کالم

میجر عزیز بھٹی،معرکہ حق اور جذبوں کا انرجی بوسٹر

حصے کا چراغ جلانے میں مصروف دکھائی دیتا تھا۔ یہ صرف افواجِ پاکستان کی جنگ نہ تھی بلکہ پوری قوم کے وقار اور بقا کی جنگ تھی ۔ پھر جب میجر عزیز بھٹی شہید کا ذکر آتا تو ہماری سانسیں تھم سی جاتیں۔ ان کی داستانِ شجاعت صرف عسکری تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ وفا، استقامت اور ایثار کی معراج ہے۔ دشمن کی شدید گولہ باری میں کئی روز تک مورچے میں ڈٹے رہنا، اپنی جان کی پروا کیے بغیر وطن کی حفاظت کرنا، اور آخرکار مادرِ وطن پر قربان ہو جانا ایسا منظر ہے جو آج بھی دلوں کو ہلا دیتا ہے۔ ان کا نام سنتے ہی دل احترام سے جھک جاتا ہے۔ ایسے لوگ قوموں کے ماتھے کا جھومر ہوتے ہیں۔ ان کی قربانیاں وقت کے ساتھ فراموش نہیں ہوتیں بلکہ نسلوں کے لہو میں جذب ہو جاتی ہیں۔6ستمبر کی تقریبات ہمارے لیے کسی تہوار سے کم نہ ہوتیں۔ اسکولوں میں ملی نغمے گونجتے، شہدا کی تصاویر سجائی جاتیں، اور اساتذہ کی گفتگو میں ایک عجیب درد اور فخر شامل ہوتا۔ ہم بچوں کے دلوں میں بھی یہ خواہش جاگتی کہ کاش ہم بھی اس دور کے گواہ ہوتے۔ جب اساتذہ چونڈہ کے محاذ، لاہور کے دفاع اور سیالکوٹ کی بہادری کی داستانیں سناتے تو ہماری آنکھوں میں خواب اور دلوں میں ولولہ پیدا ہو جاتا۔ انہی کہانیوں نے ہمارے اندر یہ احساس پیدا کیا کہ وطن محض زمین کا ایک خطہ نہیں بلکہ ایک مقدس امانت ہے جس کی حفاظت ایمان کا حصہ ہے۔وقت گزرتا گیا، نسلیں بدلتی رہیں، مگر قوموں کی اصل روح کبھی نہیں بدلتی۔ مئی 2025 میں جب ایک بار پھر خطے کی فضاں میں کشیدگی پھیلی اور دشمن نے اپنی روایتی جارحیت کا مظاہرہ کیا تو پاکستان نے جس بصیرت، قوتِ ارادی اور عسکری مہارت کا مظاہرہ کیا، اس نے پوری قوم کو ایک بار پھر 1965 کی یاد دلا دی۔ یہ محض ایک عسکری ردعمل نہ تھا بلکہ قومی خودداری کا ایک عظیم اظہار تھا۔ اس مرحلے پر معرکہ حق اور بنیان مرصوص جیسی اصطلاحات قوم کی اجتماعی زبان بن گئیں۔ یہ الفاظ صرف عسکری کارروائیوں کے نام نہ تھے بلکہ اس روح کی علامت تھے جو قوم کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا دیتی ہے ۔ معرکہ حق دراصل اس اصولی موقف کی علامت بن کر ابھرا جس میں پاکستان نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ امن کا خواہاں ضرور ہے مگر اپنی خودمختاری، قومی وقار اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریگا۔ یہ معرکہ صرف سرحدوں پر نہ لڑا گیا بلکہ سفارتی محاذ، ذرائع ابلاغ، قومی بیانیے اور عوامی یکجہتی کے میدانوں میں بھی پوری قوت سے لڑا گیا۔ دنیا نے دیکھا کہ پاکستانی قوم اختلافات کے باوجود اپنے وطن کے دفاع کے معاملے میں کس طرح متحد ہو جاتی ہے۔ یہی اتحاد ہماری اصل طاقت ہے۔ اسی طرح بنیان مرصوص کی روح نے قوم کو قرآنِ حکیم کی اس تعلیم کی یاد دلائی جس میں اہلِ ایمان کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار قرار دیا گیا ہے۔ اس تصور نے نوجوان نسل کے اندر ایک نئی توانائی پیدا کی۔ سوشل میڈیا سے لے کر تعلیمی اداروں تک، ہر جگہ وطن سے محبت اور قومی وقار کے جذبے کی ایک نئی لہر محسوس کی گئی ۔ نوجوانوں نے پہلی بار اپنے عہد میں یہ منظر دیکھا کہ کس طرح ایک قوم اپنے دفاع کیلئے متحد ہو کر کھڑی ہوتی ہے اور کس طرح افواج اور عوام ایک دوسرے کی قوت بن جاتے ہیں۔ یہ صرف جنگی حکمتِ عملی کی کامیابی نہ تھی بلکہ قومی نفسیات کی تجدید تھی۔ ان واقعات نے ہمیں یہ بھی یاد دلایا کہ قومیں صرف معیشت یا اسلحے سے مضبوط نہیں ہوتیں بلکہ ان کی اصل قوت ان کے نظریے، اتحاد اور قربانی کے جذبے میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب ایک قوم اپنے شہدا کو یاد رکھتی ہے، اپنے محسنوں کی قربانیوں کا احترام کرتی ہے، اور نئی نسل کے دلوں میں وطن کی محبت کو زندہ رکھتی ہے، تو اسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو صرف جدید علوم ہی نہ دیں بلکہ انہیں اپنی تاریخ، اپنے شہدا، اور اپنی قومی جدوجہد سے بھی روشناس کرائیں۔ انہیں بتایا جائے کہ پاکستان ہمیں کسی تحفے میں نہیں ملا بلکہ لاکھوں قربانیوں کے بعد حاصل ہوا۔ انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ آزادی ایک مسلسل ذمہ داری ہے، اور قومی وقار کا تحفظ ہر شہری کا فرض ہے۔ اگر نئی نسل کے دلوں میں یہ شعور زندہ رہا تو پاکستان ہمیشہ سربلند رہے گا۔یہ وطن ان شہدا کی امانت ہے جنہوں نے اپنے خون سے اس کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ میجر عزیز بھٹی شہید سے لے کر مئی 2025 کے معرکہ حق تک، قربانی اور استقامت کی ایک روشن زنجیر ہمارے سامنے موجود ہے۔ یہی تسلسل ہماری اصل پہچان ہے۔ کل کے وہ بچے جو اسکولوں میں 1965 کی داستانیں سن کر جذباتی ہو جاتے تھے، آج اپنے بچوں کو مئی 2025 کے قومی عزم اور بنیان مرصوص کی مثالیں سنا رہے ہیں۔ یہی نسل در نسل منتقل ہونے والا جذبہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔جب تک اس سرزمین میں وطن سے محبت کرنے والے دل دھڑکتے رہیں گے ، جب تک ماں کی دعائیں اپنے سپاہیوں کے ساتھ رہیں گی، جب تک نوجوانوں کی آنکھوں میں قومی وقار کے خواب زندہ رہیں گے، تب تک پاکستان نہ صرف قائم رہے گا بلکہ عزت، استقامت اور وقار کے ساتھ دنیا کے نقشے پر اپنی روشن پہچان برقرار رکھے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے