کالم

مشرقِ وسطی کشیدگی اور معاشی حکمت عملی

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جغرافیائی و سیاسی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈیوں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے، جسکے اثرات براہِ راست پاکستان جیسی درامدی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔پاکستان، جو اپنی توانائی کی ضروریات کا تقریبا 80فیصد خلیجی ریاستوں سے درآمد کرتا ہے، اس بحران کے نتیجے میں فوری اور ڈھانچہ جاتی دونوں نوعیت کے معاشی خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ خطرات صرف ایندھن کی قیمتوں میں اضافے تک محدود نہیں بلکہ ترسیلاتِ زر، کرنٹ اکانٹ خسارے، مہنگائی، اور مالیاتی دباؤ جیسے متعدد پہلوؤں کو اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں۔توانائی کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھا کیساتھ ساتھ مال برداری اور انشورنس کے اخراجات میں اضافہ بھی پاکستان کے درآمدی بل کو مزید بھاری بنا دیتا ہے۔ نتیجتاً کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ بڑھتا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر متاثر ہوتے ہیں، اور روپے کی قدر میں کمی آتی ہے۔ یہ عوامل مہنگائی کو جنم دیتے ہیں، جس کا بوجھ بالآخر عام شہری کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ مزید برآں، خلیجی ممالک میں معاشی سست روی یا کشیدگی کی صورت میں وہاں کام کرنے والے پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر بھی متاثر ہو سکتی ہیں، جو پاکستان کیلئے ایک اہم مالی سہارا ہیں۔اگرچہ سفارتی اور لاجسٹک سطح پر کچھ وقتی اقدامات کے ذریعے ان خطرات کو محدود کیا جا سکتا ہے، تاہم یہ بحران اس بات کا متقاضی ہے کہ پاکستان فوری، درمیانی اور طویل مدتی سطح پر ٹھوس معاشی اصلاحات متعارف کروائے۔ قلیل المدتی حکمتِ عملی میں توانائی کی سپلائی چین کو متنوع بنانا، اسٹریٹجک ذخائر میں اضافہ، اور درآمدی لاگت کو کم کرنے کیلئے متبادل راستوں کی تلاش شامل ہونی چاہیے۔اس وقت پاکستان کے پاس صرف 20دن کا اسٹریٹجک آئل ذخیرہ موجود ہے، جو کسی بھی بڑی سپلائی رکاوٹ کے سامنے ناکافی ہے۔ اسے بڑھا کر کم از کم دو ماہ تک لے جانا ناگزیر ہو چکا ہے۔درمیانی اور طویل مدتی اصلاحات میں سب سے اہم پہلو درآمدی ایندھن پر انحصار میں کمی ہے۔ اس مقصد کیلئے مقامی سطح پر پٹرولیم کی تلاش اور پیداوار (E&P)کے شعبے کو مضبوط کرنا ہوگا۔ ساتھ ہی، توانائی کے متبادل ذرائع جیسے کوئلہ، جوہری توانائی، اور خصوصا قابلِ تجدید ذرائع شمسی اور ہوا سے پیدا ہونے والی توانائی کو فروغ دینا ہوگا۔ گھریلو سطح پر سولر پینلز کے استعمال کو عام کرنے سے نہ صرف بجلی کے بحران میں کمی آئیگی بلکہ درآمدی ایندھن پر دبا بھی کم ہوگا۔بجلی کے شعبے میں اصلاحات بھی وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات، لائن لاسز، اور ریکوری کے مسائل نے اس شعبے کو مالی طور پر کمزور کر دیا ہے۔ ان مسائل کے حل کے بغیر توانائی کے کسی بھی منصوبے کی کامیابی ممکن نہیں۔ اسی طرح، پرانے بجلی خریداری معاہدوں، خصوصا آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدوں پر ازسرِنو نظرثانی کی ضرورت ہے تاکہ قومی خزانے پر بوجھ کم کیا جا سکے۔ حکومت کو اپنے مالیاتی خسارے کو کم کرنے کے لیے سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنا ہوگا، خصوصا وہ ادارے جو مسلسل خسارے میں جا رہے ہیں۔ اسکے ساتھ ساتھ، سبسڈی کے نظام کو بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ عمومی سبسڈی کے بجائے صرف مستحق طبقات کو ٹارگٹڈ سبسڈی فراہم کی جائے تاکہ وسائل کا ضیاع روکا جا سکے۔ حالیہ اقدامات، جیسے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود مخصوص طبقات کو سبسڈی دینا، ایک مثبت سمت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ علاقائی سطح پر تعاون بھی توانائی کے بحران سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایران کیساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینا، پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل، اور ایران سے تیل کی درآمد جیسے اقدامات توانائی کے متبادل ذرائع فراہم کر سکتے ہیں۔ تاہم، ان اقدامات کیلئے بین الاقوامی سفارتی پیچیدگیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے متوازن حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔بجلی سے چلنے والے آلات اور گاڑیوں کے فروغ کے لیے ٹیکس اور ڈیوٹی میں نرمی، اور آسان قرضوں کی فراہمی جیسے اقدامات بھی توانائی کے استعمال کے رجحانات کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ایندھن کی کھپت میں کمی آئے گی بلکہ ماحولیاتی بہتری بھی ممکن ہوگی۔ اسی تناظر میں سی ٹی بی سی ایم کے نفاذ کو تیز کر کے توانائی کی منڈی کو مسابقتی بنایا جا سکتا ہے، جس سے قیمتوں میں کمی اور کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔یہ بحران درحقیقت پاکستان کیلئے ایک موقع بھی ہے کہ وہ اپنی معیشت کو زیادہ خودمختار، پائیدار، اور لچکدار بنائے۔اگر بروقت اور موثر اصلاحات نافذ کی جائیں تو نہ صرف موجودہ خطرات پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ مستقبل میں ایسے بحرانوں کے اثرات کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر، درآمدی انحصار اور ڈھانچہ جاتی کمزوریاں پاکستان کی معاشی خودمختاری کو مسلسل خطرے میں ڈالتی رہیں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے