کالم

بھارتی فضائیہ کی جگ ہنسائی اور رسوائی

انڈیا ٹو ڈے نے بھارتی سول ایوی ایشن میں بڑی تکنیکی خرابیوں کو آشکار کیا کہ جنوری 2025 تا فروری 2026 کے دوران آڈٹ کیے گئے 754 کمرشل طیاروں میں 377 بار تکنیکی خرابیاں رپورٹ ہوئیں۔ طیاروں کی مسلسل تباہی اور شدید آپریشنل ناکامیاں شکست خوردہ بھارتی فوج کی غیر پیشہ ور حقیقت کو آشکار کرتی ہیں۔ بار بار پیش آنے والے فضائی حادثات سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارتی سول ایوی ایشن نظام مفلوج اور تباہ حال ہو چکا ہے۔ بھارتی طیارے گرنے اور دنیا بھر میں جگ ہنسائی کا سلسلہ تاحال ختم نہیں ہوا، بھارتی فضائیہ کا ایک اور لڑاکا طیارہ تیجس معمول کی تربیتی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہوگیا، پائلٹ نے بمشکل جان بچائی۔ تربیتی مشق کے دوران تیجس طیارے کو اچانک تکنیکی خرابی کا سامنا کرنا پڑا جس کے سبب وہ فضا میں بے قابو ہوگیا اور زمین پر گرگیا جس کے بعد طیارے میں آگ لگ گئی۔ واقعے کی تحقیقات اور حادثے کی اصل وجہ جاننے کیلئے کورٹ آف انکوائری قائم کر دی گئی ہے۔دو سال کے دوران تیسرا تیجس طیارہ گر کر تباہ ہوا ہے،پہلا تیجس طیارہ 2024 میں بھارتی ریاست راجستھان میں گرکر تباہ ہوا،دوسرا طیارہ گزشتہ سال دبئی ایئرشو میں زمین بوس ہوگیا تھا۔بھارتی ائر فورس نے 62 سال سے زیر استعمال روسی ساختہ جنگی طیاروں مِگ 21 سے بلا خر جان چھڑالی۔ائر فورس کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے ان طیاروں کی الوداعی تقریب منعقد کی گئی ۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ تھے۔ تقریب میں بھارتی ائر فورس کے سربراہ ائیر چیف مارشل اے پی سنگھ نے مِگ 21 بائسن طیارے میں ‘بادل 3’ کے کال سائن کے ساتھ آخری پرواز کی۔ یاد رہے کہ بھارت کے 876 مِگ 21 طیاروں میں سے 490 طیارے حادثات کا شکار ہو چکے ہیں جن میں 200 سے زیادہ بھارتی پائلٹ اور 60 سے زائد عام شہری اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں ۔ اس خراب ریکارڈ کے باعث بھارتی پائلٹس میں یہ طیارے ‘فلائنگ کوفِن’ یا ‘اڑتے تابوت’ کے نام سے مشہور ہیں۔یہ فلائنگ کوفن عالمی سطح پر اس وقت بھی خبروں کی زینت بنا جب 2019 میں پاک فضائیہ کے آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ کے دوران بھارتی ونگ کمانڈر ابھینندن ورتھمان کا مگ 21 پاکستانی فضا میں گرادیا گیا تھا ۔ بھارت نے مگ 21 طیارے آپریشن سندور، کارگل جنگ، بالاکوٹ حملوں اور 1965 اور 1971 کی جنگوں میں استعمال کیے۔بھارتی فضائیہ کا ایک سوویت ساختہ جنگی طیارہ ایس یو 30 تباہ ہو گیا۔ واقعہ پونا کے ہوائی اڈے پر پیش آیا۔ ہوائی عملہ محفوظ ہے اور سول پراپرٹی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ متاثرہ رن وے کو جلد از جلد آپریشنل بنانے اور معمول کی پروازوں کو بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔بھارتی فضائیہ کو چار ماہ کے اندر چوتھے بڑے طیارے کے حادثے کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس نے سکواڈرن کی گھٹتی ہوئی تعداد، بڑھتے ہوئے آپریشنل دباؤ اور جنگی ہوابازی کے ذخیرے کی جدید سازی میں تاخیر کے درمیان پیدا ہونیوالے خطرناک سنگم کو بے نقاب کر دیا ہے۔ تازہ ترین واقعہ، جس میں ایک انتہائی جدید Suـ30MKI طیارہ شامل تھا، لینڈنگ گیئر کی خرابی کے باعث پونے ایئرپورٹ کے رن وے کو بلاک کر گیا۔ اس واقعے نے رن وے کی ایک معمول کی ہنگامی صورتحال کو فوری طور پر بھارت کی کمزور ہوتی ہوئی ”دو محاذوں پر دفاعی صلاحیت” سے متعلق ایک وسیع بحث میں تبدیل کر دیا ہے۔ ”ڈیفنس سیکورٹی ایشیا” کے مطابق، بھارتی فضائیہ کے پاس منظور شدہ 42 سکواڈرنز کی ضرورت کے مقابلے میں صرف 29 آپریشنل لڑاکا سکواڈرن دستیاب ہیں۔ اس صورتحال میں اب ہر تباہ یا متاثر ہونے والا طیارہ پاکستان اور چین کے خلاف بھارت کے فضائی توازن کیلئے غیر معمولی اسٹریٹجک اہمیت اختیار کر گیا ہے۔لداخ میں ہیلی کاپٹر حادثہ، مسلسل حادثات بھارتی ایوی ایشن پر سنگین سوالات اٹھنے لگے۔ بھارت کی سیاست زدہ فوج ، ناکارہ فضائیہ اور سول ایوی ایشن نظام دنیا بھر میں جگ ہنسائی اور رسوائی کا استعارہ بن گیا ۔ بھارتی فوج کا چیتا ہیلی کاپٹر مقبوضہ لداخ میں گر کر تباہ، میجر جنرل سمیت 3 بھارتی فوجی افسر زخمی ہو گئے۔ بھارتی ہیلی کاپٹر کو پیش آنے والا یہ حادثہ بھارتی فرسودہ ایوی ایشن کے خطرات کو ظاہر کرتا ہے، گزشتہ 10سالوں میں بھارتی فوج کے 10چیتا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو چکے ہیں۔بھارتی فضائیہ کی ویب سائٹ بھارت رکشک کے مطابق بھارتی ائیر فورس کے 2025میں 7لڑاکا طیارے گر کو تباہ ہو چکے ہیں۔امریکی آن لائن جریدہ گلوبل ڈیفنس کور کی رپورٹ کے مطابق 2026 میں بھارتی فضائیہ کو بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، اب تک 11لڑاکا طیارے اور ایک ہیلی کاپٹر تباہ ہو چکا ہے۔بھارتی فضائیہ کے طیاروں کے کئی حادثات نے تربیتی نظام اور دیکھ بھال کے معیار پر سنگین سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے رافیل طیاروں کی ڈیل میں کرپشن، کمیشن خوری اور ملی بھگت کی نشاندہی کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے