کالم

ادارہ جاتی اصلاحات اور چیلنجز

پاکستان کی سیاسی و معاشی تاریخ میں جب بھی کسی حکومت نے ادارہ جاتی اصلاحات کو ایجنڈے کی اولین ترجیح بنایا ہے، وہ مرحلہ قومی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اسی اقتصادی مطالبے کو اپنے اصلاحاتی پروگرام کا محور بنایا ہے۔ اس اقدام نے ہر ذہن میں یہ سوال گہرا کر دیا ہے کہ کیا واقعی ریاستی مشینری کو بہتر، موثر اور عوامدوست بنایا جا سکتا ہے، یا یہ اصلاحات صرف بیوروکریسی کی سطحی ترتیب ہی ہیں؟حکومت کے گزشتہ چند سالوں کے اقدامات کو دیکھیں تو واضح ہوتا ہے کہ اس بار اصلاحات کا دائرہ صرف بیانات تک محدود نہیں رہا بلکہ حقیقتاً بڑے پیمانے پر ساختی تبدیلیوں کیلئے راہ ہموار کی گئی ہے۔ سب سے نمایاں اقدام رائٹسائزنگ یعنی وفاقی حکومت کے ڈھانچے کا منظم جائزہ اور غیر ضروری بوجھ کم کرنا ہے۔ اس پالیسی کے تحت حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ غیر ضروری اسامیاں ختم کی جائیں گی جس سے ریاستی اخراجات میں خاطر خواہ کمی آئے گی اور مستقبل میں ملازمتوں کے غیر موثر اضافے پر روایتی دبائو کم ہوگا۔اسی سوچ کے تحت 43وفاقی وزارتوں اور ان سے وابستہ درجنوں اداروں کا ایجنڈا مکمل تجزیے کیلئے تیار کیا گیا، جس کا مقصد یہ ہے کہ ادارے زیادہ فوکسڈ، فوری جوابدہ، اور عوامی خدمت میں فعال بنیں۔ حکومت کا ہدف ہے کہ اس مرحلے پر جلد عمل درآمد ممکن بنایا جائے۔ یہ اصلاحاتی پروگرام منظم، ڈیٹا پر مبنی اور عمرانی ضرورت کے تحت ترتیب دیا گیا ہے جس کا واضح مقصد ریاستی مشینری کو غیر ضروری بوجھ سے آزاد کرکے حقیقی عوامدوستی، بہتر فیصلہسازی اور معاشی کارکردگی کے ساتھ جوڑنا ہے۔اصلاحات کے تحت کئی وزارتوں اور اداروں کی ساخت میں بنیادی تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔ مثلا وزارتِ ایوی ایشن کو وزارتِ دفاع میں ضم کیا گیا تاکہ فضائی امور کے فیصلے اور عملدرآمد ایک مربوط اور تیز رفتار ڈھانچے کے تحت ہوں۔ وزارتِ کشمیر امور اور سیفران کو ایک متحدہ شعبے میں جوڑا گیا ۔ وزارتِ قومی تحفظ خوراک اورتحقیق کے اندر 16ذیلی اداروں میں سے متعدد کو صوبوں کو منتقل یا انضمام کے ذریعے ضم کیا گیا۔ دیگر محکمے جیسے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام، انڈسٹریز اینڈ پروڈکشن، صحت اور ہائوسنگ اینڈ ورکس بھی بنیادی اصلاحات اور تنظیم نو کے مراحل سے گزرے ہیں۔وفاقی کابینہ نے رائٹسائزنگ کے دوسرے مرحلے میں 53 اداروں پر مزید غور و فکر کی منظوری دی ہے جس کے تحت بعض اداروں کو صوبوں کو منتقل کرنے اور دیگر میں انسانی وسائل میں خاطر خواہ کمی متوقع ہے۔ یہ اقدامات کسی سادہ حکمت عملی کا حصہ نہیں، بلکہ ملک کے سنگین اقتصادی حالات، بیرونی قرضوں کے دبائواور مالیاتی استحکام کی ضرورت نے اصلاحات کی رفتار کو تیز کیا ہے۔ متعدد رپورٹس کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ جاری پروگرام میں اصلاحات کے اہداف میں ساختی تبدیلی بنیادی نکتہ رہے ہیں۔حکومت نے نقصان میں جانے والے سرکاری اداروں کی نجکاری کے پروگرام میں بھی پیش رفت کی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت نے قومی ایئر لائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کیلئے کھلے نیلامی عمل کے ذریعے 75فیصد حصص نجی شعبے کے حوالے کرنے کا کامیاب عمل مکمل کیا جسے براہِ راست نشر بھی کیا گیا۔ اس نجکاری کو معاشی اصلاحات کے ایجنڈے میں ایک تاریخی قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے خسارے میں جانے والے اداروں کی نجکاری کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے اور نجی شعبے کی شمولیت سے ان اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ خالی اسامیوں کے خاتمے سے حکومت کو بجٹ میں بچت کا موقع مل رہا ہے اور انتظامی اخراجات میں کمی متوقع ہے۔ غیر بنیادی خدمات جیسے صفائی، مرمت وغیرہ کو آٹ سورس کرنے سے مرکزی ادارے اپنے مین مشنز پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ آٹ سورسنگ اور تنظیم نو کے تحت عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں تاکہ فیصلے عوام تک تیزی سے پہنچیں۔ساختی تبدیلیوں کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ عوامی خدمات کی فراہمی میں خلل نہ آئے، خصوصا ایسے شعبوں میں جہاں براہِ راست عوام کا واسطہ ہوتا ہے۔ سرکاری افسران کے نظم و تربیت میں جدیدیت بھی ضروری ہے تاکہ نئی تبدیلیاں مثر طریقے سے عملی جامہ پہنا سکیں۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ کسی بھی ادارہ جاتی اصلاح کی کامیابی کا دارومدار صرف اخراجات کم کرنے پر نہیں بلکہ خدمات کی رفتار، عوامی اعتماد اور شفافیت کو مستحکم کرنے پر بھی ہوتا ہے ۔آئندہ مرحلے میں جب حکومت مزید وزارتوں، اداروں اور خدماتی شعبوں کا جائزہ لے رہی ہے، اصلاحات کو موجودہ وسائل کے موثر استعمال، ڈیجیٹل گورننس اور عوامی فلاح و بہبود کے تناظر میں بھی پرکھا جانا چاہیے۔ پاکستان کی ریاستی مشینری کی مضبوطی اور پختگی کے اس سفر میں یہ اہم مرحلہ ہے۔ اگر اصلاحات کو حقیقی عوامی مفاد کے پیشِ نظر نافذ کیا جائے، تو آنے والا وقت بہتر کارکردگی اور شفاف حکمرانی کا باب ثابت ہو سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے