جبکہ معمولی صلاحیت رکھنے والے افراد صرف نظم و ضبط کے باعث زندگی کی بلندیوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو نظم و ضبط کو اپنی اجتماعی زندگی کا حصہ بنا لیتی ہیں۔ جاپان کی مثال سب کے سامنے ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان مکمل تباہ ہو چکا تھا۔ شہر کھنڈر بن گئے تھے، معیشت تباہ تھی، صنعتیں مفلوج تھیں مگر جاپانی قوم نے ڈسپلن کو اپنا ہتھیار بنایا۔ انہوں نے وقت کی پابندی، محنت، دیانت اور اجتماعی نظم کو اپنی زندگی کا اصول بنایا۔ آج جاپان دنیا کی بڑی معاشی طاقتوں میں شمار ہوتا ہے۔ جرمنی نے بھی تباہی کے بعد خود کو ڈسپلن کے ذریعے دوبارہ تعمیر کیا۔ یورپ کی ترقی یافتہ ریاستوں میں قانون کی پاسداری، وقت کی اہمیت اور اجتماعی نظم کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ ڈسپلن زندگی کے ہر شعبے میں ضروری ہے۔ گھر، دفتر، تعلیمی ادارہ، بازار، سڑک، عدالت، پارلیمنٹ اور عبادت گاہ، ہر جگہ نظم و ضبط بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک شخص اپنی روزمرہ زندگی میں اصولوں کی پابندی نہیں کرتا تو وہ آہستہ آہستہ معاشرے میں بے ترتیبی کو فروغ دیتا ہے۔ یہی بے ترتیبی بعد ازاں قومی مسائل کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کا راز صرف وسائل نہیں بلکہ نظم و ضبط ہے۔ لوگ ٹریفک قوانین کی پابندی کرتے ہیں۔ قطار میں کھڑے ہونا اپنی توہین نہیں سمجھتے۔ وقت کی پابندی کو اخلاقی فریضہ تصور کرتے ہیں۔ صفائی کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا جرم سمجھا جاتا ہے۔ لوگ اس انتظار میں نہیں بیٹھتے کہ حکومت سب کچھ کرے بلکہ ہر شہری اپنی ذمہ داری ادا کرتا ہے۔ اجتماعی شعور قوموں کو مضبوط بناتا ہے۔ پسماندہ ممالک کے افراد قانون کو صرف دوسروں کیلئے ضروری سمجھتے ہیں۔ ٹریفک سگنل توڑنا معمولی بات تصور کی جاتی ہے۔ وقت کی پابندی کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ سرکاری دفاتر میں تاخیر عام ہے۔ تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط کمزور ہے۔ بازاروں میں تجاوزات اور بے ترتیبی نمایاں ہے۔ گندگی پھیلانے میں کوئی شرمندگی محسوس نہیں کرتے۔ اجتماعی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہی رویے رفتہ رفتہ قومی زوال کا سبب بنتے ہیں۔بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے اتحاد، ایمان اور نظم کو قومی ترقی کی بنیاد قرار دیا تھا۔ انہوں نے نوجوانوں کو بارہا تلقین کی کہ وہ ڈسپلن کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ قائداعظم جانتے تھے کہ مملکت صرف نعروں سے مضبوط نہیں ہوگی بلکہ نظم و ضبط کے ذریعے ہی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے گی۔ ان کے پیغام کو صرف تقریروں اور کتابوں تک محدود کر دیا۔ قائداعظم کے افکار پر عمل کرتے تو آج پاکستان کا شمار دنیا کی منظم اور ترقی یافتہ ریاستوں میں ہوتا۔ڈسپلن کا آغاز فرد کی ذات سے ہوتا ہے۔ جو شخص اپنے وقت، اپنی عادات اور اپنی ذمہ داریوں کو منظم نہیں کر سکتا وہ زندگی میں بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ دنیا کے کامیاب ترین لوگ اپنے معمولات میں غیر معمولی نظم رکھتے ہیں۔ وہ وقت کی قدر کرتے ہیں۔ وہ اپنے اہداف واضح رکھتے ہیں ۔ وہ جذبات کے بجائے اصولوں کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔ ڈسپلن انہیں دوسروں سے ممتاز بناتا ہے۔تعلیم اور ڈسپلن کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ صرف ڈگریاں حاصل کرنا کامیابی نہیں بلکہ کردار سازی زیادہ اہم ہے۔ تعلیمی ادارے طلبہ میں نظم و ضبط پیدا نہ کر سکیں تو تعلیم ادھوری رہ جاتی ہے۔ استاد کا احترام، وقت کی پابندی، مطالعے کی عادت، ذمہ داری کا احساس اور اجتماعی اصولوں کی پابندی تعلیم کا بنیادی حصہ ہیں ۔ گھر میں وقت کی پابندی، صفائی، احترام اور ذمہ داری کا ماحول ہو تو بچے خود بخود نظم و ضبط سیکھ جاتے ہیں۔ والدین خود اصولوں کی پابندی نہ کریں تو بچوں سے اچھی توقعات رکھنا بے سود ہے۔ معاشی ترقی میں بھی ڈسپلن بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ کامیاب کاروباری ادارے نظم و ضبط کے بغیر ترقی نہیں کر سکتے۔ وقت پر کام مکمل کرنا، مالی شفافیت، معیار کی پابندی اور پیشہ ورانہ اصولوں کا احترام ترقی کی بنیاد ہیں۔ جن ممالک میں ادارے مضبوط ہوتے ہیں وہاں معیشت مستحکم ہوتی ہے کیونکہ ہر شخص اپنی ذمہ داری دیانت داری سے ادا کرتا ہے۔ٹریفک کا نظام کسی بھی معاشرے کے ڈسپلن کا عملی مظہر ہوتا ہے۔ یورپ کی سڑکوں پر نظم نظر آتا ہے۔ لوگ پیدل چلنے والوں کے حقوق کا احترام کرتے ہیں۔ گاڑیاں مقررہ رفتار میں چلتی ہیں۔ کوئی شخص جلد بازی میں قانون توڑنے کی کوشش نہیں کرتا۔ اس کے برعکس پسماندہ ممالک کے شہروں میں ٹریفک کا نظام اکثر بدنظمی کا شکار رہتا ہے۔ لوگ اپنی جلد بازی کو دوسروں کیلئے خطرہ بنا دیتے ہیں۔ صفائی بھی ڈسپلن کا اہم حصہ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں عوامی مقامات صاف ستھرے نظر آتے ہیں کیونکہ لوگ صفائی کو اجتماعی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔وقت کی پابندی ترقی کا بنیادی ستون ہے۔ جو قوم وقت کی قدر نہیں کرتی وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہے۔ ترقی یافتہ معاشروں میں چند منٹ کی تاخیر بھی معیوب سمجھی جاتی ہے جبکہ پسماندہ ممالک میں گھنٹوں تاخیر معمول بن چکی ہے۔ تقریبات دیر سے شروع ہوتی ہیں، دفاتر میں کام تاخیر کا شکار رہتا ہے اور لوگ وقت ضائع کرنے کو سنجیدہ مسئلہ نہیں سمجھتے حالانکہ وقت ہی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ نوجوان ڈسپلن اختیار کر لیں تو قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا کے غیر ضروری استعمال، وقت کے ضیاع اور بے مقصد مصروفیات سے بچیں۔ انہیں اپنی توانائیاں تعلیم، تحقیق، ہنر اور مثبت سرگرمیوں پر صرف کرنی چاہئیں۔ جو نوجوان اپنی زندگی میں نظم پیدا کر لیتا ہے وہ مستقبل میں معاشرے کا مفید شہری بنتا ہے۔ڈسپلن کا تعلق صرف ظاہری نظم سے نہیں بلکہ ذہنی اور اخلاقی تربیت سے بھی ہے جو شخص غصے پر قابو پا لے، خواہشات کو اعتدال میں رکھے، دوسروں کے حقوق کا احترام کرے اور اپنی ذمہ داریوں کو دیانت داری سے ادا کرے، وہ حقیقی معنوں میں ڈسپلنڈ انسان ہوتا ہے۔ ایسے افراد ہی معاشروں میں مثبت تبدیلی لاتے ہیں۔ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے۔ نوجوان آبادی، زرخیز زمین، معدنی ذخائر اور بیشمار صلاحیتیں موجود ہیں مگر جب تک ڈسپلن کو قومی مزاج کا حصہ نہیں بنائیں گے اس وقت تک حقیقی ترقی ممکن نہیں ہوگی۔اپنی روزمرہ زندگی سے تبدیلی کا آغاز کرنا ہوگا۔ ٹریفک قوانین کی پابندی، وقت کی قدر، صفائی کا خیال، قانون کا احترام، وعدوں کی پاسداری اور اجتماعی مفاد کو ترجیح دینا ہی وہ اقدامات ہیں جو قوموں کو عظیم بناتے ہیں۔ ہر فرد اپنی ذمہ داری محسوس کرے تو پورا معاشرہ بدل سکتا ہے۔ ڈسپلن دراصل وہ بنیاد ہے جس پر کامیاب قوموں کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نظم و ضبط کو اپنا شعار بنا لیں تو پاکستان ترقی، استحکام اور خوشحالی کی نئی منزلیں طے کر سکتا ہے۔

