مختلف برطانوی اور بین الاقوامی اخبارات اور جرائد میں شائع ہونے والی خبروں، رپورٹس اور تجزیوں کو پڑھنے اور ان کا جائزہ لینے کے بعد یہ کالم تحریر کیا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں برطانوی ہاس آف لارڈز کے رکن پیٹر مینڈلسن سے متعلق سامنے آنے والی معلومات اور ان کے امریکی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ روابط کے انکشافات نے برطانیہ کی سیاست میں ایک نیا بحران پیدا کر دیا ہے۔ یہ معاملہ محض ایک شخصیت کے تعلقات تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے حکومت، قیادت اور سیاسی اخلاقیات کے بنیادی سوالات کو جنم دیا ہے۔اس بحث کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ عام قارئین کیلئے جیفری ایپسٹین کا پس منظر بھی واضح کیا جائے۔ جیفری ایپسٹین ایک امریکی سرمایہ کار تھا جس پر کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال اور انسانی اسمگلنگ کے سنگین جرائم ثابت ہوئے۔ وہ کئی برس تک دنیا کے بااثر سیاستدانوں، کاروباری شخصیات اور سماجی حلقوں سے تعلقات رکھنے کے باعث خبروں میں رہا۔ 2008 میں اسے پہلی بار سزا ہوئی لیکن بعد میں مزید تحقیقات کے دوران اس کیخلاف بڑے پیمانے پر جنسی استحصال کے الزامات سامنے آئے۔2019 میں گرفتاری کے بعد وہ نیویارک کی ایک جیل میں مردہ پایا گیا۔ سرکاری طور پر اس کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا، تاہم اس واقعے نے دنیا بھر میں سوالات اور شکوک کو جنم دیا اور بہت سے لوگوں کے نزدیک یہ معاملہ آج بھی مکمل طور پر واضح نہیں ہو سکا۔ ایپسٹین کا انجام اس بات کی مثال بن گیا کہ طاقت اور دولت کے باوجود قانون کی گرفت سے ہمیشہ بچا نہیں جا سکتا، مگر اس کے نیٹ ورک اور روابط کے کئی پہلو اب بھی تحقیق اور بحث کا موضوع ہیں ۔ پیٹر مینڈلسن کے حوالے سے جو معلومات سامنے آئی ہیں ان میں یہ بات خاص طور پر اہم ہے کہ ان کے ایپسٹین سے روابط اس وقت بھی جاری رہے جب ایپسٹین کے جرائم دنیا کے سامنے آ چکے تھے۔ اگرچہ اب تک کوئی ایسا ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے یہ ثابت ہو کہ مینڈلسن خود کسی جنسی جرم میں ملوث تھے، لیکن ایک ایسے شخص سے قربت جس کا نام عالمی سطح پر ایک گھناونے اسکینڈل کے ساتھ جڑا ہو، خود ایک سنگین سیاسی اور اخلاقی مسئلہ بن گیا ہے۔مینڈلسن کی سیاسی زندگی پہلے بھی تنازعات سے خالی نہیں رہی۔ وہ سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کے دور میں لیبر پارٹی کے ایک نہایت بااثر اور طاقتور سیاستدان سمجھے جاتے تھے اور انہیں پارٹی کی انتخابی حکمت عملی کا معمار کہا جاتا تھا، لیکن وہ ماضی میں مختلف معاملات پر دو مرتبہ کابینہ سے استعفیٰ بھی دے چکے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کی شہرت ایک ذہین مگر متنازعہ سیاستدان کی رہی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے ایسے شخص پر اعتماد کیوں کیا۔ مختلف سیاسی تجزیوں کے مطابق اسٹارمر کی نظر میں مینڈلسن ایک تجربہ کار اور عالمی سطح پر روابط رکھنے والے سیاستدان تھے، خصوصا امریکا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ان کا تجربہ اہم سمجھا گیا۔ بعد میں جب مزید معلومات سامنے آئیں تو وزیراعظم نے قوم سے معافی مانگی اور یہ کہا کہ انہیں تعلقات کی مکمل نوعیت کا علم نہیں تھا۔لیکن برطانیہ کی سیاست میں صرف معافی کافی نہیں سمجھی جاتی۔ برطانوی جمہوری روایات میں یہ تصور مضبوط رہا ہے کہ اگر وزیراعظم کی سطح پر فیصلہ سازی میں بڑی غلطی ہو جائے تو اس کا سیاسی ازالہ اکثر استعفی کی صورت میں ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے کیئر اسٹارمر اس وقت ایک مشکل ترین سیاسی مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ آنے والے دنوں میں دو ممکنہ راستے سامنے آ سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ دبا بڑھنے پر وزیراعظم خود استعفیٰ دے دیں تاکہ بحران مزید نہ بڑھے۔ دوسرا یہ کہ لیبر پارٹی کے اندر سے ہی ارکان ان پر استعفیٰ دینے کیلئے دبا بڑھائیں۔ برطانوی سیاست میں پارٹی کے اندرونی اختلافات کئی بار حکومتوں کے خاتمے کا سبب بن چکے ہیں۔ یہاں ایک اور اہم پہلو بھی سامنے آ رہا ہے۔ اگر لیبر پارٹی کے اندر اختلافات بڑھتے ہیں تو اس کا سب سے بڑا سیاسی فائدہ اپوزیشن کو ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر ریفارم پارٹی، جو پہلے ہی عوامی سطح پر اپنی مقبولیت بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے، اس صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب بڑی جماعتیں اندرونی بحران کا شکار ہوتی ہیں تو نسبتا چھوٹی جماعتیں عوامی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔اگر صورتحال اس نہج تک پہنچتی ہے کہ قیادت کی تبدیلی ناگزیر ہو جائے تو اگلا سوال یہ ہوگا کہ لیبر پارٹی کی قیادت کون سنبھالے گا اور وزیراعظم کے طور پر کس کو آگے لایا جائے گا۔ پارٹی کے اندر کئی سینئر شخصیات موجود ہیں، لیکن قیادت کا فیصلہ ہمیشہ صرف تجربے سے نہیں بلکہ پارٹی اتحاد اور پارلیمانی حمایت سے ہوتا ہے۔یہ بحران ایک بڑی حقیقت کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ سیاست میں ماضی کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔ کسی شخصیت کے پرانے روابط یا فیصلے برسوں بعد بھی سیاسی طوفان کھڑا کر سکتے ہیں۔ مینڈلسن کا معاملہ اسی اصول کی ایک نمایاں مثال بن گیا ہے۔آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ بحران صرف ایک اسکینڈل نہیں بلکہ برطانیہ کی جمہوری روایت کا امتحان بھی ہے۔ آنیوالے ہفتے یہ طے کرینگے کہ آیا وزیراعظم اس دبائو کا سامنا کر پاتے ہیں یا قیادت کی تبدیلی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں پیٹر مینڈلسن کو امریکہ میں سفیر تعینات کرنے پر کھلے دل سے معافی مانگی ہے، لیکن ایک بات واضح ہے کہ پیٹر مینڈلسن اور جیفری ایپسٹین کے نام سے جڑا یہ تنازعہ برطانوی سیاست پر دیرپا اثرات چھوڑے بغیر نہیں گزرے گا اور امریکہ کے ساتھ تعلقات پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ایپسٹین سے متعلق کئی دستاویزات اور تحقیقات امریکی اداروں اور عدالتی ریکارڈ میں سامنے آ چکی ہیں۔ذاتی طور پر مجھے یہ کہنا پڑتا ہے کہ اگر کیئر اسٹارمر کو اس بحران کے نتیجے میں منصب چھوڑنا پڑا تو مجھے افسوس ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میری رائے میں وہ ایک ایسے وزیراعظم کے طور پر سامنے آئے ہیں جو عوام اور عام آدمی کی بات سننے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے مختلف مواقع پر برطانیہ کی اقلیتوں اور خصوصا مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھائی اور ان کے تحفظ کی بات کی۔ ایک موقع پر جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران لندن کے میئر صادق خان کو تنقید کا نشانہ بنایا تو کیئر اسٹارمر نے انہیں ٹوکا اور صادق خان کے بارے میں احترام کا اظہار کیا۔ اسی لیے سیاسی اختلافات کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ بعض اوقات قیادت کے انداز اور رویے بھی تاریخ میں یاد رکھے جاتے ہیں۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں