بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Saturday, 27 June 2026 | پاکستان: 13 محرم 1448

بسنت اور پنجاب ۔۔۔!

Monday, 2 February, 2026

پنجاب کی فضا میں بہار کی آمد ہمیشہ رنگ، روشنی اور زندگی کی علامت رہی ہے۔ سرسوں کے کھیتوں کی زردی، ہلکی گرم دھوپ اور ہواں کی نرمی صدیوں سے اس خطے کے مزاج کا حصہ رہی ہے۔ انہی موسمی تبدیلیوں کے ساتھ ایک تہوار بسنت بھی جڑا رہا ہے۔ وقت کے ساتھ بسنت ایک سادہ موسمی خوشی سے نکل کر ایک بڑے عوامی میلے کی صورت اختیار کرگیا، پھر اس کے ساتھ ایسے عناصر شامل ہوئے جنہوں نے خوشی کو خطرے میں بدل دیا۔ دو دہائیوں پہلے پتنگ بازی پر پابندی اسی پس منظر میں لگی اور اب تقریبا پچیس برس بعد دوبارہ مشروط اجازت کا فیصلہ سامنے آیا ہے تو معاشرے میں بحث کا دروازہ بھی کھل گیا ہے۔ یہ بحث صرف ایک کھیل یا تہوار کی نہیں بلکہ اجتماعی ترجیحات، انسانی جان کی حرمت اور ثقافتی شناخت کی بھی ہے۔بسنت کی اصل جڑیں برصغیر کی قدیم زرعی تہذیب میں ملتی ہیں۔ جب سردیوں کی شدت کم ہوتی اور زمین نئی فصل کے استقبال میں تیار ہوتی تو لوگ فطرت کی اس تبدیلی کا جشن مناتے۔ زرد رنگ اس تہوار کی علامت بنا کیونکہ سرسوں کے پھول کھیتوں کو سنہری چادر اوڑھا دیتے تھے۔ لوگ زرد لباس پہنتے، موسیقی کی محفلیں سجتیں، کھانے پکوان بنتے اور کھلے میدانوں میں مختلف کھیل منعقد ہوتے۔ اس زمانے کی بسنت ایک سادہ، مقامی اور نسبتا محفوظ خوشی تھی۔لاہور اور پنجاب کے بعض شہروں میں بسنت نے شہری ثقافت کا حصہ بن کر ایک الگ رنگ اختیار کیا۔ چھتوں پر اجتماعات، رات بھر کی روشنیاں، موسیقی، ڈھول کی تھاپ اور پتنگوں کی جنگ نے اسے ایک بڑے تماشے میں بدل دیا۔ میڈیا کی توجہ اور تجارتی مفادات نے اس میلے کو مزید پھیلایا ۔ ہوٹلوں، ریستورانوں اور سیاحتی صنعت نے اسے کاروباری موقع بنا لیا۔ اسی مرحلے پر بسنت کی روح بدلنے لگی۔ خوشی کی جگہ مقابلہ، سادگی کی جگہ نمائش اور کھیل کی جگہ جنون نے لے لی۔ پتنگ بازی میں سب سے خطرناک تبدیلی ڈور کے مواد میں آئی۔ روایتی سوتی ڈور کی جگہ کیمیکل لگے مانجے، دھاتی تار، شیشہ پیس کر بنائی گئی تہیں اور غیر قانونی دھاگے استعمال ہونے لگے۔ مقصد صرف ایک رہا کہ مخالف کی پتنگ ہر صورت کاٹی جائے۔ اس اندھی دوڑ نے کھیل کو ہتھیار بنا دیا۔ موٹر سائیکل سوار گلے کٹنے سے جاں بحق ہوئے، بچے اور نوجوان چھتوں سے گر کر زخمی ہوئے، بجلی کی تاروں سے ٹکرا کر حادثات ہوئے، پرندے بڑی تعداد میں زخمی اور ہلاک ہوئے۔اسپتالوں کے ریکارڈ اور میڈیا رپورٹس اس تلخ حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ خوشی کا تہوار آہستہ آہستہ انسانی جان کیلئے خطرہ بنتا گیا۔2001کے بعد حکومت پنجاب نے بڑھتے ہوئے جانی نقصانات کے پیش نظر پتنگ بازی پر پابندی عائد کی۔ اس فیصلے پر اس وقت بھی دو رائے موجود تھیں۔ ایک طبقہ اسے ثقافت پر ضرب سمجھتا تھا اور دوسرا طبقہ اسے انسانی جان کے تحفظ کا ناگزیر قدم قرار دیتا تھا۔ وقت نے ثابت کیا کہ پابندی کے بعد بڑے پیمانے پر حادثات میں کمی آئی، اگرچہ غیر قانونی طور پر کہیں کہیں پتنگ بازی جاری رہی۔ قانون کی کمزور عملداری نے مکمل سدباب نہ ہونے دیا مگر مجموعی طور پر خطرناک رجحان میں کمی ضرور آئی۔اب جب تقریبا پچیس سال بعد دوبارہ مشروط اجازت کی بات ہورہی ہے تو یہ سوال محض روایت کی بحالی کا نہیں بلکہ ذمہ داری کے بوجھ کا بھی ہے۔ انسانی جان کی حرمت ہر تہوار، ہر روایت اور ہر ثقافتی سرگرمی سے بلند مقام رکھتی ہے۔ کوئی بھی حکومت اگر کسی ایسے کھیل یا سرگرمی کو دوبارہ فروغ دیتی ہے جس کی تاریخ جانی نقصان سے بھری ہوئی ہو تو اسے غیر معمولی حفاظتی انتظامات، سخت قانون نافذ کرنے اور مکمل نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں قانون پر عملدرآمد کا عمومی معیار کمزور رہا ہے، اس لیے خدشہ بڑھ جاتا ہے کہ مشروط اجازت جلد ہی بے قابو آزادی میں بدل سکتی ہے۔بسنت کو زندہ رکھنے کے لیے پتنگ بازی ہی واحد راستہ نہیں۔ پنجاب کی ثقافت کھیلوں، میلوں اور لوک سرگرمیوں سے بھری ہوئی ہے۔ کبڈی، رسہ کشی، نیزہ بازی، گھڑ دوڑ، بیل گاڑی دوڑ، لوک موسیقی کے مقابلے، دستکاری کی نمائشیں اور زرعی میلے زیادہ محفوظ اور بامعنی متبادل پیش کرتے ہیں۔ ان سرگرمیوں میں جسمانی صحت، ٹیم ورک، مقامی ہنر اور ثقافتی شعور کو فروغ ملتا ہے۔ اگر حکومت واقعی بہار کے موسم کا جشن منانا چاہتی ہے تو وہ ایسے کھیلوں اور سرگرمیوں کو قومی سطح پر اجاگر کرسکتی ہے جو نوجوانوں کو مثبت مصروفیت دیں اور کسی کی جان کو خطرے میں نہ ڈالیں۔بسنت کے ساتھ سرسوتی پوجا کا ذکر بھی تاریخی طور پر جڑا ہوا ہے۔ سرسوتی ہندو مت میں علم، فن اور دانائی کی دیوی سمجھی جاتی ہے۔ برصغیر کے بعض علاقوں میں بہار کے آغاز پر سرسوتی پوجا کی جاتی رہی ہے۔ تعلیمی اداروں، مندروں اور گھروں میں زرد رنگ کے کپڑے، پھول اور مٹھائیاں استعمال کی جاتیں اور علم و فن کی برکت کی دعا کی جاتی۔ اس روایت کا تعلق مذہبی عقیدت سے تھا جبکہ بسنت کا تہوار زیادہ تر موسمی اور ثقافتی خوشی کی علامت رہا۔ وقت کے ساتھ دونوں تقریبات بعض علاقوں میں ایک ہی موسم اور رنگ کی وجہ سے ایک دوسرے کے قریب سمجھی جانے لگیں حالانکہ ان کی مذہبی اور سماجی بنیادیں الگ الگ تھیں۔برصغیر کی تاریخ میں تہوار اکثر تہذیبی میل جول کا ذریعہ بھی رہے ہیں۔ مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے لوگ ایک دوسرے کی خوشیوں سے واقف ہوتے اور بعض رسومات میں شرکت بھی کرتے۔ یہ میل جول اپنی جگہ ایک سماجی حقیقت رہا ہے مگر ہر معاشرہ اپنی مذہبی اور ثقافتی شناخت کے مطابق حدود بھی قائم کرتا ہے۔ بسنت کو خالص موسمی اور ثقافتی جشن کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے جبکہ سرسوتی پوجا ایک مذہبی رسم کے طور پر اپنی الگ پہچان رکھتی ہے۔مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی تہوار اپنی اصل روح سے ہٹ کر نقصان کا ذریعہ بن جائے۔ پتنگ بازی کی جدید صورت میں یہی ہوا۔ مقابلہ بازی، شرطیں، خطرناک مانجا، ہوائی فائرنگ، چھتوں پر ہجوم اور رات بھر شور نے سماجی سکون بھی متاثر کیا۔ کئی علاقوں میں شہری زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ پولیس اور انتظامیہ پر اضافی دبا پڑا۔ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرنا پڑی۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ صرف ایک کھیل کا نہیں بلکہ اس کھیل کے اردگرد پیدا ہونے والے رویوں کا بھی ہے۔حکومت کا فرض صرف ثقافتی سرگرمیوں کی اجازت دینا نہیں بلکہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا بھی ہے۔ اگر کسی سرگرمی کی تاریخ مسلسل خطرات سے جڑی ہو تو احتیاط کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ اس کے متبادل تلاش کیے جائیں۔ دنیا کے کئی ممالک نے خطرناک کھیلوں اور سرگرمیوں پر پابندیاں لگائیں یا انہیں محدود کیا۔ ثقافت جامد شے نہیں بلکہ بدلتی ہوئی حقیقت ہے۔ جو روایت نقصان کا سبب بن جائے اسے بہتر شکل میں ڈھالنا ہی دانشمندی ہوتی ہے۔ پنجاب کی نئی نسل کو ایسے تہواروں کی ضرورت ہے جو انہیں صحت مند تفریح دیں، نہ کہ اسپتال کا راستہ دکھائیں۔ کھیل کے میدان آباد ہوں، مقامی کھیلوں کے مقابلے ہوں، دیہی ثقافت کو شہر تک لایا جائے، فنکاروں اور دستکاروں کو موقع دیا جائے، بہار کے میلوں کو تعلیمی اور خاندانی سرگرمی بنایا جائے۔ اس طرح بسنت کا موسم بھی زندہ رہے گا اور انسانی جان بھی محفوظ رہے گی۔بسنت کا حسن صرف پتنگ میں قید نہیں۔ بسنت فضا کی نرمی کا نام ہے، رنگوں کی واپسی کا نام ہے، زمین کی مسکراہٹ کا نام ہے۔ اگر ایک علامت خطرناک ہوگئی ہے تو اس کی جگہ نئی اور محفوظ علامت پیدا کی جاسکتی ہے۔ زندہ ثقافت وہی ہوتی ہے جو اپنی اصلاح کرتی ہے۔ ضد پر قائم رہنے والی روایت آخرکار بوجھ بن جاتی ہے ۔ پتنگ کی ڈور جب شیشے اور دھات سے مضبوط کی جاتی ہے تو وہ کھیل کی نہیں، زخم کی ڈور بن جاتی ہے۔ کسی تہوار کی کامیابی کا پیمانہ شور، ہجوم اور سنسنی نہیں بلکہ لوگوں کی سلامتی، خوشی اور سکون ہوتا ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *