

ذریعے معاشی بحالی کا بحالی کا سلسلہ بھی شروع ہو سکتا ہے اور وہ قیمتی قومی وسائل جو دونوں ممالک فوجی تیاریوں اور اسلحہ کی خریداری پر صرف کر تے ہیں انہیں اپنے اپنے ملک میں غربت کے خاتمے اور

سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں طے پانے والے معاہدے کے بارے میں ثالث پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ معاہدے کو سبوتاثر کرنے والے بہت ہیں۔ امریکہ دراصل اسرائیل کے جال

گزشتہ سال معرکہ حق اورآپریشن بنیان مرصوص میں عبرتناک شکست کے بعدخطہ میں امن کے سب سے بڑے دُشمن ملک بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے، ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کی فراہمی روکنے اور بالائی علاقوں میں

یہ امر خصوصی توجہ کاحامل ہے کہ قوموں کی پہچان ان کے جغرافیے سے نہیں بلکہ ان کرداروں سے ہوتی ہے جو مشکل وقت میں تاریخ کا رخ موڑ دیتے ہیں۔ پاکستان کی سرزمین بھی ایسے ہی بے شمار بہادروں

مودی کے زیر اقتدار بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف جاری نفرت انگیز جرائم اور ریاستی ظلم و ستم نے بھارت کا نام نہاد سیکولر چہرہ دنیا کے سامنے مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے، جس سے

پاکستان کے قریبی ترین بین الاقوامی شراکت داروں میں ترکیہ کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔یہ تعلقات تاریخی بنیادوں پر استوار ہیں اور مشترکہ اقدار،اسٹریٹجک تعاون اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان پائے جانے والے مخلصانہ جذبات و محبت

امریکہ اور ایران کے درمیان فائرنگ کا تازہ ترین تبادلہ ہمیں ایک بار پھر یاد دلاتا ہے کہ جنگ بندی صرف دستخطوں سے نہیں بلکہ سیاسی تحمل سے بھی برقرار رہتی ہے۔آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی بحری جہاز کے خلاف

وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران کی قیادت کا پاکستان کے ثالث کے کردار پر اعتماد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد اپنی سفارتی کوششوں کو “دائمی امن کے حصول تک” جاری رکھے گا اور اس عزم

امریکہ ایران 60 دنوں کے اندر حتمی ڈیل کیلئے روڈ میپ پر متفق ہیں۔ تکنیکی سطح کے مذاکرات سوئٹزرلینڈ میں باقی ہفتے تک جاری رہیں گے۔امریکہ اور ایران آبنائے ہرمز میں واقعات سے بچنے کیلئے مواصلاتی لائن قائم کرنے پر

امریکہ اور ایران کے درمیان ابتدائی معاہدے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ایرانی ہم منصب مسعود پیزشکیان نے الیکٹرانک طور پر دستخط کیے ہیں اور وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے بطور ثالث اس کی توثیق کی ہے۔