- الإعلانات -

جنوبی افریقی فاسٹ بولر ربادا، وقار یونس کے تجربے سے سیکھنے کے خواہاں

جنوبی افریقی کرکٹر کیگیسو ربادا کا کہنا ہے کہ پہلی بار پاکستان آکر اچھا لگ رہا ہے لیکن کراؤڈ کے بغیر کھیلنا مختلف تجربہ ہے۔جنوبی افریقی فاسٹ بولر نے کہا کہ خواہش ہے ایک دن پاکستان سپر لیگ میں ضرور حصہ لوں۔آن لائن انٹرویو میں کیگیسو ربادا کا کہنا تھا کہ وہ پہلی بار پاکستان آئے ہیں، یہاں کی کنڈیشن برصغیر کے دوسرے ملکوں جیسی ہے لیکن اس سیریز کو تاریخی اہمیت حاصل ہے، انہیں خوشی ہے کہ وہ پاکستان آکر کرکٹ کھیل رہے ہیں۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں مصروفیات کی وجہ سے پی ایس ایل کھیلنے کا موقع نہیں مل سکا لیکن ایک دن وہ پاکستان سپر لیگ ضرور کھیلیں گے۔ایک سوال پر 25 سالہ جنوبی افریقی فاسٹ بولر نے کہا کہ انڈر19 کرکٹ سے آج تک کا صفر بہت چیلنجنگ تھا جس میں کافی اونچ نیچ دیکھنے کو ملیں۔

ربادا نے کہا کہ بابر اعظم ایک عظیم بیٹسمین ضرور ہیں، انہوں نے ابھی کوہلی یا ولیمسن جتنی کرکٹ تو نہیں کھیلی لیکن ان میں ان کی طرح کامیاب بیٹسمین بننے کی صلاحیت موجود ہے، امید ہے بابر جتنا زیادہ کھیلیں گے اتنا بہتر کریں گے۔حال ہی میں 200 وکٹیں مکمل کرنے والے جنوبی افریقی بولر نے کہا کہ ان کی ہمیشہ ہی خواہش تھی کہ وہ نمبر ون بولر بنیں اور آج بھی یہی خواہش ہے لیکن کرکٹ شروع کرتے وقت نہیں سوچا تھا کہ فاسٹ بولنگ کے بڑے بڑے ناموں میں ان کا شمار ہوگا۔

ربادا نے کہا کہ جارح مزاجی فاسٹ بولر کیلئے اہم ہوتی ہے ، ہرکسی کا اپنا انداز ہوتا ہے، بیٹسمین پر پریشر ڈالنے کیلئے ضروری ہے کہ جارح مزاجی پرفارمنس میں ہو، باتوں میں نہیں۔ربادا نے کہا کہ اگر وقار یونس سے ملنے کا موقع ملا تو وہ ان کے تجربہ سے سیکھنے کی کوشش کریں گے، خواہش ہوگی کہ وقار یونس کی ذہانت سے جتنا کچھ حاصل کیا جاسکتا ہو کرلیں۔