نظام کے طور پر سمجھتا ہے۔سائنس کی زبان میں اسے Laws of Nature یعنی فطری قوانین کہا جاتا ہے۔جیسے سورج کا روز نکلنا اور پھر غروب ہوجانا اس کا معمول ہے اسی طرح موسموں کی تبدیلی، ہر جاندار کا پیدا ہونا موت کا آنا۔ انسان کچھ حد تک تو اثر انداز ہوتا ہے، لیکن مکمل طور پر قدرت پر قابو نہیں پا سکتا۔ انسان سورج کو طلوع ہونے سے نہیں روک سکتا۔ زلزلے، موت، وقت کے گزرنے یا فطری قوانین کو ختم نہیں کر سکتا۔ قدرت کے بڑے نظام انسان کی طاقت سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔اسی لیے فلسفہ مذہب اور سائنس تینوں میں یہ بات مانی جاتی ہے کہ انسان کو قدرت کے نظام کو سمجھ کر اس کے مطابق چلنا ہے نہ کہ اسے مکمل طور پر بدلنے کا دعوی کرنا ہے۔نیچر کو جب اپ بدلتے ہیں تو نقصان اٹھاتے ہیں۔ اگر رشتوں کا احترام نہیں کرتے تو ذلیل و خوار ہو جاتے ہیں۔ حلال نہیں کماتے اور کھاتے تو اس کے نتائج برے ملیں گے۔ اسلام آباد ایک نیچرل زمین پر بنایا گیا شہر ہے۔ دارلخلافہ ہونے کی وجہ سے اس کی زمین دوسرے شہروں سے زیادہ قیمتی ہے یہی وجہ یہاں ہم نے دیکھا جب کسی نے اس کے آبی راستوں کی چھیڑ خانی کرتے ہوئے پلاٹ بنا کر بھیج دئے ان پر مکان بنا لئے۔ جب بارشیں ہوئیں تو بارش کا پانی آبی گزرگاہ کے بند ہوجانے سے اسلام آباد کا سیکٹر ای الیون پانی میں ڈوب گیا تھا۔ لگژری گاڑیوں کو پانی میں سب نے تیرتے دیکھا تھا۔ ایسا ہی نتیجہ ہم نے سیاحتی علاقے بونیر کی تباہ کاری کو دیکھ چکے ہیں جس سے انسان اور علاقہ پانی میں ڈوب گئے تھے۔ اس علاقے میں خوبصورت قدرتی پہاڑ ہیں۔جہاں قیمتی پتھر اور درخت پائے جاتے ہیں۔اس علاقے کے لوگوں نے ان پہاڑوں سے درخت کاٹے اور پتھر نکال کر فروخت کر دیئے جبکہ قدرت نے ان پہاڑوں کو درختوں کوگرنے سے بچانے کیلئے پتھر لگا رکھے تھے تانکہ درخت اور پہاڑ قائم رہے لیکن لوگوں نے قدرت کے فلسفہ کو سمجھ نہ سکے اور پیسے بناتے رہے یعنی قانون فطرت کو چھیڑا تو اس کا نتیجہ سب نے دیکھا یہ پانی جو اپنے راستے سے خاموشی سے گزر جایا کرتا تھا اس نے اپنے راستے میں آنے والے مکانوں ، کاٹے گئے درختوں اور انسانوں کو بہا کر ساتھ لے گیا تھا۔کیونکہ قانون فطرت میں رحم نہیں ہے اج کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں موبائل فون ایسے ہی ہیں جیسے بندر کے ہاتھ میں استرا۔ جدید فون میں برائی بھی ہے اور اچھائی بھی ہے۔ بغیر سوچے سمجھے نوجوان تجربات کرنے شروع کر دیتے ہیں۔ ہر وہ کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے آسانی سے رقم ہاتھ آئے۔ کہا جاتا ہے کہ تین بڑے گہرے دوست تھے۔ ایک کی شادی تھی۔ دوسرے روز بارات تھی کہ مہندی کی رات دوستوں کی محفل میں اچانک گولی چل جانے سے دولہا دنیا سے رخصت ہو گیا۔ یہ دو دوست قبرستان میں گورگن کے ساتھ ملکر دوست کی قبر بناتے ہیں۔ دوسرے روز جنازے سے قبل یہ دونوں دوست اس کی قبر پر پہنچ جاتے ہیں۔ جو دوست فوت ہوتا ہے اس کی ہمشیرہ باہر کے ملک سے آ رہی ہوتی ہے۔ اس نے کہا میں نے اپنے بھائی کا چہرہ ضرور دیکھنا ہے لہٰذا میرا انتطار کریں۔ جنازے کے بعد میت کو گھر پر رکھ کر بہن کا انتظار کیا جاتا ہے۔ یہ دونوں دوست اس دوران قبرستان میں اپنے دوست کی قبر پر اس کی باتیں کر رہے تھے۔ گورکن نے کہا میں اپنی جھونپری میں ہوں گا مجھے جنازے کے آ جانے کی اطلاع کردینا۔ میں آ جاں گا۔ اب قبر پر یہ دونوں دوست ہی تھے۔ ایک نے کہا میں جاننا چاہتا ہوں قبر میں فرشتے کیسے آتے ہیں کیا سوال کرتے ہیں ۔ میرے پاس فون میں کیمرہ ہے۔ میں قبر میں لیٹا ہوں تم مجھ پر یہ سلیں رکھنا میں فرشتے کی ریکارنگ کرونگا۔ پھر یہ وڈیو وائرل ہو گی ہم پیسے بنائیں گے اس پر اس کا دوست راضی ہو جاتا ہے۔پھر دوست فون سمیت قبر میں لیٹ جاتا ہے دوسرا دوست سلیں اس پر رکھ دیتا ہے ۔ قبر میں لیٹے ہوئے دوست نیکہا قبر میں روشنی آ رہی ہے لہزا مٹی بھی ڈال دو۔ دوست نے مٹی بھی ڈال دی مگر اب اس کی آواز نہ آئی۔ دوست نے مٹی ہٹائی پھر سلوں کو اٹھانے کی کوشش کی مگراس سے یہ سلیں نہ اٹھائیں گئی۔وہ بھاگ کر گورکن کے پاس گیا اس سے مدد لی لیکن وہ بھی سلوں کو اٹھانے میں ناکام رہا ۔ پھر تین دوسروں کی مدد سے ایک سل اٹھا سکے لیکن قبر میں لیٹے دوست کو نہ اٹھا سکا کیونکہ وہ اللہ کو پیارا ہو چکا تھا۔ لہٰذا جلدی سے ایک نئی قبر کھودی گئی اور دولہے دوست کو اس میں دفن کر دیا گیا۔ بعد میں کرین کی مدد سے اسے قبر سے نکالا گیا غسل دیا گیا جنازہ پڑھااور اسی قبر میں سپردخاک کر دیاگیا جس میں یہ ویڈیو بنانے کیلئے لیٹا تھا نیچر کیخلاف کام کرنے کی کوشش میں یہ جان سے گیا۔ ہم اپنے کام کرتے نہیں اور نیچر کی چھیڑ خانی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ کام جہنمی کرتے ہیں اور دعا جنت میں جانے کی مانگتے ہیں۔ جو ہر چیز کا مالک ہے جو سب کچھ جانتا ہے۔ مرنے کے بعد وکیل جج اور گواہ ایک ہی صف میں کھڑے ہونگے۔ہر انسان اپنے کرتوتوں کی بنا پر پاس ہو گا یا فیل۔ وہ زات کہتی ہے اے بندے تم اگر مجھ سے محبت پیار کرنا چاہتا ہے تو میری مخلوق سے پیار کرو۔ مگر ہم اس کے برعکس اس کی مخلوق کے ساتھ وہ سلوک کرتے ہیں جو باعث شرم ہے۔ ہم قران کو سمجھتے نہیں سنت پر عمل کرتے نہیں۔اگر پانچوں کلاس میں قرآن کو ترجمہ کے ساتھ نصاب میں شامل کیا ہوتا تو اج کی جنریشن بہتر ہوتی۔جج بھی فیصلے آئین اور قانون کے مطابق کر رہے ہوتے۔عدالتوں میں عدلیہ کے غلط فیصلوں کے بعد مظلوم ہاتھ اٹھاتے ہیں جھولی پھیلاتے ہیں کہ اب تو ہی ہے ہمیں انصاف دے گا ۔ مجھے تو اس جج سے انصاف ملا نہیں پھر وہ ذات نہ صرف مانگنے والے کو انصاف دیتی ہے بلکہ جج کا حساب بھی لیتی ہے۔ کبھی بھول کر بھی قانون فطرت سے چھیڑ خانی نہ کی جائے اس کی مخلوق سے پیار کرو اس سے اچھا برتا کرو تانکہ وہ ذات اپ سے خوش رہیے۔ اللہ رب العزت ہم سب کو صحت، عزت اور لاتعداد خوشیاں عطا فرمائے۔قران و سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

