوڑ توڑ اور اتحاد سازی اہم کردار ادا کریں گے۔گلگت بلتستان اسمبلی میں حکومت سازی کے لئے 13 نشستیں درکار ہیں۔ تاہم مخصوص نشستوں کی تقسیم کے بعد ایوان کی مجموعی تعداد 33 ہو جائے گی اور حکومت بنانے کے لئے 17 ارکان کی حمایت ضروری ہوگی۔ اس صورتحال میں آزاد امیدواروں کی اہمیت غیرمعمولی حد تک بڑھ گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی مبصرین آزاد ارکان کو کنگ میکر قرار دے رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں ان امیدواروں کے فیصلے نہ صرف حکومت کی تشکیل بلکہ آئندہ سیاسی سمت کے تعین میں بھی کلیدی حیثیت اختیار کر سکتے ہیں۔تاہم انتخابات کے بعد سامنے آنے والے اعتراضات اور تحفظات بھی توجہ کے متقاضی ہیں۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف دونوں کی جانب سے فارم 45 کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔ ایک جانب پیپلز پارٹی کے رہنمائوں نے پولنگ اسٹیشنوں کی منتقلی اور فارم 45 کی عدم فراہمی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے تو دوسری جانب تحریک انصاف نے موصولہ فارم 45 کی بنیاد پر اپنی برتری کا دعویٰ کیا ہے ۔ یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ الیکشن کمیشن مکمل غیر جانبداری اور شفافیت کے ساتھ اپنا کردار ادا کرے تاکہ کسی بھی قسم کے شکوک و شبہات کا خاتمہ ہو سکے۔چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کی جانب سے تمام ریٹرننگ افسران کو مصدقہ فارم 45 جاری کرنے کی ہدایت ایک مثبت قدم ہے۔ انتخابی عمل کی ساکھ اسی صورت برقرار رہ سکتی ہے جب تمام سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو نتائج سے متعلق ضروری دستاویزات بروقت فراہم کی جائیں اور ہر شکایت کا قانونی اور شفاف انداز میں ازالہ کیا جائے۔ جمہوری نظام میں اختلاف رائے فطری امر ہے لیکن انتخابی نتائج کو متنازع بنانے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کرنا ہی سیاسی بلوغت کی علامت ہے۔گلگت بلتستان کی سیاسی اہمیت محض ایک علاقائی حیثیت تک محدود نہیں بلکہ یہ خطہ پاکستان کی جغرافیائی، معاشی اور تذویراتی اہمیت کا بھی حامل ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ منتخب نمائندے عوامی مسائل کے حل، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور بنیادی سہولیات کی بہتری پر توجہ دیں۔ انتخابات کا اصل مقصد صرف اقتدار کا حصول نہیں بلکہ عوامی خدمت اور خطے کی ترقی ہونا چاہیے۔موجودہ نتائج نے اگرچہ کسی ایک جماعت کو واضح اکثریت نہیں دی، لیکن یہ عوام کی جانب سے طاقت کے توازن اور مشاورت پر مبنی سیاست کا پیغام ضرور دیتے ہیں۔ اب ذمہ داری سیاسی قیادت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر خطے کے وسیع تر مفاد میں فیصلے کرے۔ اگر تمام فریق جمہوری اقدار، شفافیت اور عوامی خواہشات کا احترام کریں تو گلگت بلتستان کے یہ انتخابات نہ صرف ایک کامیاب جمہوری مشق ثابت ہوں گے بلکہ خطے میں سیاسی استحکام اور ترقی کے نئے دروازے بھی کھول سکتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر
لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر اسرائیلی بمباری جاری ہے جس کے نتیجے میں 2افرادشہیداورچار بچوں سمیت 20زخمی ہوگئے ہیں۔ایران نے جنگ بندی کے بعد پہلی بار اسرائیل پر میزائل برسادیئے۔ حیفہ کے قریب واقع رامت ڈیوڈ ایئر بیس کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا اسرائیل بھرمیں سائرن بج اٹھے ہیں۔ عراق اور شام کی فضائی حدود بند ہوگئی ہے ایران نے بھی ملک کے مغربی حصے کی فضائی حدود بند کر دیں۔ادھر صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ میں ایران کو یہی مشورہ دوں گاکہ آپ نے میزائل داغ دیئے ہیں اب بس بہت ہوگیا ۔ واپس میز پر آئیں اور معاہدہ کریں میں نہیں چاہتاسفارتی عمل تباہ ہوجائے ۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق امریکی صدر اوراسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہوکے درمیان ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی ہے جس میں ٹرمپ نے انہیں ایران کے خلاف جوابی کارروائی نہ کرنے کا مشورہ دیا ۔ مشرقِ وسطیٰ گزشتہ کئی دہائیوں سے سیاسی کشیدگی، مسلح تنازعات اور عالمی طاقتوں کی مداخلت کا مرکز رہا ہے تاہم حالیہ دنوں میں ایران، اسرائیل اور لبنان کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے خطے کو ایک بار پھر خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر اسرائیلی بمباری، ایران کی جانب سے جنگ بندی کے بعد اسرائیل پر میزائل حملے، فضائی حدود کی بندش اور عالمی رہنمائوں کی تشویش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ صورتحال محض سرحدی جھڑپوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ایک وسیع علاقائی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی علاقوں پر اسرائیلی حملوں میں جانی نقصان اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یہ علاقے روایتی طور پر حزب اللہ کے مضبوط گڑھ تصور کیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے اسرائیل انہیں اپنی فوجی کارروائیوں کا مرکز بناتا رہا ہے۔ تاہم شہری آبادی والے علاقوں میں حملے نہ صرف انسانی المیے کو جنم دیتے ہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے حوالے سے بھی سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔ معصوم شہریوں، خصوصاً بچوں کا متاثر ہونا اس تنازع کے سب سے افسوسناک پہلوں میں شامل ہے ۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں کا داغا جانا صورتحال میں ایک نئی شدت پیدا کرتا ہے۔ ایران نے حیفہ کے قریب واقع رامت ڈیوڈ ایئر بیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اگرچہ ایران نے اس کارروائی کو ایک وارننگ قرار دیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ براہِ راست میزائل حملے کسی بھی وقت مکمل جنگ کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔ ایران کا یہ موقف بھی قابل توجہ ہے کہ اگر اسرائیل نے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں تو اس کا جواب مزید سخت اور وسیع پیمانے پر دیا جائے گا۔اس تنازع کا ایک اہم پہلو عالمی طاقتوں کا کردار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا مشورہ اور اسرائیلی قیادت کو جوابی کارروائی سے گریز کی تلقین اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ خطے میں مزید کشیدگی کا خواہاں نہیں۔ امریکہ بخوبی جانتا ہے کہ اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست جنگ چھڑ گئی تو اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور بین الاقوامی سلامتی پر مرتب ہوں گے۔ خلیجی ممالک، عراق، شام اور دیگر ریاستیں بھی اس جنگ کے دائرے میں آ سکتی ہیں۔عراق، شام اور ایران کی فضائی حدود کی بندش بھی اس خطرے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔ فضائی حدود کی بندش عام طور پر اس وقت کی جاتی ہے جب فوجی سرگرمیوں میں اضافے یا فضائی حملوں کے خدشات موجود ہوں۔ اس اقدام سے نہ صرف مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ دنیا پہلے ہی مختلف معاشی بحرانوں سے نبرد آزما ہے، ایسے میں مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی جنگ عالمی منڈیوں پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔لہٰذا بین الاقوامی برادری، اقوام متحدہ اور علاقائی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی، مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کیلئے فعال کردار اداکریںکیونکہ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے اور ایک نئی بڑی جنگ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔
اداریہ
کالم
گلگت بلتستان کے انتخابات اورنتائج
- by web desk
- جون 9, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 9 Views
- 4 گھنٹے ago

