امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یوکرائن جنگ کے حل کیلئے پیش کیا گیا نیا امن منصوبہ نہ صرف سفارتی حلقوں میں ہلچل کا باعث بنا ہے بلکہ عالمی طاقتوں کے اسٹریٹجک توازن پر بھی گہرا اثر ڈال رہا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ واشنگٹن نے نسبتا ًواضح، مرحلہ وار اور بظاہر قابلِ عمل فریم ورک پیش کیا ہے۔ لیکن اس کے اندر چھپے سیاسی اور جغرافیائی اشارے وہ سوالات اٹھا رہے ہیں جن کے جواب آسان نہیں۔امریکہ کا موقف ہے کہ جنگ جتنی طول پکڑتی جارہی ہے، اس کے اقتصادی اور اسٹریٹجک اثرات پوری دنیا کو ہلا رہے ہیں۔ توانائی کی قلت، عالمی مہنگائی، منڈیوں میں عدم استحکام ان سب کا دبا امریکہ، یورپ اور عالمی معیشت یکساں محسوس کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن ایک ایسے حل کی تلاش میں ہے جو کم از کم فائر بندی کو یقینی بنا سکے۔مگر سیاسی ماہرین سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ اس منصوبے کے ذریعے نہ صرف عالمی سیاست میں امریکی کردار کو بحال کرنا چاہتے ہیں بلکہ داخلی طور پر بھی ایک "اسٹریٹجک کامیابی دکھانے کے خواہاں ہیں۔یوکرائن نے اس منصوبے کا خیر مقدم تو کیا لیکن مکمل قبولیت سے انکار کر دیا۔ صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کئی نکات کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے منصوبے کو 28 سے کم کر کے 20 نکات تک محدود کر دیا۔ خاص طور پر وہ تجاویز جن میں مشرقی یوکرائن کے بعض علاقوں کی متنازع حیثیت کو عارضی سیاسی سمجھوتہ قرار دیا گیا تھا، کییف کے لیے سرخ لکیر ہیں۔ ہزاروں جانیں قربان کرنے والا ملک کسی بھی ایسے منصوبے کو عوام کے سامنے کیسے پیش کر سکتا ہے جس میں علاقائی پسپائی شامل ہو؟یورپی رہنماؤں کی 8 دسمبر کی لندن بیٹھک اسی بے چینی کی علامت تھی۔ یورپ کو خوف ہے کہ امریکہ کہیں جلد بازی میں ایسا معاہدہ نہ کر بیٹھے جس سے یوکرائن کمزور ہو جائے اور مستقبل میں روس مزید جارحانہ کارروائیوں کی ہمت کرے۔ برطانیہ، جرمنی اور فرانس واضح کر چکے ہیں کہ یوکرائن کی سرحدیں، خودمختاری اور سکیورٹی گارنٹیز کسی بھی امن فارمولے کی بنیاد ہونی چاہئیں۔لندن اجلاس کا اصل پیغام یہ تھا کہ یورپ اپنے مفادات کو واشنگٹن کی تیز رفتار سفارت کاری کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑے گا لیکن امریکہ جو چاہے گا وہی ہوگا یورپین لیڈر ٹرمپ کی منت سماجت تو کرسکتے ہیں لیکن حقیقت میں امریکہ کی کسی بھی پالیسی کے خلاف مزاحمت کی پوزیشن میں نہیں ہیں ۔روس کا ردعمل حسبِ توقع سخت ہے۔ کریملن نے امن منصوبے کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ وہ میدانِ جنگ میں پہلے ہی برتری رکھتا ہے، اس لیے کسی بھی امن ڈھانچے میں اس کی طاقت کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔روس اندوونی طور پر تو ٹرمپ کے پلان کو اپنے مفادات کے عین مطابق گردانتا ہے پھر بھی لیکن ماسکو کے نزدیک ایسے نکات، جن میں روس کے قبضے میں موجود علاقوں کی حیثیت تبدیل کی جائے، کسی صورت قابل قبول نہیں۔روس اس منصوبے کو مغرب کے دباؤ اور یوکرائن کے سیاسی مطالبات کا مجموعہ سمجھتا ہے، نہ کہ ایک متوازن امن تجویز۔اب اگر بڑی طاقتوں کی زاویہ بندی دیکھی جائے تو بھارت اور چین دونوں امریکی امن منصوبے کو اپنے قومی مفادات کے آئینے میں دیکھ رہے ہیں۔ بھارت بظاہر غیر جانبدار ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ دہلی کسی بھی ایسے منصوبے کی کھل کر حمایت نہیں کرے گا جس سے ماسکو ناراض ہو۔ روس بھارت کا دیرینہ دفاعی شراکت دار ہے۔ پھر روسی صدر کے حالیہ دو روزہ بھارت دورے نے تعلقات کو مزید مستحکم کیا ہے، جہاں بریکس کی آئندہ صدارت اور RIC (RussiaIndiaChina) تنظیم کی بحالی بھی زیر بحث آئی۔دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ مسلسل دبا ڈال رہی ہے کہ بھارت روسی تیل کی خریداری کم کرے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے صرف 2024 ۔2025میں 69ٹریلن ڈالرز کا تیل روس سے خریدا ہے۔ ایسے میں دہلی امریکی خواہشات کے مقابلے میں بڑی سفارتی احتیاط اختیار کر رہا ہے۔چین کا معاملہ اور بھی پیچیدہ ہے۔ بیجنگ خود کو ایک عالمی ثالث کے طور پر پیش کرنے کا خواہاں ہے اور کسی ایسے امریکی منصوبے کی حمایت نہیں کرے گا جس میں اسے کردار نہ دیا جائے۔ چین بارہا کہہ چکا ہے کہ روس کی سکیورٹی تشویش کو نظر انداز کر کے کوئی بھی امن پائیدار نہیں ہو سکتا۔ یہی مقف اسے امریکی پلان سے دور رکھتا ہے۔چین کو خدشہ یہ بھی ہے کہ امریکی قیادت میں ہونے والا کوئی بڑا امن معاہدہ واشنگٹن کے سفارتی وزن کو دوبارہ مضبوط کر دے گا اور یہ بیجنگ کے لیے ناقابل قبول ہے۔دنیا کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہر ملک امن تو چاہتا ہے، مگر ایک ایسا امن جو اس کے مفادات کے مطابق ہو۔امریکہ جنگ کا بوجھ کم کرنا اور عالمی سیاست میں اپنی ساکھ بحال کرنا چاہتا ہے۔یورپ امن چاہتا ہے مگر کمزور یوکرائن کی قیمت پر نہیں۔روس امن چاہتا ہے مگر اپنی علاقائی برتری کے ساتھ۔چین امن چاہتا ہے مگر ایسا جو امریکہ کے اثر کو کم کرے۔یوکرائن امن چاہتا ہے مگر اپنی زمین کے ٹکڑے کیے بغیر۔یوکرائن کے لیے اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ امریکی دبا، یورپی خدشات، روسی خطرات اور اپنی عوامی امنگوں کے درمیان کوئی قابل قبول راستہ نکالے۔ جنگ نے یوکرائن کی معیشت، دفاع، صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، مگر یوکرائن کے عوام آج بھی ایک ہی بات پر متفق ہیں امن چاہیے، لیکن آزاد اور مکمل یوکرائن کے ساتھ۔لندن کی سفارتی سرگرمیاں، امریکی امن تجاویز اور روس کا سخت موقف اکٹھے یہ بتا رہے ہیں کہ جنگ روکنا شاید آسان ہو، مگر ایسا پائیدار اور منصفانہ امن لانا جو ہر فریق کو قبول ہو یہ اس دور کی سب سے بڑی جیوپولیٹیکل آزمائش ہے۔ آخر میں ایک تلخ حقیقت کہ دنیا طاقت، مفادات اور دولت کے ایسے گورکھ دھندے میں الجھ چکی ہے کہ انسانوں کے درمیان امن اور محبت اب ایک خواب سا محسوس ہونے لگا ہے۔ لیکن خدا کی بستی میں ازل سے یہ کھیل جاری ہے۔

