کالم

دہشت گردی کابازارگرم

دہشت گردی کوئی ایک دن یا ایک ملک میں شروع ہونے والا عمل نہیں۔ یہ مختلف ادوار اور حالات میں مختلف شکلوں میں سامنے آئی۔ قدیم دور میں بھی ریاستیں اور گروہ خوف پھیلانے کیلئے تشدد استعمال کرتے تھے۔جدید معنوں میں ٹیررازم کی اصطلاح فرانسیسی انقلاب (1793-94)میں سامنے آئی، جب ریاست نے مخالفین کو خوفزدہ کرنے کیلئے تشدد کیا ۔ 20ویں صدی میں یہ غیر ریاستی گروہوں کا ہتھیار بنی، خاص طور پر نوآبادیاتی طاقتوں کیخلاف مزاحمتی تحریکیں قوم پرست اور انقلابی تنظیمیں نائن الیون کے بعد دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ بن کر سامنے آئی یعنی دہشت گردی کسی ایک مذہب، قوم یا خطے سے نہیں جڑی، بلکہ طاقت اور خوف کے غلط استعمال سے جڑی ہے ۔ دہشت گردی کی بنیادی وجوہات میں تعلیم و تربیت کا نہ ہونا اور پھر معاشی محرومیاں غربت بے روزگاری ، جہالت اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔اس سے نوجوان آسانی سے شدت پسند گروہوں کا شکار بنتے ہیں۔ نظریاتی یا مذہبی انتہا پسندی مذہب یا نظریے کی غلط تشریح اور سوچ تشدد کو مقدس بناتی ہے۔ یاد رہے: مذہب نہیں، تعلیمی فکری کمزوری تنقیدی سوچ کی کمی لوگ پروپیگنڈے کا آسان شکار بن جاتے ہیں۔ پراکسی جنگیں اسلحہ کی فراہمی ڈبل اسٹینڈرڈز عالمی طاقتوںکی پالیسیاں کئی خطوں میں تشدد مستقل ہو چکا ہے۔ہر دہشت گردی کے پیچھے ایک کہانی ہوتی ہے، مگر کوئی بھی وجہ بے گناہوں کے قتل کو جائز نہیں بناتی۔ پاکستان میں دہشت گردی اچانک نہیں آئی، اس کی اپنی داستان ہے ۔ افغان جہاد ، سوویت یونین کے خلاف جنگ امریکہ، سعودی عرب اور دیگر ملکوں کی طاقتوں کی مدد سے پاکستان فرنٹ لائن اسٹیٹ بنا۔ اس دور میں اسلحہ، تربیت اور شدت پسند نظریہ جہاد عام ہوا پھر جہاد کے بعد۔جنگ ختم ہوئی ہے مگر مجاہدین کو معاشرے میں دوبارہ ضم نہیں کیا گیا اسلحہ اور نیٹ ورک ان کے پاس موجود رہے۔ یہی گروہ بعد میں شدت پسند تنظیموں میں بدلے۔ فرقہ واریت 1980 اور 90 کی دہائی میں سنی اور شیعہ کشیدگی بیرونی فنڈنگ ۔سے فرقہ وارانہ دہشت گردی دیکھنے میں آئی. اسی طرح نائن الیون کے بعد پاکستان نے وار آن ٹیرر میں شمولیت اختیار کی افغان طالبان کی پاکستان میں نقل و حرکت ڈرون حملے، فوجی آپریشنز کے ردعمل میں ٹی ٹی پی اور دیگر گروہ بنے ۔ پھرفاٹا اور سرحدی مسائل طویل عرصہ رہے۔جس سے شدت پسندوں کو محفوظ پناہ گاہیں ملیں ۔پھر دہشت گردی اور جہاد کو یکجا سمجھا جانے لگا۔ریاست کی اجازت خود ساختہ فیصلے اصلاح یا دفاع خوف اور انتشار اسلام سمیت کوئی بھی مذہب دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا۔ دہشتگردی سے نجات کیلیے تعلیم میں اصلاح تنقیدی سوچ نفرت سے پاک نصاب معاشی مواقع روزگار محروم علاقوں کی ترقی کے لے ضروری ہیں ۔دہشت گردی بندوق سے نہیں، انصاف، تعلیم اور شعور سے ختم ہوگی۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کے کردار کو کنٹرول کرنے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ آج کے دور میں میڈیا سب سے زیادہ طاقتور محاذ ہے۔ دہشت گردی میں میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار بہت اہم ہے۔ دہشت گردی کااصل مقصد: تشہیر ہے دہشت گرد حملہ صرف جان لینے کے لیے نہیں کرتا، خوف پھیلانے اور پیغام پہنچانے کے لیے کرتا ہے۔میڈیا اگر بار بار مناظر حملہ آور کا نام/تصویر دکھائے گا تو وہ اسے ہیرو بنا دے گا اس عمل سے دہشت گرد اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے کبھی کبھار بریکنگ نیوز کی دوڑ غیر تصدیق شدہ اطلاعات جذباتی زبان اس سے بھی عوام میں خوف اور بے یقینی بڑھتی ہے۔ اس سے دہشت گرد بیانیہ مضبوط ہوتا ہے لہذا اسے روکنا ہو گا۔دنیا کے کئی ممالک میں حملہ آور کا نام تک نشر نہیں کیا جاتا سوشل میڈیا میں سب سے خطرناک محاذ یہ ہے کہ یہاں دہشت گرد نوجوانوں کو بھرتی کرتے ہیں مذہب/قومیت کے نام پر ان کے جذبات بھڑکاتے ہیں جعلی ویڈیوز پھیلاتے ہیں ۔اج کا ایک موبائل فون بندوق سے زیادہ طاقتور بن چکا ہے. جس سے اج کا نوجوان ان کا آسان شکار بنتے ہیں غصہ ناانصافی کا احساس شناخت کی تلاش ہیرو بننے کی خواہش رکھنے والوں کو شدت پسند انہیں کہتے ہیںتم خاص ہو، تم حق پر ہو، دنیا تمہارے خلاف ہے۔ یہ باتیں سنا کر ان نوجوانوں کو ہیرو بنایا جاتا ہے قانون سے لڑایا جاتا ہے لہذا مثبت کردار کیلیے میڈیا کو ذمہ دارانہ رپورٹنگ کرنا ہو گی۔ سوشل میڈیا صارفین کو بغیر تصدیق کے خبر شیئر نہ کرے۔ جذباتی پوسٹس سے نہ لگائے۔رپورٹ کریں، ردعمل نہ دیں۔ سیدھی اور کھری بات یہ ہے کہ ریاست عدالت اور عام شہری بھی اپنی اپنی زمہ داریوں کو نبھائیں۔ دہشت گردی کے مقدمات میں شفاف تفتیش مضبوط شواہد سے عمل تیز مگر منصفانہ فیصلے کرے۔ ماورائے عدالت اقدامات کا وقتی سکون تو ملتا ہے مگر اس سے ریاست کمزور ہوتی ہے جس سے نئے شدت پسند پیدا ہوتے ہیں ریاست کو قانون کے مطابق چلنا چاہیے، یہ بھی سوچا کریں کہ ریاستی پالیسیوں کی وجہ سے کہاں ناکامی ہوئی اور کہاں کامیابی ۔ دہشت گردوں کے خاتمے میں ایک عام شہری اپنا رول اس طرح ادا کرے کہ وہ نفرت کے خلاف آواز بنے دلیل سے بات کرے۔ مذہب کو تشدد سے الگ رکھے. اسی طرح سوشل میڈیا پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تصدیق کے بغیر خبر شیئر نہ کریں۔ جذباتی نہیں، عقلی ردعمل دیں ۔ہم بچوں کو سوال کرنے کی عادت ڈالیں اختلاف کو دشمنی نہ بنائیں۔ قانون پر اعتماد کریں۔جن عدالتوں سے ریلیف لینے جاتے ہیں انہیں بے توقیر نہ کریں۔ فارن فنڈنگ کھانے والوں کو ہیرو نہ بنائیں۔سوچ اور سوال اگر زندہ رہے تو بندوق ہار جاتی ہے۔اسلام اباد میں کم عرصے میں یہ دہشتگردوں کا دوسرا واقع ہے۔ اس سے قبل ڈسٹرک کورٹ اسلام آباد کے وکلا پر دہشت گرد حملہ کر چکے ہیں ۔ اس کے بعد اسلام کی تمام گاڑیوں پر سٹیکر لگانے کا سرکار نے حکم صادر کیا تھا شہریوں نے لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے ہو کر اس پر عمل کرتے ہوئے اسٹیکر لگوائے بھی مگر اس کے باوجود ایک بار پھر بھی اس سیف سٹی میں دہشتگردی کا واقع پیش آیا۔ جبکہ اسلام آباد کی سڑک جناح ایونیو اور نادرا کے راستے گیڈ لگا کر پھر بھی بند ہیں اور دہشت گرد اسلام اباد میں دہشت گردی پھیلانے میں پھر بھی کامیاب ہیں۔ سڑکوں پر گیڈ لگا کر حکمران دہشت گردوں کو یہ کیوں پیغام دیتے ہیں کہ ہم اپ سے ڈرتے ہیں۔ ورنہ اس سائنسی دور میں راستے گیڈ لگا کر بند کرنے کی منطق سمجھ سے باہر ہے۔ایسا کرنا خوف کی علامت کے سوا کچھ نہیں۔سوال یہ بھی ہے کہ دہشتگرد حملہ کرنے کے بعد کیوں مارے جاتے ہیں حملے سے پہلے پکڑے کیوں نہیں جاتے اور نہ مارے جاتے ہیں واقع کے فوری بعد دہشت گرد مارا جاتا ہے اس کے سہولت کار فوری پکڑے جاتے ہیں۔ایسا کیوں ہے ۔ دہشت گردی ایک جنگ ہے اس جنگ کو جیتنے کیلئے ملک کے تمام شہریوں کو معلومات فراہم کریں کہ دہشتگردوں کا طریقہ واردات کیا ہوتا ہے اور پھر ایمرجنسی نمبر دے تاکہ دہشت گردوں کو پکڑا جا سکے۔ سکولوں اداروں مساجد میں بتایا جائے کہ دہشت گرد ہوتا کیا ہے اس کی نشانیاں کیا کیا ہو سکتی ہیں۔یہ معلومات عام شہری تک پہنچاء جائیں۔ تاکہ عام شہری ان پر نظر رکھیں اور دہشتگردی سے پہلے دہشت گرد پکڑ سکے ۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ کرنا ہم سب پر لازم ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے