غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے مختلف رہنماؤں نے1990ء میں شروع ہونے والی مسلح تحریک کی پہلی شہید خاتون جلہ بانوکو ان کی برسی پر شاندار خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ جلہ بانو بی ایس سی کی طالبہ تھی اور 1990ء میں نواکدل سرینگر میں قابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے شہید ہوئی تھیں۔ جلہ بانو 4 مئی 1990کو نواکدل سرینگر میں نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد ایک بزرگ شخص کو قابض فوجیوں کے تشدد سے بچانے کی کوشش کررہی تھیں جب فوجیوں نے فائرنگ کرکے انہیںشہید کردیا۔ اگلے دن نمازجنازہ کے بعد ان کے بھائی کوبھی لاپتہ کردیا گیا۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے جلہ بانو کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہدائے کشمیر کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیاجائے ۔ بھارتی مظالم سے تحریک آزادی کشمیرکو دبایا نہیں جاسکتا۔انہوں نے حصول مقصد تک جدوجہد آزاد ی جاری رکھنے کے کشمیریوں کے عزم کا اعادہ کیا۔برصغیر کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو جدوجہد آزادی کیلئے مسلمانوں کی بے مثال قربانیاں تاریخ کا حصہ ہیں۔انگریزوں اور ہندوؤں کے تسلط کیخلاف کشمیر میں جدوجہد آزادی کی ایک طویل تاریخ موجود ہے جس میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، ایسی ہی ایک جانباز اور دلیر خاتون کشمیر سے تعلق رکھنے والی سپاہی خانوان بی بی ہیں۔ 48۔1947 کی جنگ میں سپاہی خانوان بی بی نے آزادی کشمیر کیلئے عزم و ہمت اور دلیری کی نئی داستان رقم کی، اکتوبر 1947ء میں اپنے شوہر سردار عنایت اللہ خان کی شہادت کے بعد سپاہی خانوان بی بی نے مجاہدین گروپ ”حسین فورس” میں شمولیت اختیار کرلی۔ بعد ازاں خانوان بی بی نے کپیٹن حسین خان کی زیر کمان 3 آزاد کشمیر رجمنٹ میں شمولیت اختیار کی۔سپاہی خانوان بی بی کے فرائض میں جنگ کے دوران خواتین اور بچوں کا تحفظ کرنا شامل تھا،ان کی بہادی اور دلیری کو دیکھتے ہوئے دیگر خواتین بھی آزادی کشمیر کی جنگ میں شامل ہو گئیں۔ سپاہی خانوان بی بی نے ڈوگرہ فوج کیخلاف گھات لگا کر حملے کئے اور ایک حملے میں شدید زخمی بھی ہوئیں ، سپاہی خانوان بی بی نے راولاکوٹ کی جنگ اور فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے زیر اہتمام ممتاز حریت رہنما اور تحریک حریت جموں و کشمیر کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی کو انکی شہادت کی پانچویں برسی پرشاندار خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے اسلام آباد میں ایک کانفرنس منعقد کی گئی۔ حریت کونوینرغلام محمد صفی کے زیر صدارت کانفرنس کے مقررین نے کشمیریوں کی منصفانہ جدوجہد آزادی کیلئے شہید ممتاز رہنما کی گرانقدر خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت نے محمد اشرف صحرائی کی غیر قانونی نظربندی کے دوران ان کے ساتھ مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا لیکن حریت رہنما عزم کا پیکر بنے رہے اور کشمیر کاز کیلئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ اشرف صحرائی کا حراست قتل ایک ناقابل تلافی نقصان ہے اور ان کی قربانیوں کو ہرگزفراموش نہیں ہونے دیا جائیگا اور ان کے مشن کو ہر صورت پورا کیا جائیگا۔دوران حراست قتل کے ذمہ داروں کو ابھی تک انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا۔ اشرف صحرائی کے حراستی قتل کی براہ راست ذمہ دار بھارتی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے واقعہ کی شفاف اور فوری تحقیقات پر زور دیا ۔ اشرف صحرائی کے بیٹے جنید صحرائی نے بھی مئی 2020میں بھارتی قبضے کے خلاف لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا تھااور محمد اشرف صحرائی کے خاندان کی قربانیاں کشمیر کی تاریخ کا سنہرا باب ہیں۔کانفرنس کے شرکا نے شہدا کے مشن کو اسکے منطقی انجام تک پہنچانے کے کشمیریوں کے عزم کا اعادہ کیا۔ 25 جنوری 1990کو ہندواڑا میں بھارتی فوجیوں نے نہتے کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلی۔ کشمیر میں سال 1990 کا آغاز ہی کشمیریوں کے قتل عام سے ہوا،انتہا پسند بھارتی فوجیوں نے ہندواڑا کے مقام پر 21 سے زائد کشمیریوں کو بیدردی سے قتل جبکہ 200 کو شدید زخمی کر دیا، بھارتی فوج کے ہاتھوں قتل ہونیوالے مظلوم کشمیری پرامن احتجاج کر رہے تھے۔ہندواڑا کے افسوسناک واقعے سے محض چار روز قبل گاوکدل کا اندوہناک واقعہ پیش آیا تھا، کشمیری ابھی گاو کدل کا سانحہ نہیں بھولے تھے کہ ہندواڑا میں بھارتی فورسز نے ظلم کی انتہا کر دی۔ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ بھارتی فوجیوں نے زخمی کشمیریوں کو طبی امداد پہنچانے کی بھی اجازت نہ دی، بھارتی حکومت نے ہندواڑا واقعے میں شہید اور زخمی ہونیوالے کشمیریوں کی اصل تعداد کو بھی مخفی رکھا۔بھارتی سپریم کورٹ 35 سال بعد بھی ہنواڑہ قتل عام کے متاثرین کو انصاف نہ دلا سکی، قتل عام کا مقصد غاصب بھارتی فوج کا اپنی بربریت پر پردہ ڈالنا اور پرامن کشمیری مسلمانوں کو خوفزدہ کرنا تھا۔ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ ہندوستانی حکومت نے ہندواڑا قتل عام سے بچنے کیلئے بھونڈی کوشش کرتے ہوئے ایف آئی آر تک درج نہ کرائی۔الجزیرہ نے کہا کہ بھارتی فوجیوں نے گزشتہ 35 برس میں 1 لاکھ سے زائد نہتے کشمیریوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا۔ ہندواڑا قتل عام کے متاثرین گزشتہ 35 سال سے انصاف کے منتظر ہیں، ہندواڑہ قتل عام بھارت کے نام نہاد جمہوری چہرے پر طمانچہ ہے۔

