کسے علم نہیں کہ آزاد جموں و کشمیر ایک ایسا خطہ ہے جو جغرافیائی، سیاسی اور جذباتی ہر اعتبار سے پاکستان کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ آزاد کشمیر کے عوام کو اپنے دل کے قریب رکھا اور ہر مشکل وقت میں ان کی معاشی، سماجی اور ترقیاتی ضروریات کو ترجیح دی۔ مبصرین کے مطابق اگرچہ پاکستان کے اپنے معاشی چیلنجز، مہنگائی، توانائی بحران اور مالی دباؤ کے باوجود آزاد کشمیر کے لیے خصوصی سبسڈیز، گرانٹس اور ترقیاتی پیکجز جاری رکھنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ریاست پاکستان آزاد کشمیر کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہتی۔ تاہم ایسے حالات میں جب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے 9 جون کی ہڑتال کی کال دی جاتی ہے تو ایک اہم سوال جنم لیتا ہے کہ آیا اس ہڑتال سے واقعی عوامی حقوق حاصل ہوں گے یا پھر اس کا سب سے بڑا نقصان عام آدمی کو اٹھانا پڑے گا؟جان کاروں کے مطابق احتجاج اور مطالبات ہر جمہوری معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں۔ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مسائل، شکایات اور مطالبات حکومت تک پہنچائیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ احتجاج کا طریقہ ایسا ہو جو خود عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا نہ کرے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر میں ہڑتالوں کے اثرات پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق جب بازار بند ہوتے ہیں تو حکومت کا نہیں بلکہ چھوٹے دکاندار، دیہاڑی دار مزدور اور عام کاروباری طبقے کا نقصان ہوتا ہے۔ جو شخص روزانہ کی کمائی سے اپنے گھر کا چولہا جلاتا ہے، اس کے لیے ایک دن کی ہڑتال بھی شدید معاشی دباؤ کا سبب بن سکتی ہے۔یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ پاکستان کے کئی بڑے شہروں اور صوبوں میں عوام مہنگی بجلی، مہنگے آٹے، بھاری ٹیکسز اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، مگر اس کے باوجود آزاد کشمیر کو خصوصی رعایتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ سستا آٹا، رعایتی بجلی، ترقیاتی فنڈز اور وفاقی گرانٹس دراصل پاکستان کی اس مسلسل وابستگی کا اظہار ہیں جو وہ آزاد کشمیر کے عوام کے ساتھ رکھتا ہے۔ مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر کا بجٹ بھی بڑی حد تک وفاقی امداد، ترقیاتی تعاون اور خصوصی مالی معاونت پر انحصار کرتا ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ریاست عوامی ریلیف کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔اسی تناظر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کہیں عمل درآمد میں کمزوری، انتظامی کوتاہی یا شفافیت کے مسائل موجود ہیں تو ان کے حل کے لیے مذاکرات، نگرانی اور جوابدہی کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ بار بار کی ہڑتالیں نہ تو بجلی کے نظام کو فوری بہتر بنا سکتی ہیں اور نہ ہی عوامی مسائل کا مستقل حل فراہم کرتی ہیں۔ اس کے برعکس ان ہڑتالوں سے عام زندگی متاثر ہوتی ہے، کاروباری سرگرمیاں رک جاتی ہیں اور تعلیمی و طبی نظام پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔جان کاروں کے مطابق سب سے زیادہ متاثر وہ طبقات ہوتے ہیں جو پہلے ہی محدود وسائل میں زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ مریض کو اسپتال پہنچنے میں دشواری پیش آتی ہے، طالب علم امتحانات اور تعلیمی سرگرمیوں سے محروم ہوتے ہیں جبکہ مزدور کی دیہاڑی رک جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی حلقے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر احتجاج کا مقصد عوامی بھلائی ہے تو پھر ایسی حکمتِ عملی کیوں اختیار کی جائے جس سے سب سے زیادہ نقصان خود عوام کو ہو؟اسی ضمن میں مبصرین یہ بھی کہتے ہیں کہ احتجاج کی کامیابی صرف سڑکیں بند کرنے یا نظام مفلوج کرنے میں نہیں بلکہ اس بات میں ہوتی ہے کہ آیا اس سے کوئی مثبت اور دیرپا حل نکلتا ہے یا نہیں۔ ایک ذمہ دار معاشرے میں حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی شکایات کو سنجیدگی سے سنے، شفافیت کو یقینی بنائے اور ریلیف کے وعدوں پر مؤثر عمل درآمد کرے۔ دوسری جانب عوامی قیادت اور احتجاجی تنظیموں کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسے طریقہ کار کو ترجیح دیں جو عوامی مشکلات میں اضافے کے بجائے مسائل کے حل کی راہ ہموار کرے۔ایسے میں یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام ہمیشہ سے سیاسی شعور، قربانی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے آئے ہیں۔ خطے کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ معاشی استحکام، تعلیم، صحت، روزگار اور امن ہی اصل ترجیحات ہیں۔ اسی لیے کئی سنجیدہ حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ تصادم اور مسلسل ہڑتالوں کے بجائے مذاکرات، مشاورت اور ادارہ جاتی حل کو فروغ دیا جائے تاکہ عوامی مسائل بھی حل ہوں اور روزمرہ زندگی بھی متاثر نہ ہو۔سفارتی اور سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان کا مؤقف اس حوالے سے واضح دکھائی دیتا ہے کہ آزاد کشمیر میں ریلیف، ترقیاتی منصوبے اور عوامی فلاحی اقدامات جاری رہنے چاہئیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ ایسی سرگرمیوں سے گریز ضروری ہے جو عام شہری کی زندگی کو مفلوج کر دیں۔ کیونکہ آخرکار سب سے اہم سوال یہی ہے کہ اگر ایک ہڑتال سے دکاندار کی دکان بند ہو، مزدور کی دیہاڑی رک جائے، مریض کا علاج متاثر ہو اور طالب علم کا مستقبل داؤ پر لگ جائے تو کیا اسے مکمل عوامی مفاد قرار دیا جا سکتا ہے؟اسی تناظر میں عام کشمیری کی آواز آج یہی سنائی دیتی ہے کہ حقوق کا مطالبہ ضرور کیا جائے، مگر ایسا راستہ اختیار کیا جائے جو عوام کے مسائل کم کرے، نہ کہ ان کے گھروں کے چولہے مزید ٹھنڈے کر دے۔

