

سوشل میڈیا جدید زندگی کا ایک لازمی جزو بن چکا ہے۔یہ لوگوں کو آپس میں جوڑتا ہے ، سیکھنے کے عمل میں سہولت فراہم کرتا ہے اور بچوں کو معلومات کی ایک وسیع دنیا تک رسائی دیتا ہے ۔ تاہم

ہے۔اسکے برعکس پاکستان کم شرح خواندگی، ناقص تعلیمی نتائج اور اسکولوں سے باہر بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد کے مسئلے سے دوچار ہے۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن اور یونیسکو کے اندازوں کے مطابق تقریبا 2 کروڑ 50 لاکھ بچے،

دُنیاکی نگاہیں ایک دفعہ پھرپاکستان پر مرکوز تھیں کہ جب پاکستان کی قیادت صدرمملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان آصف علی زرداری ،وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہباز شریف اورفیلڈمارشل ،آرمی چیف حافظ جنرل سیدعاصم منیرنے یادگارفتح کاافتتاح کیا اور پاکستان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسی کے تحت تارکینِ وطن کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری ہیں ۔ان کارروائیوں کے تحت امریکا سے 4 ہزار 800 سے زائد بھارتی شہریوں کو ملک بدر کیا جا چکا

وزیرِ داخلہ محسن نقوی تیزی سے ایک ایسے عملی اور متحرک رہنما کے طور پر سامنے آ رہے ہیں جو نتائج دینے کیلئے پُرعزم ہے۔قابلِ پیمائش بہتری،ادارہ جاتی اصلاحات اور کارکردگی پر مبنی کام کے طریقہ کار پر ان کا

ایک سوال ہوا،کیا پاکستان علی گڑھ کے لونڈوں کی سازش تھا؟اس سوال کو کبھی مولانا ابوالکلام آزاد سے منسوب کیا جاتا ہے تو کبھی جون ایلیا سے، درحقیقت یہ فقرہ کوئی علمی فیصلہ نہیں، ایک طعنہ ہے؛ اور طعنے کی
بھارت میں برسرِاقتدار بی جے پی کی ہندوتوا قیادت مسلمانوں کی مذہبی اور ثقافتی شناخت کو یمٹانے پر تل گئی، بھارتی ریاست اترپردیش کے تاریخی شہر وارانسی میں واقع 1000 سال قدیم “گنجِ شہیداں” مسجد کو مسمار کرنے کا نوٹس

فلسطینیوں کو کھلم کھلا جانور نہیں کہا۔سن ساٹھ کی دھائی میں تب کے وزیر دفاع موشے دیان نے فلسطینیوں کو”تتیا” اور”کتا” بتایا۔ انیس سو اسی کے عشرے میں اسرائیل وزیر اعظم مینم بیگن نے اعلان کیاکہ فلسطینی در اصل دو

جشن آزادی منانا یا نہ منانا نزاعی مسئلہ نہ تھا کہ جس پر بحث، گرفت، تنقید یا تحسین کی جاتی مگر موجودہ حالات میں اس پر تکنیکی و فنی بات چیت اس لیے لازم ٹھہری کہ یہ سوچ لاکھوں قربانیوں،

وقت ختم ہو جائے تو مزید پیسے، غلط جگہ کھڑی ہو جائے تو جرمانہ۔ دبئی کی سمارٹ پارکنگ اور سالک کے ذریعے پارکنگ کی ادائیگی کا نظام واقعی جدید ہے، لیکن جدید نظام کا مقصد یہ بھی ہونا چاہیے کہ