کالم

بلوچستان میں جاری بھارت کا ڈیجیٹل پروپیگنڈا

یہ امر قابل توجہ ہے کہ بلوچستان کی موجودہ صورتحال ایک ایسے نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں سکیورٹی خدشات، سیاسی بیانیے اور ڈیجیٹل پروپیگنڈا ایک دوسرے کے ساتھ گڈمڈ ہو کر خطے کے مجموعی استحکام پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ میر جمال خان رئیسانی کی حالیہ پریس کانفرنس اسی وسیع تر تناظر میں دیکھی جا سکتی ہے، جس میں انہوں نے نہ صرف سکیورٹی خدشات کو اجاگر کیا بلکہ نوجوان نسل، سوشل میڈیا کے کردار اور بعض سیاسی و سماجی بیانیوں پر بھی سوالات اٹھائے ۔ اسی تناظر میں یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بھارت براہ راست پاکستان میں دہشتگردی پھیلانے کیلئے بلوچستان میں نوجوانوں اور سوشل میڈیا کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ بلوچستان گزشتہ کئی برسوں سے ایک ایسے پیچیدہ حالات سے گزر رہا ہے جہاں ایک طرف ترقیاتی منصوبوں اور ریاستی اقدامات کا تسلسل ہے، تو دوسری جانب مختلف سطحوں پر عدم اعتماد، سیاسی بے چینی اور علیحدگی پسند رجحانات بھی موجود ہیں۔ میر جمال رئیسانی نے اپنی گفتگو میں جس”خاموش ڈیجیٹل جنگ”کا ذکر کیا، وہ درحقیقت جدید دور کی وہ حقیقت ہے جس میں روایتی عسکری محاذ کے ساتھ ساتھ معلوماتی اور بیانیاتی محاذ بھی اتنی ہی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔سفارتی و سکیورٹی ماہرین کے مطابق آج کے دور میں سوشل میڈیا محض رابطے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک طاقتور ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ بلوچستان جیسے حساس خطے میں یہ رجحان مزید پیچیدہ صورت اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں نوجوان نسل کی بڑی تعداد آن لائن پلیٹ فارمز سے منسلک ہے۔ اسی تناظر میں رئیسانی کا یہ مؤقف کہ بعض کالعدم تنظیمیں ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے رابطے، منصوبہ بندی اور بھرتی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں، ایک سنگین دعویٰ ہے جو پالیسی ساز اداروں کیلئے غور طلب ہے۔یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ بلوچستان میں نوجوان آبادی ایک بڑی اکثریت پر مشتمل ہے، اور اگر اس طبقے کو مثبت سمت میں متحرک نہ کیا جائے تو بیانیاتی خلا پیدا ہوتا ہے جسے مختلف نظریاتی گروہ پُر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ رئیسانی نے اپنی پریس کانفرنس میں اسی خلا کی نشاندہی کرتے ہوئے تعلیم، کھیل اور ترقی کے مواقع بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ جان کاروں کے مطابق یہ نقطہ نظر محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک طویل المدتی پالیسی ضرورت ہے، کیونکہ نوجوانوں کی سماجی شمولیت کے بغیر کسی بھی خطے میں پائیدار امن قائم نہیں رہ سکتا۔اسی ضمن میں انہوں نے بلوچ یکجہتی کمیٹی اور بعض دیگر عناصر کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کیا اور کہا کہ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کو فروغ دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس بیان کو مختلف حلقوں میں مختلف انداز سے دیکھا جا رہا ہے۔ ایک طرف حکومتی اور ریاستی بیانیے کے حامی اسے امن و استحکام کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں، جبکہ دوسری طرف بعض نام نہاد سیاسی اور انسانی حقوق کے حلقے اسے اختلافِ رائے کو محدود کرنے کے زاویے سے دیکھتے ہیں۔یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ بلوچستان میں سیاسی بیانیہ ہمیشہ سے دو انتہاؤں کے درمیان جھولتا رہا ہے۔ ایک طرف ریاستی اداروں کا یہ مؤقف ہے کہ ترقیاتی منصوبے اور سکیورٹی اقدامات خطے کو استحکام کی طرف لے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف بعض گروہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مقامی آبادی کے احساسِ محرومی کو دور نہیں کیا جا سکا۔ اسی کشمکش نے بلوچستان کے مسئلے کو محض سکیورٹی سے زیادہ ایک سیاسی اور سماجی مسئلہ بنا دیا ہے ۔مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں سب سے بڑا چیلنج اعتماد کا فقدان ہے۔ ریاستی اداروں اور مقامی آبادی کے درمیان اگر اعتماد کی خلیج برقرار رہتی ہے تو محض سکیورٹی اقدامات یا ترقیاتی منصوبے دیرپا نتائج نہیں دے سکتے۔ رئیسانی کی پریس کانفرنس میں اگرچہ بنیادی زور سکیورٹی اور ڈیجیٹل خطرات پر تھا، تاہم بالواسطہ طور پر انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ نوجوانوں کو متبادل مواقع فراہم کرنا ناگزیر ہے۔یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ جدید دور میں”ہائبرڈ وار فیئر”یعنی مخلوط جنگی حکمتِ عملی میں معلومات، معیشت، سیاست اور سکیورٹی سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ بلوچستان جیسے خطے میں جہاں جغرافیائی محلِ وقوع پہلے ہی اسے حساس بناتا ہے، وہاں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا کردار اس حساسیت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ اسی تناظر میں رئیسانی کا”ڈیجیٹل جنگ”کا حوالہ محض ایک سیاسی اصطلاح نہیں بلکہ ایک وسیع تر اسٹریٹجک حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔اسی طرح یہ امر بھی اہم ہے کہ بلوچستان میں میڈیا بیانیہ اکثر بیرونی اور اندرونی دونوں سطحوں پر تشکیل پاتا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے گردش کرنے والی معلومات بعض اوقات زمینی حقائق سے مختلف ہوتی ہیں، جس سے غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔ اس صورتحال میں ریاستی اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف سکیورٹی چیلنجز سے نمٹیں بلکہ ایک مؤثر اور شفاف کمیونیکیشن حکمتِ عملی بھی اپنائیں۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ میر جمال رئیسانی کی پریس کانفرنس محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ بلوچستان کے وسیع تر سکیورٹی اور سماجی ڈھانچے پر ایک اہم تبصرہ ہے کیوں بھارت سوشل میڈیا نیٹ ورکس، جعلی اکاؤنٹس، اور مخصوص آن لائن مہمات کے ذریعے بلوچستان کے حوالے سے منفی بیانیہ پھیلا رہا ہے تاکہ نوجوان نسل میں احساسِ محرومی، بے اعتمادی اور ریاستی اداروں سے دوری کو فروغ دیا جا سکے۔۔اسی تناظر میں یہ بات قابلِ غور ہے کہ بلوچستان کا مستقبل صرف سکیورٹی اقدامات پر نہیں بلکہ سیاسی بصیرت، سماجی شمولیت اور معلوماتی بیانیے کے توازن پر بھی منحصر ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے