معرکہ حق نے تاریخ رقم کردی
اس سچائی کو تاریخ کا کوئی بھی طالب علم جھٹلا نہیں سکتا کہ تقسیم ہند سے لیکر اب تک پاکستان اور بھارت کے
اس سچائی کو تاریخ کا کوئی بھی طالب علم جھٹلا نہیں سکتا کہ تقسیم ہند سے لیکر اب تک پاکستان اور بھارت کے
حالیہ برسوں میں سخت جغرافیائی سیاسی دشمنی کے دوبارہ ابھرنے نے عالمی نظام کی نوعیت کے بارے میں بحث کو دوبارہ زندہ کر
انسانی معاشرے کی اولین صبح سے ہی تصادم اجتماعی زندگی کا ایک ناگزیر پہلو رہا ہے۔ ریاستوں، سرحدوں اور تحریری قوانین کے وجود
بھارت کے بڑھتے ہوئے میزائل پروگرام نے جنوبی ایشیا میں سٹریٹجک توازن کو بگاڑ دیا ہے ، اسکی جارحانہ میزائل سازی پاکستان اور
پورے مشرق وسطیٰ میںتین اہم ہاٹ سپاٹ بین الاقوامی برادری کے لئے تشویش کا باعث بنے رہنے چاہئیں۔ایران جنگ،لبنان کا تنازعہ اور غزہ
وہی ہوا، جواسرائیل پہلے والے فریڈیم فلوٹیلوں کے ساتھ دہشت گردی کرتا رہا ہے۔ ترکی والے فریڈیم فلوٹیلا کے تو کئی رضاکار شہید
جنوبی ایشیا کی سیکیورٹی صورتحال حالیہ برسوں میں ایک نئی پیچیدگی اختیار کر چکی ہے۔ ایک طرف پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی
پاکستان ایک ایسے نازک دوراہے پر کھڑا ہے جہاں معاشی رکاوٹیں، توانائی کی کمی اور ماحولیاتی انحطاط آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ متاثر
صوبائی دارالحکومت لاہور سے تقریبا 340کلومیٹر کے فاصلے پر واقع میانوالی اپنی جغرافیائی اہمیت، تاریخی شناخت اور سماجی اقدار کے باعث پنجاب کے
نام نہاد بڑی معیشت کادعویٰ کرنے والی نااہل مودی سرکار کو برطانوی جریدہ”دی اکانومسٹ ” نے آئینہ دکھا دیا، دی اکانومسٹ کے مطابق