کالم

سکھ رہنما کا قتل ، امریکی صدر تحقیقات کےلئے سنجیدہ

امریکی صدر جو بائیڈن نے سکھ رہنما کے قتل کی بھارتی سازش کی تحقیقات کےلئے سنجیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اٹلی میں جاری جی 7 کانفرنس میں بھارتی وزیر اعظم کے سامنے قاتلانہ سازش کا معاملہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں رہنماوں کی گفتگو میں سکھ رہنما کے قتل کی سازش پر بات ہوگی۔ اس سے قبل امریکی صدر نے بھارتی سازش بے نقاب ہونے پر گزشتہ سال نئی دہلی کا دورہ منسوخ کر دیا تھا۔ امریکہ نے کہا ہے کہ وہ کینیڈا اور امریکہ میں قتل کی دو سازشوں میں انڈین انٹیلی جنس سروس کے مبینہ کردار کو ایک سنجیدہ معاملے کے طور پر دیکھتا ہے۔ بھارت کی انٹیلی جنس سروس کا ایک افسر ایک ایسے امریکی شہری کے قتل کے ناکام منصوبے میں براہ راست ملوث تھا، جو امریکہ میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے سب سے زیادہ تنقید کرنے والوں میں سے ہے۔ مذکورہ افسر گذشتہ جون میں کینیڈا میں ایک سکھ کارکن کے قتل میں بھی ملوث تھا، جسے گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔وائٹ ہاو¿س کی پریس سیکریٹری کیرین جین پیئر نے صحافیوں کو بتایا کہ ’یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور ہم اسے بہت سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ ہم اپنے خدشات کا اظہار کرتے رہیں گے۔‘گزشتہ برس نومبر میں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ بھارتی حکومت کا ایک اہلکار سکھ علیحدگی پسند اور امریکہ اور کینیڈا کی دوہری شہریت رکھنے والے گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی کوشش کی منصوبہ بندی میں ملوث ہے۔پنوں، سکھس فار جسٹس کے جنرل کونسل ہیں، جسے بھارت نے 2019 میں انتہا پسندانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے ’غیر قانونی تنظیم‘ قرار دیا تھا اور اس کے بعد 2020 میں بھارت نے پنوں کو بھی ’انفرادی دہشت گرد‘ قرار دیا تھا۔یہ بھارت اور امریکہ میں بائیڈن انتظامیہ دونوں کے لیے ایک نازک مسئلہ ہے کیونکہ وہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کے بارے میں مشترکہ خدشات کے پیش نظر قریبی تعلقات استوار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔امریکہ سے قبل کینیڈا نے بھی کہا تھا کہ وہ ان قابل اعتماد الزامات کی تحقیق کر رہا ہے جن میں کہا گیا کہ وینکوور کے مضافاتی علاقے میں ایک اور سکھ علیحدگی پسند ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں ممکنہ طور پر بھارتی ایجنٹ ملوث ہے۔ کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے بھارت کو کینیڈا میں سکھ رہنما کے قتل الزامات کو سنجیدہ لینے پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں، سکھ رہنما کے قتل پر جواب چاہتے ہیں، جبکہ کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے معاملے پردنیا کے پانچ اہم ممالک کا انٹیلی جنس اتحاد بھی بھارت کیخلاف ایک پلیٹ فارم پر آ گیا ہے۔ برطانوی اراکین پارلیمنٹ نے بھی سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کا معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھا دیا ہے۔
کینیڈا میں سکھ اور مسلم رہنماو¿ںنے حکومت سے ممکنہ خطرات کو روکنے کےلئے مزید اقدامات کا مطالبہ کر دیا ہے۔ برطانوی وزیرخارجہ جیمزکلیورلی نے کہا کہ ہردیپ سنگھ کے قتل کے مجرموں کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا اور تمام ممالک کو قانون کی حکمرانی کا احترام کرنا چاہیے۔ بھارت پر عائد کیے جانے والے سنگین الزمات سے متعلق کینیڈا سے مسلسل رابطے میں ہیں۔5اہم ممالک امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے نجر کو قتل کرنے کے الزامات انتہائی سنجیدہ قراردیے ہیں اور آسٹریلیا نے نجر قتل کیس میں تشویش سے بھارت کواعلی سطح پر آگاہ کردیا ہے۔ پانچوں ممالک نے جی ٹوئنٹی اجلاس سے پہلے ہی یہ معاملہ بھارت کے سامنے اٹھا دیا تھا۔ امریکی ایوانِ صدر ”وائٹ ہاو¿س“ کی ترجمان کیرین جین پئیر کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنی سرزمین پر خالصتان علیحدگی پسند رہنما کے قتل کی سازش سے متعلق واشنگٹن پوسٹ کے الزامات کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں نریندر مودی کے دورہ امریکہ کے دوران امریکی شہری گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کرنے کیلئے ”را“ کے منصوبے کی تفصیلات شائع کی تھیں۔واشنگٹن پوسٹ نے لکھا کہ قتل کا حکم 23 جون کو مودی کے دورہ امریکہ کے دوران دیا گیا، سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کا منصوبہ را نے بنایا تھا۔امریکی اخبار کے مطابق قتل کے منصوبے کی منظوری را کے چیف سمنت گوئل نے دی تھی، کرائے کے قاتلوں سے رابطہ را کے افسر وکرم یادیو نے کیا، جس نے گرپتونت کا نیویارک کا پتہ کرائے کے قاتلوں کو دیا۔واشنگٹن پوسٹ نے لکھا کہ را افسر وکرم یادیو کی شناخت اور پیغامات بھی سامنے آ گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق امریکی ایجنسیوں کی رپورٹ کیا کہ بھارتی مشیر قومی سلامتی اجیت دوول کو بھی اس منصوبے کا علم تھا۔پریس سیکرٹری جین پیئر نے امریکی اخبار ”واشنگٹن پوسٹ“ کی رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس معاملے پر بھارتی حکومت سے جوابدہی کی توقع رکھتے ہیں اور بھارتی حکومت کے ساتھ براہ راست اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہیں گے۔ امریکی محکمہ انصاف گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی سازش کی تفتیش کر رہا ہے، بھارتی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ اسے سنجیدگی سے لے رہی ہے اور تفتیش کرائے گی۔ بھارتی حکومت سے توقع ہے کہ وہ تفتیش کی بنیاد پر احتساب کرے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

güvenilir kumar siteleri