چند ہی روز بعد محرم الحرام کی آمد کے ساتھ نئے اسلامی سال کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ اسلامی کیلنڈر کا پہلا مہینہ محرم الحرام اپنے ساتھ بیشمار روحانی، اخلاقی اور تاریخی اسباق لیکر آتا ہے۔ یہ صرف ایک نئے سال کا آغاز نہیں بلکہ اپنے اعمال، کردار اور اجتماعی رویوں کا جائزہ لینے کا بہترین موقع بھی ہے۔ محرم الحرام کا چاند طلوع ہوتے ہی امت مسلمہ ایک نئے اسلامی سال میں داخل ہو جاتی ہے۔ ہر نیا سال انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ زندگی کا ایک اور باب مکمل ہو گیا اور ایک نیا باب ہمارے سامنے کھل رہا ہے۔ ایسے موقع پر ہمیں اپنے ماضی کا جائزہ لیتے ہوئے مستقبل کیلئے بہتر منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی، ہر شعبے میں اصلاح، ترقی اور بہتری کی ضرورت ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ محرم الحرام ہمیں صبر، استقامت، قربانی، حق گوئی، عدل اور انصاف کا درس دیتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں اس مہینے کو خصوصی اہمیت حاصل ہے کیونکہ اسی مہینے میں میدانِ کربلا کا وہ عظیم واقعہ پیش آیا جس نے رہتی دنیا تک حق اور باطل کے درمیان فرق کو واضح کر دیا۔ حضرت امام حسین اور ان کے رفقا نے عظیم قربانیاں پیش کر کے یہ پیغام دیا کہ حق اور انصاف کے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ محرم الحرام کا اصل پیغام صرف تاریخ کو یاد کرنا نہیں بلکہ ان عظیم قربانیوں سے سبق حاصل کرنا بھی ہے۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ کیا ہم اپنے معاشرے میں انصاف، دیانت داری، رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دے رہے ہیں؟ کیا ہم اپنی زندگیوں میں سچائی اور امانت داری کو اختیار کر رہے ہیں؟ کیا ہم اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے احترام کو برقرار رکھے ہوئے ہیں؟ یہی وہ سوالات ہیں جو محرم الحرام ہمیں اپنے آپ سے پوچھنے کی دعوت دیتا ہے۔ آج کا دور مختلف قسم کے سماجی، سیاسی اور فکری چیلنجز سے بھرپور ہے۔ امت مسلمہ کو اندرونی اور بیرونی سطح پر بیشمار مسائل کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں اتحادِ امت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے جہاں مختلف مکاتبِ فکر اور مسالک کے افراد صدیوں سے مل جل کر زندگی گزار رہے ہیں۔ ہمارے قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ ہم اتحاد، اخوت اور باہمی احترام کی فضا کو مزید مضبوط بنائیں۔ محرم الحرام کے موقع پر تمام مکاتبِ فکر کے علما کرام، مشائخ عظام، دانشوروں، سیاسی و سماجی رہنماں اور عوام الناس کو چاہیے کہ وہ اپنے کردار اور عمل سے امن، برداشت اور بھائی چارے کا پیغام عام کریں۔ علما کرام معاشرے کے فکری اور روحانی رہنما ہوتے ہیں ۔ ان کی زبان اور ان کا طرزِ فکر لاکھوں لوگوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ محرم الحرام کے دوران تمام علما کرام اپنے خطبات، بیانات، دروس اور مجالس میں اتحادِ امت، احترامِ انسانیت اور اسلامی اخوت کا درس دیں۔ ایسی گفتگو سے اجتناب کیا جائے جو کسی بھی طبقے یا مکتبِ فکر کے جذبات کو مجروح کرے۔ اسلام ہمیں نفرت نہیں بلکہ محبت، تفرقہ نہیں بلکہ اتحاد اور تعصب نہیں بلکہ انصاف کا درس دیتا ہے ۔ اس مبارک مہینے میں والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ نوجوان نسل کو محرم الحرام کی حقیقی روح سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو بتایا جائے کہ حضرت امام حسین کی قربانی صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ سچائی، اصول پسندی اور انسانی وقار کی حفاظت کی ایک عظیم مثال ہے۔ جب نوجوان اس پیغام کو سمجھیں گے تو وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بن سکیں گے۔ سوشل میڈیا کے موجودہ دور میں ہماری ذمہ داریاں مزید بڑھ گئی ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض اوقات غیر ذمہ دارانہ پوسٹس، افواہیں اور اشتعال انگیز مواد معاشرے میں نفرت اور تقسیم کا باعث بنتے ہیں۔ محرم الحرام کے دوران ہمیں خاص طور پر احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ہر ایسی بات سے گریز کیا جائے جو انتشار یا غلط فہمی کا سبب بن سکتی ہو۔ ہمیں اپنے سوشل میڈیا پلیٹ لفارمز کو محبت، امن، رواداری اور اسلامی تعلیمات کے فروغ کیلئے استعمال کرنا چاہیے ۔ قانون نافذ کرنیوالے ادارے اور انتظامیہ ہر سال محرم الحرام کے دوران امن و امان کے قیام کیلئے خصوصی انتظامات کرتے ہیں۔ ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ان کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ جلوسوں، مجالس اور دیگر مذہبی اجتماعات کے دوران نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کریں جو امن و امان کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔محرم الحرام کے موقع پر ہمیں اپنے قومی حالات پر بھی غور کرنا چاہیے۔ پاکستان اس وقت معاشی ترقی، سماجی استحکام اور قومی یکجہتی کی طرف گامزن ہے۔ ملک کی ترقی اور خوشحالی اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی مفاد کو ترجیح دیں۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو تعلیم، اخلاق اور کردار کی دولت سے آراستہ کرنا ہوگا۔ ایک مضبوط، متحد اور تعلیم یافتہ قوم ہی دنیا میں عزت و وقار حاصل کر سکتی ہے۔ نئے اسلامی سال کے آغاز پر ہمیں اجتماعی دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو امن، ترقی، استحکام اور خوشحالی عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو محبت، اخوت اور برداشت سے بھر دے۔ ہمیں ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے، سچائی اور انصاف پر قائم رہنے اور اتحادِ امت کو مضبوط بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آئیے محرم الحرام کے مقدس موقع پر ہم سب عہد کریں کہ ہم نفرت کے بجائے محبت کو فروغ دیں گے، اختلاف کے باوجود احترام کو قائم رکھیں گے، انتشار کے بجائے اتحاد کو ترجیح دیں گے اور اپنے کردار و عمل سے اسلام کے حقیقی پیغام کو دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔ یہی محرم الحرام کا پیغام ہے، یہی حضرت امام حسین کی قربانی کا درس ہے اور یہی ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال پاکستان کی ضمانت ہے۔ اللہ تعالیٰ محرم الحرام کو پوری امت مسلمہ کیلئے خیر، برکت، امن، استحکام اور باہمی محبت کا ذریعہ بنائے اور ہمیں اس مقدس مہینے کے احترام اور اس کے پیغام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین

