کالم

مشرق وسطیٰ پرجنگ کے بادل

شام کے دارلحکومت دمشق میں ایرانی قونصل خانے کی عمارت کو نشانہ بنانا اسرائیل کی جانب سے ایسی اشتعال انگیز حرکت تھی جس کے رد عمل کی تو قع کی جارہی تھی اور واضح طور پر ایران بدلہ لینے کا الٹی میٹم دے رہا تھا ایران کی جانب سے اسرائیل پر ڈرون اور میزائل حملوں نے دنیا بھر میں غیر معمولی اور ہنگامی کیفیت طاری کردی ہے تنازعات اور سیکورٹی خدشات سے دوچار مشرق وسطی تباہی کے دہانے پر ہے’ خطے کو تباہ کن جنگ کے خطرے کا سامنا ہے اسرائیل کا کہنا ہے کہ تہران پر جوابی حملہ ضروری کریں گے جبکہ ایران نے کہا ہے کہ ہمارے صبر کا زمانہ چلا گیا ہے اب صیہونی ریاست کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنائی کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک دمشن میں ایرانی قونصل خانے پر حملے کے جواب میں اسرائیل کے خلاف ایران کے تحمل کی تعریف کریں اور تہران پر الزامات لگانے کے بجائے خود کو مورد الزام ٹھہرا ئیں اور غزہ جنگ میں اسرائیل کے جنگی جرائم کا جواب دیں ایران کے اقدام کا مقصد صیہونی حکومت کے اقدامات کی تکرار کو روکنے اور ایرانی مفادات کا دفاع کرنے کے مقصد میں ایک رکاوٹ پیدا کرتا ہے ادھر ایران کے اسرائیل پر میزائل اور ڈرونز حملے کے تناظر میں سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس رسمی کارروائی کے بعد ملتوی کردیا گیا اجلاس 14 اپریل کو اسرائیل کی درخواست پر بلا یا گیا تھا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے تمام ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف انتقامی کارروائیوں سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ نہ کریں مشرق وسطی تباہی کے دہانے پر ہے خطے کو تباہ کن جنگ کے خطرے کا سامنا ہے وقت آ گیا ہے کہ کشیدگی کم اور زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کیا جائے اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امید سعید ایروانی کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی تو تہران مناسب رد عمل کا حق استعمال کرے گا ادھر جی سیون ممالک کے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے اسرائیل پر حملے سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہوا’ ایران پر ڈرون اور میزائل پروگراموں سمیت مزید اضافی پابندیاں عائد کرسکتے ہیں ایرانی حکام کے بیانات سے یوں لگتا ہے کہ وہ اسی کارروائی پر اکتفا کرنا چاہتے ہیں اور تنازعے کو بڑھا وا دینے کے خواہش مند نہیں لیکن اسرائیلی حکام کا رد عمل اس کے بر عکس ہے امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اسرائیل بھی ایران پر حملہ آور ہوسکتا ہے جس کےلئے اسے بعض عالمی طاقتوں وعلاقائی قوتوں کی غیر اعلانیہ آشیر باد بھی حاصل ہے کیونکہ یہ طاقتیں نہیں چاہئیں گی کہ ایران کا رد عمل کارگر ہو اور اس کے مقابلے میں اسرائیل کو دفاعی پوزیشن میں جانا پڑے بظاہر تو امریکہ یہ کہتا نظر آرہا ہے کہ اسرائیل کے کسی جوابی حملہ میں وہ اس کے معاون نہیں بنیں گے لیکن حقیقت یہی ہے کہ امریکی تائید کے بغیر اسرائیل ایران پر حملہ آور نہیں ہوسکے گا اور نہ ہی وہ اس رد عمل کو ہضم کرنے کی پوزیشن میں ہوگا بلا شبہ ایرانی حملے کے بعد دنیا بھر میں غیر یقینی کی صورت حال بڑھ گئی ہے اس واقعے کو جاننے کے لئے تین باتوں کو سمجھنا ضروری ہے ایران نے غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کرکے اسرائیل کو جواب دے دیا ہے’ یہ ہمت اور جرات کسی عرب ممالک کو نہ ہوسکی دوسری بات ایران کے میزائل اور ڈرونز نشانہ پر گئے کسی اور ملک میں جاکر نہیں گرے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے عالمی پابندی کے باوجود جدید ڈرونز بنا لئے ہیں ایرانی ساختہ کا میکازی ڈرون ایک طرح کا فضائی بم ہے دھماکہ خیز مواد سے لیس یہ ڈرون ہدف کے آس پاس اس وقت تک اڑ سکتا ہے جب تک اسے حملے کا پیغام نہ ملے ہدف سے ٹکرائے جانے پر دھماکہ خیز مواد پھٹ جاتا ہے ایران کا یہ ڈرون تقریبا آٹھ فٹ دو انچ چوڑا ہے جس کا ریڈار کے ذریعے سراغ لگانا مشکل ہوتا ہے عسکری امور کے ماہر جسٹن کرمپ نے بی بی سی سے بات چیت میں بتایا کہ یہ ڈرون بہت نیچا اڑتے ہیں اور ان کو لہروں میں بھیجا جاسکتا ہے جس کی وجہ سے فضائی دفاع کے ذریعے ان کا مقابلہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے ایران نے حملہ کرکے اسرائیل کو جواب دے دیا ہے اب اس امر کا جائزہ لینا ہوگا کہ ایرانی رد عمل کس حد تک نتیجہ خیز ہوگا کیا اسرائیل ایرانی رد عمل پر رد عمل ظاہر کرسکے گا جہاں تک ایران کے رد عمل کا سوال ہے تو متوقع تھا یکم اپریل کو دمشق میں ایرانی سفارتخانے پر اسرائیلی حملے اور ایرانی سفارت کاروں کی موت تہران کےلئے کھلا پیغام تھا ایران نے پیغام کو سمجھتے ہوئے ہی جوابی حملے کی تیاری شروع کردی تھی جہاں تک ایرانی رد عمل کے نتیجہ خیزی کا سوال ہے تو ایران نے ڈرون اور میزائل حملوں سے یہ تو باور کرادیا ہے کہ ہم اپنے سفارتخانے پر حملے سفارتکاروں کا شہادتیں ہضم کرنے کو تیار نہیں شام میں ایرانی قونصلیٹ پر حملے کا ایرانی جواب جائز دفاعی عمل ہے اس کارروائی کے بعد ایرانی حکام کو آپریشن ختم کرنے کا اعلان اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی کو بڑھا وا دینے کا خواہش مند نہیں اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو بھی اشتعال انگیز اقدامات سے اجتناب کرنے کی ضرورت ہوگی پہلی بار ایران اور اسرائیل کی براہِ راست محاذ آرائی ہوئی ہے جنگ خطے میں پھیلی تو پاکستان پر بھی اثرات ہوں گے جنگ بڑھنا اسرائیل کے سوا کسی کے مفاد میں نہیں اسرائیل ماضی قریب میں بھی متعدد مرتبہ ایرانی مفادات اور دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنا چکا ہے مگر رواں ماہ کے شروع میں دمشن میں ایرانی سفارت خانے پر اسرائیلی حملہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی تھی جس کے بعد ایران پر اندرون اور بیرونِ ملک سے بہت دبا ہوا تھا ایران نے صرف فوجی ٹارگٹس پر حملے کئے شہری تنصیبات پر نہیں ایران کا مقصد صرف اسرائیل کو خبردار کرنا تھا، اسرائیل چاہے گا کہ امریکا جنگ میں ملوث ہو جائے اور امریکا کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کیا جائے لیکن امریکا ایسا نہیں چاہے گا جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جب حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا تو امریکہ سمیت مغرب حماس کے خلاف ہوگیا تھا تاثر یہ دیا گیا کہ حماس جارح ہے اب اسرائیل جارح ہے سفارتی سطح پر کچھ کوششیں ہو رہی ہیں کہ اسرائیل کو مزید ایکشن سے روکا جائے خطے میں عدم استحکام کے اثرات ہمارے خطے پر بھی ہو سکتے ہیں اصل سفارتی کوششیں امریکا کی طرف سے ہوں گی کہ جنگ بڑھ نہ جائے لگتا نہیں کہ چین اور روس ایران کی مذمتی قرار داد کی حمایت کریں چین اور روس بھی چاہیں گے کہ نا صرف غزہ بلکہ مشرقِ وسطی میں بھی جنگ بند ہو سعودی عرب یا کوئی اور ملک جنگ میں اضافہ نہیں چاہے گا پاکستان سمیت مسلم ممالک کا متفقہ جواب آنا چاہیے کیونکہ اگر اس وقت ایران اور اسرائیل کے درمیان مزید تنا بڑھتا ہے اور حالات خرابی کی جانب جاتے ہیں تو لامحالہ اس کے اقتصادی اثرات پاکستان اور دیگر ملکوں پر پڑنے سے چیلنج بڑھ جائیں گے ۔مشرق وسطیٰ دنیا کو تیل کی سپلائی کا سب سے بڑا ماخذ ہے اور علاقائی سطح پر کشیدگی کے نتیجے میں توانائی کی سپلائی پر جو اثرات مرتب ہوسکتے ہیں وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں اسی طرح اہم عالمی بحری گزر گاہیں جو مشرق اور مغرب کو ملاتی ہیں ‘مشرق وسطیٰ کے اسی خطے میں واقع ہیں جہاں آگ بھڑکانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جا رہا ضروری ہے کہ ایران اور اسرائیل کی موجودہ کشیدگی کو کم کرانے کی موثر اور مخلصانہ کوششیں کی جائیں اور ہر صورت اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ یہ تصادم طول نہ پکڑے خدانخواستہ اگر یہ کشیدگی طول پکڑتی ہے تو اس کا نقصان خطے کے ممالک سمیت امریکہ’یورپ اور پوری دنیا کو ہوگا ‘اب بھی وقت ہے امریکہ یورپ اور اسرائیل کے دیگر اتحادی عالمی امن کے خطرات کی آگ پر تیل ڈالنے کا کام کرنے کی بجائے معاملات کو سلجھانے کےلئے اپنا کردار ادا کریں وگرنہ ان کی دورخی اور منافقت پر مبنی پالیسی دنیا کے امن کےلئے ایک ڈراﺅنا خواب بن سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے