کالم

یوگی ناتھ کے اردو مخالف بیانات

بھارتی ریاست اتر پریش میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے سینکڑوں طلباءنے وزیر اعلیٰ یوگی ناتھ آدتیہ ناتھ کے اردو مخالف بیانات کیخلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ بی جے پی سے وابستہ وزیر اعلیٰ یوگی ناتھ نے اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اردو تعلیم کے فروغ کو ’کٹھ ملاپن‘ قرار دیا تھا۔انھوں نے اردو کی حمایت کرنے پر سماج وادی پارٹی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔احتجاجی طلباءنے یونیورسٹی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ ایسے بیانات کے خلاف آواز اٹھائیں، کیونکہ یہ ایک واحد مرکزی یونیورسٹی ہے جو اردو کےلئے وقف ہے ۔یونیورسٹی کے ایک ریسرچ اسکالر طلحہ منان نے کہایوگی آدتیہ ناتھ کے اردو مخالف بیانات کو یونہی نہیں لینا چاہیے ، یہ انکی مسلم دشمنی کی گہری جڑوں کا مظہر ہے۔ اردو بھارت کے لسانی اور ثقافتی ورثے کا ایک اٹوٹ حصہ ہے ،یوگی کے ریمارکس صرف ایک زبان کے بارے میں نہیں ہیں بلکہ وہ مسلمانوں کی فکری، سیاسی اور ثقافتی وراثت کو نشانہ بنارہے ہیں۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر متین اشرف نے اردو کے تاریخی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس زبان نے ہندوستان کی تحریک آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔ یوگی کے ریمارکس ایک مقامی زبان کے خلاف انکی گہری نفرت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اردو زبان کی ترقی و ترویج کا آغاز تیرہویں صدی سے ہوا اور یہ زبان جلد ہی ترقی کی منزلیں طے کرتی ہوئی ہندوستان کے ہندوو¿ں اور مسلمانوں کی نمائندہ زبان بن گئی۔ اردو کی ترقی میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندو ادیبوں نے بھی بہت کام کیا ہے۔ اس کی آب یاری اور ترویج و ترقی میں شمالی ہند کے تمام علاقوں نے حصہ لیا۔ یہیں کے لوگ اسے دکن میں لے گئے اور یہ وہاں دکنی اور گجراتی زبان کہلائی۔ اس کے فروغ میں حیدرآباد دکن اور پنجاب کی خدمات اتنی ہی اہم ہیں جتنی دہلی اور لکھنو¿ کی۔ خصوصاً پنجاب نے اس کے علمی و ادبی خزانوں میں بیش بہا اضافہ کیا۔ برصغیر پر قبضے کے بعد انگریزوں نے جلد ہی بھانپ لیا تھا کہ اس ملک میں آئندہ اگر کوئی زبان مشترکہ زبان بننے کی صلاحیت رکھتی ہے تو وہ اردو ہے اسی لیے فورٹ ولیم کالج میں نووارد انگریزوں کو اردو کی ابتدائی تعلیم دینے کا سلسلہ شروع کیا اور یوں اردو کی بالواسطہ طور پر ترویج بھی ہونے لگی۔مگر انگریزی اقتدار آنے کے بعد 1867ءمیں کچھ ہندو تنظیموں اور قائدین نے اردو زبان کی مخالفت شروع کر دی۔ اردو زبان کی مخالفت کے نتیجے سے اردو ہندی تنازع شروع ہوا ۔ 1867ءمیں بنارسکے چیدہ چیدہ ہندو رہنماو¿ں نے مطالبہ کیا کہ سرکاری عدالتوں اور دفتروں میں اردو اور فارسی کو یکسر ختم کر دیا جائے اور اس کی جگہ ہندی کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کیا جائے۔ ہندوو¿ں نے برطانوی بل بوتے پر زور پکڑتے ہی سب سے پہلا حملہ اردو زبان پر کیا اور ایک شعوری تحریک شروع کی جس کے تحت ا±ردو زبان سے عربی اور فارسی لفظیات کو نکال کر اس میں سنسکرت الفاظ شامل کرکے ہندی کے نام سے ایک نئی زبان بنائی۔ یہ کہا گیا کہ اردو قرآن کے رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اس کی جگہ ہندی یا دیوناگری رسم الخط جاری کیا جائے۔ اس لسانی تحریک کا صدر دفتر الہ آباد میں قائم کیا گیا جبکہ پورے ملک میں ہندوو¿ں نے کئی ایک ورکنگ کمیٹیاں تشکیل دیں، تاکہ پورے ہندوستان کے تمام ہندوو¿ں کو اس تحریک میں شامل کیا جائے اور اس کے مقاصد کے حصول کو ممکن بنایا جائے۔ سر سید احمد خان نے حقائق کا جائزہ لیتے ہوئے بنارس کے شہر میں واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ اگر کسی کی تنگ نظری اور تعصب کا یہی عالم رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہندوستان ہندو انڈیا اور مسلم انڈیا میں تقسیم ہو جائےگا ۔ انڈین نیشنل کانگریس کے بااثر عناصر اور دوسری ہندو جماعتوں نے ہندی کو رواج دینے کی بڑی کوشش کی اور اس سلسلے میں بڑی پیچیدہ، چالاک سیاست سے کام لیا لیکن انجمن اور بابائے اردو مولوی عبد الحق کی اَن تھک محنت، حوصلے اور مقابلے کی وجہ سے انھیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ انجمن نے ہندی اردو تنازعے میں اردو زبان کی سلامتی اور تحفّظ کےلئے بڑی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ انجمن کے یہ کارنامے تحریکِ پاکستان کا اہم حصّہ ہیں۔ مولوی صاحب سرسیّد کے تربیت یافتہ تھے محسن الملک کے ساتھ کام کرچکے تھے۔ مولانا حالی کے عقیدت مند اور علمی، ادبی کاموں سے دلچسپی رکھتے تھے۔ مولوی صاحب انجمن کے سیکرٹری مقرر ہو گئے۔ انجمن کو اپنے ساتھ اورنگ آباد لے آئے اور رفتہ رفتہ اس صدی میں اردو زبان و ادب کی ترقی کی سب سے بڑی انجمن کا سب سے اہم حوالہ بن گئے۔ مولوی عبدالحق نے ہندی اردو تنازعے میں اردو زبان کی سلامتی اور تحفّظ کےلئے بڑی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔تقسیم ہند کے بعد جب پاکستان نے اردو کو اپنی قومی زبان کے طور پر اپنایا،بھارت میں اس کے برعکس ہندی کو ملک کی قومی زبان بنانے پر مزید زور دیا جانے لگا اور اردو کو شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ لیکن زمینی سطح پر عام بول چال کی زبان اردو ہی ہے، یہاں تک کہ ہندی بولنے والے بھی اردو سے منسلک الفاظ کا عام طور پر استعمال کرتے ہیں لیکن یہ ناگوار سچائی سیاست کے راستے میں نہیں آتی۔ہندو مسلمانوں میں جس چیز نے سب سے زیادہ بدگمانی، نفرت اور باہمی عناد کو بڑھایا وہ ہندی اردو کا جھگڑا ہے اور اس جھگڑے کے بانی اعظم ”مہاتما“ گاندھی ہیں ۔ پنڈت سندر لال نے کہا، ”اردو ایک ہندوستانی زبان رہی ہے جسے ہندوو¿ں مسلمانوں نے ملکر بنایا اور ترقی دی اور اب بھی صوبہ متحدہ کے بہت سے ضلعوں میں، شہروں اور دیہات ہر جگہ کے ہندو اردو ہی بولتے ہیں اور موجودہ زمانے کی سنسکرت آمیز ہندی نہیں سمجھ سکتے۔ اس سنسکرت آمیز ہندی کو قومی زبان کی حیثیت سے رائج کرنے کی کوشش نہ صرف ہندی کےلئے بلکہ قومی اتحاد کےلئے سخت مضر ہے۔ اس کوشش نے ہندوو¿ں اور مسلمانوں کے درمیان ایک خلیج پیدا کرنے میں بڑا حصہ لیا ہے۔“

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے