کالم

کیا ”اسرائیل ”کوئی خدائی منصوبہ ہے

(گزشتہ سے پیوستہ)
اس بوجھ کو اُٹھیا اور اسے فلسطین کی سرزمین پر رکھ دیا۔یہاںایک فیصلہ ہوا، ١٩١٧ء میں ”بالفور ڈیکلریشن” کے نام سے۔ برطانیہ نے کہا کہ ہم یہاں ایک ”جیوش ہوم لینڈ”(یہودی ریاست) کے قیام کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ زمین کس کی تھی؟ارے بھائی وہاں پہلے سے لوگ موجودتھے۔ایک معاشرہ تھا،ایک تاریخ تھی،مگر ان سے پوچھانہیں گیا۔فی الحقیقت یہ ایک کولونیل ٹراسفر تھا۔بنیادی طور پر تو ایک یورپی مسئلہ تھا،مگر یورپ کے اجتماعی گناہ کا بوجھ ایک عرب سر زمین پر منتقل کر دیا گیا۔اور یہ ہی وہ لمحہ تھا جہاں سے ایک کولونیل پروجیکٹ( سامراجی منصوبہ)شروع ہوا۔اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر یہ وا قعی سیاسی منصوبہ تھا تو اسے مذہب کا رنگ کیوں دیا گیا؟جواب بہت سادہ ہے مر ہم اکثر اسے نظر انداز کر دیتے ہیں، قانونی حیثیت کی خاطر۔ ”قانونی حیثیت”کا مسئلہ یعنی لوگوں کو یہ یقین دلانا کی جو آپ کر رہے ہیں وہ صحیح ہے۔ اب یہاں ایک بہت بڑی تبدیلی آتی ہے۔ اگر آپ کہیں کی یہ ایک سیاسی منصوبہ ہے تو لوگ فوراً سوال کریں گے کیوں؟۔کیسے؟ اس کا اخلاقی جواز کیا ہے ؟ ۔ لیکن اگر آپ کہیں کہ یہ خدا کاوعدہ ہے تو کیا ہوتاہے؟۔سوال ختم ہو جاتے ہیں، تنقید رُک جاتی ہے اور مخالفت گناہ بن جاتی ہے۔ کیونکہ کہ اب یہ سیاست نہیں رہی، یہ ایمان کا مسئلہ بن گیا۔اب ذرا ایک اور مثال دیکھیں ١٩٦٧ء کیب ات ہے۔ عرب اسرائیل جنگ ہوتی ہے، جسے ہم” چھے روزہ جنگ” کے نام سے جانتے ہیں۔ صرف چھے دنوں میں ایک چھوٹی ریاست بری بڑی افواج پر غالب آجاتی ہے۔ یہ کیسے ہوا؟ اور یہ تھا کیا؟بنیادی طور پر یہ ایک فوجی کامیابی تھی۔ایک اسٹریٹیجک برتری تھی اسرائیل کی۔اصل کہانی یہاں ختم نہیں ہوریلکہ اصل کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں اس کامیابی کی تشریع کی جاتی ہے۔ اس کامیابی کو کیسے پیش کیا گیا؟ کہا گیا یہ خدا کہ مدد تھی۔ اب ذرا غور کریں کہ ایک انسانی پلاننگ، ایک فوجی اسڑے ٹیجی، ایک عملی تنقیداوراسے بدل دیا گیاایک الٰہی مداخلت میں۔یہاں ایک خطرناک تبدیلی ہوتی ہے۔طاقت تقدس بن جاتی ہے،جو چیز انسان نے حاصل کی تھی اسے خدا کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔ اور جب ایسا ہو جائے تو سوال ختم ہو جاتے ہیں۔کیونکہ اب آپ حکومت نہیں خدا سے سوال کررہے ہوتے ہیں۔یہی وہ لمحہ ہے جہاں اخلاق بدل جاتاہے، ظلم ظلم نہیں رہتا،وہ حق بن جاتا ہے، قبضہ قبضہ نہیں رہتا، وہ وعدہ الہی بن جاتا ہے۔طاقت طاقت نہیں رہتی وہ مقدس مشن بن جاتی ہے۔اور جب طاقت مقدس مشن بن جائے تواس کے خلاف کھڑا ہونا صرف سیاسی مخالفت نہیں رہتا بلکہ گناہ بن جاتا ہے۔اب ایک اور کہانی بھی سن لیجیے۔ اس سے بات سمجھنے میں آسانی ہو جائے گی۔ اسی دوران امریکا میںبابئل کی ایک خاص تشریع عام ہونے لگتی ہے جسے” اسکوفیلڈ ریفرنس بائبل” کہتے ہیں۔یہ صرف بائبل نہیں تھی، یہ بابل کی ایک مخصوص ریڈنگ تھی، اور اسی ریڈنگ سے ایک نظریہ پیدا ہوا ہوتا ہے جسے کہتے ہیںنظریہ ادوار الٰہی۔یہ نظریہ کیا کہتاہے؟ یہ تاریخ کو مختلف ادوار میں تقسیم کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ہم ایک ایسے دور مین ہیں جہاں کچھ مخصوص واقعات لازمی ہیں۔ او اگریہ ہو جائیں تومسیح کی واپسی قریب ہو جائے گی۔یعنی ایک سیدھا فارمولا: اسرائیل بنے گا تو مسیح آئیں گے۔اب غور کریں یہاں مذہب کیا بن گیا؟ ایک عقیدہ ایک انتظار، ایک پروفیٹک ٹائم لائن۔جہاں ایک اوراہم نکتہ سمجھیں۔ یہ ا صل عیسائیت نہیںہے بلکہ اس کی جدید تعبیر ہے جو انیسویں بیسویں صدی میں سامنے آئی۔ یعنی یہ کلاسیکی مسیحی الہیات( کلاسیکل کرسچین تھیوری)نہیں بلکہ ہے بلکہ ایک خاص گروہ کی ریڈنگ ہے، جس کا اثر یہ ہوا کہ امریکا میں لاکھون لوگ اس نظریے پر ایمان لے آئے۔ اور پھر اسرائیل کی حمایت صرف سیاسی معاملہ نہیں رہی بلکہ ایک مذہبی فریضہ بن گئی۔نتیجہ؟ نتیجہ یہ نکلا کی اربون دالر کی فندنگ، اندھی سیاسی حمیات اور ایک ایسا مذہبی جوش جو سوال سے ماروا۔کیونکہ جب کوئی چیز خدا کے منصوبے کاحصہ بن جائے تو اس پر سوال اُٹھانا گناہ سمجھا جاتا ہے۔اب یہاں ایک بہت اہم حقیقت سامنے آتی ہے ۔ یہ صرف باہر کے لوگ نہیں ہیں جو اس ریاست پر سوال اٹھاتے ہیں خود یہودی مذہبی حلقوںکے اندر بھی اس پر شدید اختلاف موجود ہے۔ مثلا نیتوری کرتا ایک مذہبی گروہ ہے جو کھل کر یہ کہتا ہے کہ یہ ریاست مذہبی طر پر غلط ہے ۔ ہمیں اس ریاست کے قیام کا کوئی حق نہیں ۔ کیوں؟کیونکہ کہاں کے ان کے نزدیک ریاست کا قیام انسان کا کام نہیں تھا بلکہ اسے الٰہی وقوعے کے طور پر ہوناتھا۔ یعنی وہی بات جو ہم پہلے کہہ چکے ہیں کی طاقت کے زرو پرریاست قائم کرنا خود ان کی مذہبی روایات کے خلاف ہے۔ اب صرف مذہبی حلقے ہی نہیں کچھ بڑے یہودی مفکرین بھی اس پورے معاملے پر سوال اُٹھاتے ہیں، مثلاً مارٹن بو بر، یہ ایک بڑانام ہے،اور دوسرے ابراہم جوشواہ حیشل۔ یہ لوگ ایک بنیادی اصول دیتے ہیں:زمین انصاف کے بغیر بے معنی ہے۔یعنی اگر آپ کے پاس زمین ہے مگر انصاف نہیں ہے تو وہ زمین مذہبی طور پر کوئی حیثیت نہیں رکھتی،کیونکہ خدا کا تعلق زمین نہیں انصاف سے ہوتاہے۔بندہ خدا اور انصاف سے وابستہ ہوتا ہے زمین سے نہیں۔اب اس پوری تصویر کو ایک ساتھ دیکھیں جو میں نے کئی چیزیں ایک ساتھ آپ کے سامنے رکھیں، جستہ جستہ۔ اب اس کو پورے تناظر میں دیکھیں۔ ہواکیا؟ ایک آیت جس کی من پسند تعبیر کی گئی، ایک سیاسی منصوبہ جسے استعماری طاقتوں نے نافذ کیا اور اس کے اُوپر مذہب کا غلاف چڑھا دیا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیایہ مذہب ہے؟ نہیں، یہ مذہب نہیں تھا مذہب کو استعمال کیا گیاتھا۔ اور جب مذہب استعمال ہوتا ہے تو وہ ہدایت نہیں رہتا ہتھیار بن جاتا ہے۔اصل مسئلہ یہ ہے کی یہودیت نہیں بدلی، اس کے نام پر ایک نئی تعبیرگھڑی گئی، ایک ایسی تعبیر جو طاقت کو تقدس مین بدل دیتی ہے،جہاں ظلم حکم ِخدا بن جاتا ہے اور قبضہ وعدہ الہی کہلانے لگتا ہے۔اب یہاں آکر سوال اسرائیل نہیں رہتا۔سوال یہ ہے کی کیا ہم مذہب کوسمجھ رہے ہیں یا ہمیں مذہب کے نام پر استعمال کیا جارہا ہے؟ بیوقوف بنایا جا رہا ہے؟ اور اگربے وقوف بنایا جا رہا ہے تو ذرا رُک کر سوچئے کہ یہ کھیل کون کھیل رہا ہے اور کیوں ؟ اس مقام پر ایمان اور فریب ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے