

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے نئی جارحیت کے بارے میں بڑھتی ہوئی قیاس آرائیوں کے درمیان، وسیع تر مشرقِ وسطیٰ کے اہم مسلم ممالک اور یورپی طاقتوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ ایسی

انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل سٹریٹجک سٹڈیز کے زیر انتظام لندن میں سیمینار کے دوران بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم اور علاقائی بالادستی کی سوچ کو جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا۔ بھارت کی ہندوتوا پالیسی

وطن عزیز میں سوشل میڈیاکا استعمال جس تیز ی سے فروغ پذیر ہے وہ ایک طرف تو امید افزا ہے جبکہ دوسری جانب اس کے مضر اثرات سے بھی انکار ممکن نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ معلومات تک رسائی بہرکیف

تاریخ گواہ ہے کہ اشرف المخلوقات نے ہمیشہ اپنی خامیوں کو تقد یر کے کھاتے میں ڈالا ہے اور خوبیوں کو اپنی لازوال صلاحیتیں قرار دیا ہے۔ جدت اورشدت اس کی طبیعت اور تربیت کے بنیادی لوازمات رہے ہین ۔اسی

سوشل میڈیا جدید زندگی کا ایک لازمی جزو بن چکا ہے۔یہ لوگوں کو آپس میں جوڑتا ہے ، سیکھنے کے عمل میں سہولت فراہم کرتا ہے اور بچوں کو معلومات کی ایک وسیع دنیا تک رسائی دیتا ہے ۔ تاہم

ہے۔اسکے برعکس پاکستان کم شرح خواندگی، ناقص تعلیمی نتائج اور اسکولوں سے باہر بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد کے مسئلے سے دوچار ہے۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن اور یونیسکو کے اندازوں کے مطابق تقریبا 2 کروڑ 50 لاکھ بچے،

دُنیاکی نگاہیں ایک دفعہ پھرپاکستان پر مرکوز تھیں کہ جب پاکستان کی قیادت صدرمملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان آصف علی زرداری ،وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہباز شریف اورفیلڈمارشل ،آرمی چیف حافظ جنرل سیدعاصم منیرنے یادگارفتح کاافتتاح کیا اور پاکستان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسی کے تحت تارکینِ وطن کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری ہیں ۔ان کارروائیوں کے تحت امریکا سے 4 ہزار 800 سے زائد بھارتی شہریوں کو ملک بدر کیا جا چکا

وزیرِ داخلہ محسن نقوی تیزی سے ایک ایسے عملی اور متحرک رہنما کے طور پر سامنے آ رہے ہیں جو نتائج دینے کیلئے پُرعزم ہے۔قابلِ پیمائش بہتری،ادارہ جاتی اصلاحات اور کارکردگی پر مبنی کام کے طریقہ کار پر ان کا

ایک سوال ہوا،کیا پاکستان علی گڑھ کے لونڈوں کی سازش تھا؟اس سوال کو کبھی مولانا ابوالکلام آزاد سے منسوب کیا جاتا ہے تو کبھی جون ایلیا سے، درحقیقت یہ فقرہ کوئی علمی فیصلہ نہیں، ایک طعنہ ہے؛ اور طعنے کی