کالم

ایران امریکہ مذاکرات، پاکستان کا کردار

پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارتکاری کے اسٹیج پر نمودار ہوا، جہاں ایران اور امریکہ جیسے دیرینہ حریفوں کو ایک میز پر بٹھانے کی کوشش کی گئی۔ اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات بظاہر تو کسی بڑے معاہدے پر منتج نہ ہو سکے، مگر ان کی اصل اہمیت نتائج سے زیادہ عمل میں پوشیدہ ہے کیونکہ بعض اوقات مذاکرات کا جاری رہنا ہی سب سے بڑی کامیابی ہوتا ہے۔اطلاعات کے مطابق یہ مذاکرات محض رسمی نوعیت کے نہیں تھے بلکہ ان میں حساس ترین معاملات زیر بحث آئے،جن میں ایران کا جوہری پروگرام،خطے میں اس کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ، اقتصادی پابندیاں، اور خلیجی سکیورٹی کی پیچیدہ صورتحال شامل تھیں۔ پس منظر میں جوائنٹ کمپری ہنسو پلان آف ایکشن (JCPOA) کی بحالی ایک مرکزی نکتہ رہی وہی معاہدہ جسے ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر ختم کیا اور جو بائیڈن انتظامیہ اب اسے کسی نہ کسی شکل میں بحال کرنے کی خواہاں ہے۔امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی شرائط میں یورینیم افزودگی کو محدود کرنا، انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA)کو مکمل رسائی دینا، اور خطے میں ایران کے اثر کو کم کرنا شامل تھا خصوصاً حزب اللہ اور حوثی تحریک جیسے اتحادی گروہوں کی حمایت کے حوالے سے۔دوسری طرف ایران کا موقف نہایت واضح اور سخت رہا، پہلے پابندیاں ختم ہوں، پھر بات آگے بڑھے گی۔یہ محض ایک سفارتی ضد نہیں بلکہ اعتماد کے بحران کی عکاسی ہے۔ ایران کے نزدیک ماضی کا تجربہ جہاں معاہدہ ہونے کے باوجود امریکہ پیچھے ہٹ گیا ایک ایسی حقیقت ہے جسے نظر انداز
نہیں کیا جا سکتا۔یہی وجہ ہے کہ ایران اب صرف وعدوں پر نہیں بلکہ عملی ضمانتوں کا طالب ہے، جو امریکی سیاسی نظام میں دینا تقریباً ناممکن ہے۔دوسری جانب عالمی طاقتوں کی شطرنج بھی پوری طرح بچھ چکی ہے۔ چین اور روس نہ صرف ایران کے سفارتی پشت پناہ بنے ہوئے ہیں بلکہ وہ اس بحران کو مغربی اثر و رسوخ کے مقابلے میں ایک موقع کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔ یوکرین جنگ کے بعد بدلتی عالمی صف بندی نے اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جہاں ہر قدم صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے توازن کو متاثر کرتا ہے۔اسی تناظر میں خلیجی خطہ بھی خاموش تماشائی نہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک اس پیش رفت کو نہایت باریکی سے دیکھ رہے ہیں۔ اگر ایران امریکہ تعلقات میں بہتری آتی ہے تو تیل کی عالمی منڈی، سرمایہ کاری کے بہاؤ اور سکیورٹی ڈائنامکس یکسر بدل سکتے ہیں۔ بصورت دیگر، کشیدگی کا ہر نیا دور تیل کی قیمتوں میں اضافے اور خطے میں عدم استحکام کو جنم دے گا جس کا سب سے زیادہ اثر کمزور معیشتوں پر پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کا کردار ایک نازک مگر اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ پاکستان نے ماضی میں افغان امن مذاکرات میں جو کردار ادا کیا، وہ اس کے لیے ایک سفارتی سرمایہ بن چکا ہے۔ اب ایران امریکہ مذاکرات میں سہولت کار بن کر پاکستان نہ صرف عالمی سطح پر اپنی اہمیت اجاگر کر رہا ہے بلکہ خود کو ایک پل کے طور پر پیش کر رہا ہے ایک ایسا پل جو متحارب طاقتوں کو جوڑ سکتا ہے۔مگر سوال وہی ہے جو ہر بار اٹھتا ہے کیا یہ پل اندر سے مضبوط بھی ہے؟
حقیقت اس کے برعکس ایک تلخ تصویر پیش کرتی ہے۔ ایک طرف عالمی تنازعات میں ثالثی، دوسری طرف اندرون ملک معاشی گھٹن۔ حالیہ دنوں میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں ہونے والی بندشوں نے زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔یہ صرف سڑکوں کی بندش نہیں بلکہ معاشی شریانوں کی بندش ہے۔جب بازار بند ہوتے ہیں تو صرف کاروبار نہیں رکتا، اس کا اثرگھر کے چولہوں پر بھی پڑتا۔یہ تضاد صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ پالیسی کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک ریاست جو عالمی سطح پر استحکام کی داعی ہو، اسے اپنے اندر بھی استحکام کی مثال قائم کرنی ہوتی ہے۔ بار بار کے غیر اعلانیہ لاک ڈاؤن سرمایہ کار کے ذہن میں ایک ہی سوال پیدا کرتے ہیں: کیا یہ ملک سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ہے؟یہاں ایک اہم معاشی زاویہ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ایران پر پابندیاں نرم ہوتی ہیں تو پاکستان کے لیے توانائی کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں خصوصاً گیس درآمدات اور سرحدی تجارت کے حوالے سے۔ لیکن اگر کشیدگی بڑھتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں اضافہ، درآمدی بل میں اضافہ، اور روپے پر مزید دبا ناگزیر ہوگا۔ پاکستان اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے، جہاں ہر سفارتی کامیابی کو معاشی طاقت میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔ محض مذاکرات کی میزبانی کافی نہیں اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ان مذاکرات سے نکلنے والے مواقع کو عوامی ریلیف، توانائی کے منصوبوں اور سرمایہ کاری میں ڈھالا جائے۔حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ترجیح کیا ہے: وقتی سیکیورٹی بندوبست یا طویل المدتی معاشی استحکام؟ کیونکہ اگر معیشت کمزور ہو جائے تو سیکیورٹی بھی ایک بوجھ بن جاتی ہے، سہارا نہیں۔ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا انجام کچھ بھی ہو، پاکستان کیلئے اصل امتحان ابھی باقی ہے۔ یہ امتحان سفارتکاری کا نہیں بلکہ حکمرانی کا ہے کہ آیا ہم عالمی سطح پر بنائی گئی اپنی ساکھ کو اندرونی استحکام میں بدل سکتے ہیں یا نہیں۔کیونکہ تاریخ یہی بتاتی ہے:سفارتی کامیابیاں سرخیوں میں جگہ بناتی ہیں،مگر مضبوط معیشتیں قوموں کو زندہ رکھتی ہیں۔اور اس وقت پاکستان کو سرخیوں سے زیادہ استحکام کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے