کالم

غزہ !ایران حملہ عالمی جنگ کا خطرہ

ایران نے دمشق میں اپنے سفارتخانے پر اسرائیلی حملے کے جواب میں جدید اسلحے ڈرونز کروز میزالوں سے حملہ کیا سی این این اور ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق ایران نے اسرایل پر ہزاروں ڈرونز داغے اردن امریکہ اور برطانیہ نے دعویٰ کیا کہ ڈرونز کو ناکارہ کر دیا گیا لیکن ایران کے مطابق اس نے اپنے احداف پورے کے۔ امریکہ اور پوری مغربی دنیا میں صف ماتم بچھ گیا اسرایل نے کہا کہ اس کا جواب ضرور دیں گے ۔ ادھر امریکی صدر نے ایران کے خلاف کھل کر اسرایل کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا اور ایران پر حملہ نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ روس کے صدر پوٹین نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو وہ کھل کر ایران کی حمایت کرے گا۔ چین جاپان اور روس نے دونوں فریقوں کو پرامن رہنے کی اپیل کی ہے لیکن برطانوی وزیراعظم اب بھی اسرایل کے ساتھ کھڑے نظر آ رہیے ہیں۔ گزشتہ کی ماہ سے اسرایل نے امریکہ کی اشیر باد سے غزہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور یہ سلسلہ جاری ہے ۔ وزیراعظم نیتن یاہو نے فلسطینیوں کی نسل کشی کا سلسہ شروع کر رکھا ہیے۔ غزہ میں فلک بوس عمارتیں مکانات فلیٹس ہسپتال اقوام متحدہ کی پناہ گاہیں بھی زمیں بوس ہو چکی ہیں۔ اسرائیلی ٹینک ہر چیز کو مسمار اور نیست و نابود کر رہیے ہیں اور ہر عمارت مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اسرایلی فوج فلسطین کے خلاف ہر قسم کا خطرناک ترین اسلحہ اور میزال استعمال کر رہی ہے۔ بین الاقوامی بنیادی حقوق کی تنظیمیں بھی کوی کردار ادا نہیں کر رہی ہیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اناتینو عرب لیگ کی طرف سے جنگ بندی کیلئے کی جانے والی تمام کوشش ناکام ہو چکی ہیں اسرایلی قیادت اپنی ہٹ دھرمی پر قا م ہے کیونکہ سپر پاور امریکہ اس کے ساتھ ہیے ۔ برطانیہ جرمنی فرانس اور دیگر مغربی طاقتیں بھی اسرایل کا کھل کر ساتھ دے رہی ہیں دنیا بھر کے چھ ارب کے قریب مسلمان خاموش تماشای کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ او آئی سی عرب لیگ فلسطینیوں کی مدد کےلئے کوئی موثر کردار ادا نہ کر سکیں مڈل ایسٹ کی عرب ریاستیں جو تیل کی دولت سے مالا مال ہیں اپنے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر صرف بیانات تک محدود ہیں ۔ جنگ بندی کی تمام کوششیں ناکام ہو چکیں۔ ویٹو پاور رکھنے والے پانچ ممالک جنگ بندی کی کوششوں کو ناکام بنا دیتے ہیں وہ یو این کی ہر قرار داد کو ویٹو کر دیتی ہیں۔ اسرایل جنگ روکنے کیلئے تیار نہیں اور روزانہ کی بنیاد پر غزہ میں حملے اور قتل و غارت گری جاری ہیے۔ غزہ میں اسرایل کے ہاتھوں چالیس ہزار سے زیادہ افراد شہید ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تعداد ننھے بچوں کی ہے ۔ اسرائیل نے مسجدوں گرجا گھروں کو مسمار کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ تقریباً گزشتہ چھ سات ماہ سے اسرایل نے غزہ کو تباہ و برباد کر نا شروع کیا ہوا ہیے اور اب تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ امریکہ برطانیہ فرانس جرمنی اس کی حمایت کر رہے ہیں لیکن جب ایران نے اپنے سفارت خانے پر حملے کا اسرایل سے بدلہ لیا اور حماس کے مطابق یہ اس کا حق تھا تو سارا مغرب اسرایل کی حمایت میں باہر نکل آیا جی سیون کے ممالک بھی میدان میں آ گے امریکی صدر بھی اپنا غیر ملکی دورہ منسوخ کر کے واشنگٹن پہنچ گئے اور سیکورٹی کا اجلاس بلا لیا۔ یہ ہے یہود و ہنود کی دوغلی پالیسی اور گٹھ جوڑ۔ بر طانیہ امریکہ جرمنی کینیڈا میں اسرایل کیخلاف مظاہرے جاری ہیں اور مغربی حکومتوں کی اسرایل نواز پالیسیوں کی مذمت کی جا رہی ہے۔ غزہ کے باہر ٹنوں کے حساب سے خوراک سے بھرے ہوئے ٹرالرز طویل لائنیں لگا کر کھڑے ہیں لیکن اسرائیلی درندے انہیں غزہ میں داخلے کی اجازت نہیں دے رہے۔ اسرائیلی ٹینکوں نے بڑی بڑی بلڈنگوں گھروں ہسپتالوں کو مسمار کر دیا ہے اانسانی زندگی سسک رہی ہے بچے دودھ کو ترس رہے ہیں لیکن اسرایلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو ترس نہیں آ رہا وہ چنگیز خان اور ہلاکو خان سے بھی زیادہ سفاک ثابت ہوا ہے۔ اسرائیل نے ایران کو جوابی کاروای کی دھمکی دے دی ہے۔ امریکہ برطانیہ یو این سیکرٹری نے ایرانی کاروای کی مذمت کی ہے لیکن سعودی عرب نے ایرانی کاروای کی مذمت کرنے سے انکار کر دیاہے۔ یو این سیکورٹی کونسل کا اجلاس بلا لیا گیا ہے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ اگر اسرایل نے جوابی حملہ کیا تو خدشہ ہیے کہ مشرق وسطی کا پوراخطہ جنگ کی لپیٹ میں آجاے گا یو این سیکرٹری اناتینو چین روس چاپان تمام فریقوں کو پرامن رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں ۔ یہ تو ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ جنگ سے کسی کو بھی فادہ نہیں ہو گا اب امریکہ برطانیہ جرمنی اور فرانس کو فلسطین کے مسئلے کا مستقل حل سوچنا ہو گا اسرایل امریکہ کی سرپرستی میں پوری دنیا پر غنڈہ گردی کر رہا ہے۔ ایران ایک وضع دار اسلامی ملک ہے اس نے اسرایل کو دمشق کے سفارتخانے پر حملے کا منہ توڑ جواب دیا ہے پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا ہیے کہ فلسطین کا مسئلہ سفارت کاری سے حل ہونا چاہیے۔ اگر مسئلہ فلسطین کا پر امن حل نہ نکالا گیا تو تیسری عالمی جنگ چھڑنے کا خطرہ ہے۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کا نتیجہ دنیا دیکھ چکی ہیے جاپان کے شہر وں ہیروشیما اور ناگا ساکی میں جو تباہی ہوی وہ دنیا کیلئے سبق آموز ہے ۔اس لیے بات چیت اور ڈپلومیسی سے اس مسئلے کا حل نکالنا چاہیے فلسطین کی آزاد ریاست کو تسلیم کرکے انہیں زندہ رہنے کا حق دیا جاے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے