پاکستان کا آئندہ وفاقی بجٹ ایک نازک مرحلے پر تشکیل دیا جا رہا ہے جہاں حکومت معیشت کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی مالیاتی فنڈکے سخت تقاضوں کو بھی پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مجموعی سمت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مالی نظم و ضبط اور اصلاحات پر مبنی پالیسیوں کا تسلسل جاری رہے گا جبکہ توسیعی اخراجات کیلئے مالی گنجائش محدود ہے۔ اس بجٹ کے مرکز میں ترقی کے اہداف، مہنگائی کے کنٹرول اور ریونیو میں اضافے کے درمیان ایک نازک توازن قائم کرنے کی کوشش ہے۔معاشی فریم ورک کے مطابق جی ڈی پی کی شرح نمو کا ہدف تقریبا 4.1 فیصد رکھا گیا ہے جبکہ مہنگائی کی شرح تقریبا 8.4 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ حکومت نے مجموعی قومی پیداوار کے 2 فیصد کے برابر بنیادی سرپلس حاصل کرنے کا بھی ہدف مقرر کیا ہے، جو قرضوں کے استحکام اور معاشی اعتبار کی بحالی کے لیے ضروری ہے۔ تاہم یہ اہداف بیرونی خطرات کے باعث غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، خاص طور پر مشرق وسطی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھا پاکستان کے درآمدی بل کو بڑھا سکتا ہے، کرنٹ اکانٹ خسارہ وسیع کر سکتا ہے اور مہنگائی میں اضافہ کر سکتا ہے، جس سے مالی منصوبہ بندی مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔بجٹ کا ایک مرکزی ستون ریونیو میں اضافہ ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو تقریبا 15.264 کھرب روپے کا ہدف دیا گیا ہے، جس کیلئے ٹیکس وصولیوں میں تقریبا 14 سے 19 فیصد تک اضافہ درکار ہوگا۔ اس ہدف کے حصول کا انحصار ٹیکس کی شرحوں میں اضافے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور تعمیل بہتر بنانے پر ہے۔ حکومت ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹمز ، اداروں کے درمیان ڈیٹا کے انضمام، اور ریٹیل، ہول سیل اور سروس سیکٹرز کی سخت نگرانی پر انحصار کرے گی۔ اگر ریونیو میں کمی واقع ہوئی تو مالی خسارہ فوری طور پر بڑھ جائے گا۔تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس پالیسی ایک سیاسی طور پر حساس معاملہ ہے۔ مہنگائی کے دبائو کے پیش نظر تنخواہ دار افراد کو ریلیف دینے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے، لیکن مالی حدود حکومت کو بڑے ٹیکس کٹوتیوں کی اجازت نہیں دیتیں۔ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں ٹیکس سلیب کی معمولی اصلاح اور ودہولڈنگ ٹیکس میں جزوی تبدیلیاں ممکن ہیں، تاہم مجموعی سمت محتاط ہے کیونکہ کسی بھی ریلیف کو دوسرے ذرائع سے پورا کرنا ہوگا ۔ جنرل سیلز ٹیکس بھی ایک اہم بحث کا موضوع ہے ۔ اطلاعات کے مطابق آئی ایم ایف یکساں 19 فیصد جی ایس ٹی کے نفاذ پر زور دے رہا ہے، جس سے ٹیکس نظام آسان تو ہوگا لیکن قیمتوں میں اضافہ بھی ممکن ہے۔ پہلے ہی بلند مہنگائی کے ماحول میں یہ اقدام سیاسی اور سماجی طور پر حساس ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس اور الیکٹرک گاڑیوں کی پالیسی بھی زیر غور ہے۔ریٹیل اور ہول سیل سیکٹر میں غیر رسمی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ بجلی کے استعمال کی بنیاد پر ایک فکسڈ ٹیکس نظام زیر غور ہے جو 200 سے 250 ملین روپے تک کاروباری حجم رکھنے والے تاجروں پر لاگو ہو سکتا ہے۔ اس کا مقصد ٹیکس نظام کو آسان بنانا اور تعمیل بڑھانا ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار تاجر تنظیموں کے تعاون پر ہوگا، جو ہمیشہ سے دستاویزی اقدامات کی مزاحمت کرتی رہی ہیں۔درآمدی ٹیرف اصلاحات بھی بجٹ کا اہم حصہ ہیں۔ حکومت نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت درآمدی ڈیوٹیز میں کمی اور خام مال تک بہتر رسائی کو یقینی بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس میں صنعتی خام مال پر ڈیوٹیز میں کمی، گاڑیوں کے درآمدی ڈھانچے میں اصلاح، اور 5G ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی حمایت شامل ہے۔ مقصد معیشت کو زیادہ مسابقتی اور برآمدی بنیادوں پر استوار کرنا ہے، اگرچہ اس عمل کو مقامی محفوظ صنعتوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہو سکتا ہے ۔کاروباری ماحول میں بہتری کے لیے کمپنیز ایکٹ میں ترامیم اور ایک متحد بزنس رجسٹری کا قیام بھی شامل ہے۔ اسپیشل اکنامک زونز اور اسپیشل ٹیکنالوجی زونز کی مراعات کو 2035 تک بتدریج ختم کرنے کا امکان ہے، جس سے طویل مدتی ٹیکس چھوٹ کے بجائے ایک منظم اور یکساں نظام کی طرف پیشرفت ظاہر ہوتی ہے۔دفاعی اخراجات وفاقی بجٹ کا ایک بڑا حصہ ہیں، جن کا تخمینہ تقریبا 2.665 کھرب روپے ہے۔ یہ خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور جغرافیائی چیلنجز کی عکاسی کرتا ہے۔ تنخواہوں، پنشن اور جدیدیت کے اخراجات میں اضافہ بھی اس شعبے پر دبا بڑھا رہا ہے، جس سے دیگر شعبوں کے لیے مالی گنجائش محدود ہو جاتی ہے۔ترقیاتی بجٹ کیلئے تقریبا 1.126 کھرب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں ٹرانسپورٹ، توانائی، پانی کے وسائل اور انسانی ترقی کے منصوبے شامل ہیں۔ تاہم قرضوں کی ادائیگی اور جاری اخراجات کے دبا کے باعث ترقیاتی منصوبوں کی گنجائش محدود ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں کئی منصوبے تاخیر کا شکار ہیں۔توانائی کے شعبے میں حکومت لاگت کی بنیاد پر ٹیرف نظام نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ گردشی قرضے میں کمی لائی جا سکے۔ تاہم اس کے نتیجے میں صارفین کے لیے بجلی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس اثر کو کم کرنے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سماجی تحفظ کا بنیادی ذریعہ بنا ہوا ہے، جو کم آمدنی والے طبقے کو مالی مدد فراہم کرتا ہے۔آئی ایم ایف پروگرام کے بعد، جو 2027 کے آخر تک جاری رہنے کا امکان ہے، حکومت زراعت پر ٹیکس عائد کرنے، سرکاری اداروں کی تنظیم نو اور نجکاری، اور برآمدی بنیاد پر ترقی جیسے بڑے اصلاحاتی اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ ان اصلاحات کا مقصد پاکستان کو بیرونی مالی معاونت پر انحصار سے نکال کر خود کفیل ترقی کے ماڈل کی طرف لے جانا ہے۔مجموعی طور پر یہ بجٹ اصلاحات اور مالی نظم و ضبط پر مبنی ایک محتاط حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک طرف معاشی استحکام کا ہدف ہے، جبکہ دوسری طرف محدود مالی گنجائش، سیاسی دبا اور ساختی مسائل بڑے چیلنجز کے طور پر موجود ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان قلیل مدتی استحکام سے نکل کر ایک پائیدار اور پیداوار پر مبنی ترقی کے ماڈل کی طرف بڑھ سکے گا یا نہیں۔

