کالم

حکومت اور اداروں کیخلاف پروپیگنڈا غیر شرعی قرار

پاکستان ایک اسلامی نظریے کی بنیاد پر وجود میں آنے والی مملکت ہے۔ اس کے قیام کا مقصد برصغیر کے مسلمانوں کو ایسا خطہ فراہم کرنا تھا جہاں وہ اپنی مذہبی، تہذیبی اور سماجی اقدار کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد دستور سازی کے مختلف مراحل میں اسلام کو ریاستی شناخت کا بنیادی ستون قرار دیا گیا۔ آئینِ پاکستان میں واضح طور پر درج ہے کہ حاکمیتِ اعلی اللہ تعالی کی ہے اور قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ اس کے باوجود بعض حلقے یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر ملک میں مکمل شریعت نافذ نہیں ہو سکی تو کیا پاکستان کو غیر اسلامی، اور اس کی حکومت، اداروں یا فوج کو غیر مسلم قرار دیا جا سکتا ہے؟ یہ سوال نہایت حساس، فکری اور دینی اہمیت کا حامل ہے، جس پر اعتدال، بصیرت اور علمی دیانت کے ساتھ گفتگو ضروری ہے۔اسلام ایک متوازن دین ہے جو عدل، حکمت اور احتیاط کی تعلیم دیتا ہے۔ کسی فرد، معاشرے یا ریاست کے ایمان و اسلام کے بارے میں فیصلہ دینا انتہائی نازک معاملہ ہے۔ قرآن کریم اور احادیثِ نبوی ۖ میں تکفیر، یعنی کسی مسلمان کو کافر قرار دینے، کے بارے میں سخت تنبیہ موجود ہے۔ نبی کریم ۖ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہے اور وہ حقیقت میں کافر نہ ہو تو یہ الزام خود کہنے والے کی طرف لوٹ آتا ہے۔ اس لیے کسی حکومت یا پورے ملک کو محض بعض کمزوریوں، کوتاہیوں یا ناقص نظام کی بنیاد پر غیر مسلم قرار دینا اسلامی تعلیمات کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا ۔ پاکستان کی حقیقت یہ ہے کہ یہاں کی اکثریتی آبادی مسلمان ہے، مساجد آباد ہیں، اذان کی صدائیں گونجتی ہیں، رمضان، حج، زکو اور دیگر اسلامی شعائر پوری آزادی کے ساتھ ادا کیے جاتے ہیں۔ آئین میں اسلام کو ریاستی مذہب قرار دیا گیا ہے اور ملک کے تمام سربراہان کیلئے مسلمان ہونا شرط ہے۔ عدالتوں میں اسلامی دفعات موجود ہیں، وفاقی شرعی عدالت قائم ہے اور اسلامی نظریاتی کونسل جیسے ادارے کام کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ سب کچھ ایک مثالی اسلامی نظام کی مکمل تصویر نہیں، لیکن یہ کہنا بھی درست نہیں کہ ریاست کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں یا یہ مکمل طور پر غیر اسلامی نظام ہے۔یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ شریعت کا نفاذ ایک تدریجی اور اجتماعی عمل ہے۔ تاریخِ اسلام میں بھی اسلامی قوانین یک دم نافذ نہیں ہوئے بلکہ مختلف مراحل سے گزر کر ایک مکمل معاشرہ تشکیل پایا۔ مدینہ منورہ کی ریاست میں بھی بعض احکامات وقت کے ساتھ نازل ہوئے۔ اس لیے اگر کسی معاشرے میں اسلامی تعلیمات کا نفاذ مکمل نہ ہو سکا ہو تو اس کی اصلاح، دعوت، تعلیم اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے بہتری کی کوشش کی جانی چاہیے، نہ کہ پورے نظام، حکومت یا فوج کو دائر اسلام سے خارج قرار دے دیا جائے۔پاکستان کی فوج کے بارے میں بھی بعض انتہا پسند عناصر سخت زبان استعمال کرتے ہیں حالانکہ یہ ادارہ ملک کی سلامتی، سرحدوں کے دفاع اور قومی استحکام کیلئے قربانیاں دیتا آیا ہے۔ فوج کے افسران اور جوان مسلمان ہیں، نماز، روزہ اور دیگر اسلامی شعائر پر عمل کرتے ہیں اور وطن کے دفاع کو دینی و قومی فریضہ سمجھتے ہیں۔ کسی ادارے کی بعض سیاسی یا انتظامی غلطیوں کی بنیاد پر پورے ادارے کو غیر مسلم کہنا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے بلکہ معاشرے میں انتشار اور نفرت کو جنم دینے کا باعث بھی بنتا ہے۔اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ امت کو سب سے زیادہ نقصان انتہاپسندی اور تکفیر کے فتنوں نے پہنچایا۔ خوارج نے بھی یہی روش اختیار کی تھی کہ معمولی اختلاف یا گناہ کی بنیاد پر مسلمانوں کو کافر قرار دیتے تھے۔ نتیجتاً امت تقسیم، کمزور اور خانہ جنگی کا شکار ہوئی۔ آج بھی جب کوئی گروہ اپنی سوچ کو اسلام کا واحد معیار سمجھ کر دوسروں کے ایمان کے فیصلے صادر کرتا ہے تو اس سے اتحادِ امت مجروح ہوتا ہے اور دشمن قوتوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ اسلامی نظام صرف نعروں سے نافذ نہیں ہوتا بلکہ اس کیلئے مضبوط کردار، علمی پختگی، سیاسی استحکام اور سماجی شعور ضروری ہوتا ہے۔ جب تک معاشرے میں دیانت، برداشت، عدل اور اخلاقی تربیت کو فروغ نہیں دیا جائے گا، اس وقت تک محض فتووں یا جذباتی تقاریر سے اسلامی ریاست کا خواب شرمند تعبیر نہیں ہو سکتا۔لہٰذا پاکستان میں شریعت کے مکمل نفاذ میں تاخیر یا کمزوری کو بنیاد بنا کر ملک، حکومت یا فوج کو غیر مسلم قرار دینا نہ دینی اعتبار سے درست ہے اور نہ قومی مفاد کے مطابق ۔ اصلاح کا راستہ تکفیر نہیں بلکہ حکمت، مکالمہ، آئینی جدوجہد اور مثبت اجتماعی کردار ہے ۔ پاکستان ایک اسلامی شناخت رکھنے والی ریاست ہے جسے مزید بہتر بنانے کی ضرورت ضرور ہے، مگر اس کی بنیادوں کو کفر سے تعبیر کرنا فکری شدت پسندی کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم انتشار اور نفرت کے بجائے اتحاد، اعتدال اور تعمیرِ وطن کے جذبے کو فروغ دے۔ اسلام امن، عدل اور اصلاح کا دین ہے، اور یہی اصول پاکستان کی ترقی، استحکام اور اسلامی تشخص کی حقیقی ضمانت بن سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے