قوموں کی تقدیر بدلنے کیلئے بنیادی ترجیحات کی ازسرِنو تعیین ضروری ہوتی ہے۔ جب تک ریاست کو مضبوط بنیادوں پر استوار نہیں کیا جاتا، تب تک ترقی کے تمام دعوے محض سراب رہیں گے۔ قومی معیشت گزشتہ کئی دہائیوں سے قرضوں کے ایک ایسے جال میں الجھ چکی ہے جس سے نکلنا روز بروز دشوار تر ہوتا جارہا ہے۔ ہر آنے والی حکومت معیشت کی کمزور بنیادوں کو مستحکم کرنے کے بجائے عارضی سہاروں کا سہارا لیتی ہے۔ قرضوں کیلئے بار بار بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور دوسرے ممالک کے دروازے کھٹکھٹانا دانشمندی نہیں ہے۔ آئی ایم ایف جیسے اداروں سے قرض لینا ایک ایسی روایت بن چکا ہے جس نے معاشی خودمختاری کو شدید متاثر کیا ہے۔قرض بظاہر معیشت کو سہارا دینے کا ذریعہ ہوتا ہے مگر جب یہی قرض مستقل سہارا بن جائے تو پھر وہ ترقی کا وسیلہ نہیں بلکہ انحصار اور غلامی کی علامت بن جاتا ہے۔ ہمارے ملک کی معیشت کی سب سے بڑی المیہ یہی ہے کہ یہاں اصلاحات کے بجائے قرضوں کو مسئلے کا حل سمجھ لیا گیا ہے۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں مگر اقتصادی پالیسیوں کا بنیادی ڈھانچہ وہی رہتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے قرضوں کا حجم مسلسل بڑھتا گیا اور ریاست کے وسائل سود اور ادائیگیوں کی نذر ہوتے گئے۔ایسی صورت میں ایک چیز اہم ہے،وہ کفایت شعاری کی حقیقی اور عملی پالیسی ہے۔ کفایت شعاری محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایک ریاستی فلسفہ ہے۔ اس فلسفے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ریاست اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کرے اور عوام کے وسائل کو امانت سمجھ کر استعمال کرے مگر ہمارے ہاں اس تصور کو ہمیشہ نظرانداز کیا گیا ہے۔ حکمران طبقات نے کفایت شعاری کا درس عوام کو دیا مگر خود عیش و عشرت کی زندگی ترک نہ کی۔ملک کے حکمران طبقات اور سرکاری افسران کو جو مراعات حاصل ہیں، وہ کسی ترقی یافتہ ملک کے معیار سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔ سرکاری گاڑیاں، مفت پٹرول، بجلی، رہائش گاہیں، پروٹوکول اور دیگر بیشمار سہولیات عوام کے ٹیکسوں سے فراہم کی جاتی ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں کروڑوں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہوں، وہاں اس قسم کی مراعات اخلاقی طور پر بھی قابلِ اعتراض اور معاشی اعتبار سے بھی ناقابلِ جواز ہیں۔ عوامی سطح پر ایک بنیادی سوال ابھر رہا ہے کہ کیا ریاست کا مقصد عوام کی خدمت ہے یا اشرافیہ کی آسائشیں؟ ریاست عوام کے لیے ہے تو پھر اس کے وسائل بھی عوام کی فلاح کے لیے استعمال ہونے چاہئیں مگر جب ریاستی وسائل کا بڑا حصہ حکمران طبقات کی سہولتوں پر خرچ ہونے لگے تو پھر یہ توازن بگڑ جاتا ہے۔ کفایت شعاری کی پالیسی کا ایک اہم پہلو یہ ہونا چاہیے کہ سرکاری افسران اور حکمرانوں کے زیرِ استعمال پرتعیش گاڑیوں کا خاتمہ کیا جائے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں سرکاری محکموں میں بڑی بڑی گاڑیاں استعمال کرنا ایک حیثیت اور اقتدار کی علامت سمجھا جاتا ہے حالانکہ ایک ذمہ دار ریاست میں سرکاری وسائل کا استعمال انتہائی سادگی اور احتیاط کے ساتھ ہونا چاہیے ۔ حقیقت پسندانہ فیصلہ کیا جائے تو 1300سی سی سے بڑی گاڑیوں کو سرکاری استعمال سے خارج کیا جانا ناگزیر ہے۔ موجودہ گاڑیوں کو مارکیٹ ریٹ پر نیلام کر دیا جائے اور قانون سازی کے ذریعے یہ پابندی عائد کر دی جائے کہ عوام کے ٹیکسوں سے 1300 سی سی سے زیادہ گاڑیاں نہیں خریدی جائیں گی۔ اس فیصلے کے اثرات انتہائی دور رس ہوں گے۔ اس سے نہ صرف اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ ریاستی اداروں میں سادگی کا کلچر بھی فروغ پائے گا۔اسی طرح مفت پٹرول، بجلی اور دیگر مراعات کو بھی ختم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ریاستی خدمت ایک ذمہ داری ہے، کوئی کاروبار نہیں۔ جو لوگ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچتے ہیں انہیں ذاتی آسائشوں کی بجائے عوام کی خدمت کا جذبہ ہونا چاہیے۔پاکستان چونکہ ایک اسلامی جمہوریہ ریاست ہے، اس لیے یہاں مساوات اور عدل کا اصول بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام کا تصورِ حکومت یہی ہے کہ حکمران اور عوام قانون کے سامنے برابر ہوں۔ اسلامی تاریخ میں بے شمار واقعات ہیں، جہاں حکمرانوں نے اپنی زندگی انتہائی سادگی سے گزاری۔ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق نے بیت المال کو امانت سمجھا اور اپنی زندگی میں انتہائی سادگی اختیار کی۔ وہ ایک وسیع سلطنت کے حکمران تھے مگر ان کی زندگی میں تکلف اور نمود و نمائش کا کوئی عنصر نہیں تھا۔ نیدرلینڈ کے وزیر اعظم مارک روٹ اپنی رہائش گاہ سے دفتر تک سائیکل پر جاتے رہے۔ قیادت کا اصل وقار سادگی اور دیانت میں ہوتا ہے، پروٹوکول اور شان و شوکت میں نہیں ہوتا ہے۔ایک ترقی یافتہ ملک کا وزیر اعظم سائیکل پر دفتر جا سکتا ہے تو مقروض اور ترقی پذیر ملک میں کم از کم یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ حکمران طبقہ سادگی کا مظاہرہ کرے۔ عوام اس وقت شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتے ہوئے ٹیکسوں نے عام آدمی کی زندگی کو دشوار بنا دیا ہے۔ ایسے حالات میں جب عوام قربانیاں دے رہے ہوں تو اشرافیہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ بھی اپنے طرزِ زندگی میں تبدیلی لائے۔ ہمارے وسیب میں اشرافیہ اور عوام کے درمیان ایک واضح خلیج پیدا ہو چکی ہے۔ یہ خلیج صرف معاشی نہیں بلکہ نفسیاتی بھی ہے ۔ عوام کو یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ ریاستی نظام ان کے لیے نہیں بلکہ ایک مخصوص طبقے کے مفادات کے لیے کام کر رہا ہے۔ اس احساس کو ختم نہ کیا گیا تو یہ ریاستی استحکام کیلئے اچھا ثابت نہیں ہو سکتا ہے۔ اعتماد کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔ جب عوام کو یقین ہو جائے کہ حکمران ان کے وسائل کو دیانتداری سے استعمال کر رہے ہیں تو وہ ریاستی فیصلوں کو خوش دلی سے قبول کرتے ہیں۔وقت کا تقاضا ہے کہ غیر ضروری سرکاری اخراجات کو فوری طور پر کم کیا جائے۔ کسی سرکاری عہدے دار کیلئے مہنگے طیارے یا خصوصی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں تو ان پر نظرثانی ہونی چاہیے۔ عوام کے وسائل کو عیاشیوں پر خرچ کرنا ایک ایسا رویہ ہے جو ریاستی وقار کے خلاف ہے۔آج ملک کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ایک نئی معاشی اور اخلاقی حکمت عملی ہے۔ اس حکمت عملی کی بنیاد سادگی، دیانت اور مساوات پر ہونی چاہیے۔ اشرافیہ ملک پر بوجھ بن چکی ہے لہٰذا اپنی مراعات اور عیاشیوں کو ترک کریں ۔ کرپشن کا خاتمہ بھی اسی عمل کا لازمی حصہ ہے۔ جب تک ریاستی نظام سے کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوگا،اس وقت تک کوئی بھی اقتصادی اصلاحات پائیدار ثابت نہیں ہوں گی۔ کرپشن دراصل وہ دیمک ہے جو ریاستی اداروں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ اسی طرح مہنگائی پر قابو پانا بھی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ مہنگائی صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی مسئلہ بھی ہے۔ یہ عوام کے اعتماد اور معاشرتی استحکام کو متاثر کرتی ہے ۔حکومت سنجیدگی سے اصلاحات کا آغاز کرے، کفایت شعاری اختیار کرے اور اشرافیہ کی مراعات کو ختم کرے ۔ قیادت دیانت، سادگی اور انصاف کا راستہ اختیار کرے تو پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ریاستوں کی تعمیر بڑے بڑے منصوبوں سے نہیں بلکہ اصولی فیصلوں سے ہوتی ہے۔ کفایت شعاری ، مساوات اور دیانت ایسے ہی فیصلے ہیں جو کسی بھی قوم کو مضبوط بنیادیں فراہم کرتے ہیں۔وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ملک کی اشرافیہ اپنے طرزِ زندگی پر نظرثانی کرے۔ عوام کے وسائل کو امانت سمجھ کر استعمال کرے اور ایک ایسی مثال قائم کرے جس سے عوام میں اعتماد اور امید پیدا ہو۔ ایسا ہو گیا تو وطن عزیز نہ صرف معاشی بحران سے نکل سکتا ہے بلکہ ایک مضبوط اور خودمختار ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے ابھر سکتا ہے۔

