بارہ سال بعد پنجاب میں بسنت کا تہوار خوشیوں کی بہار بن کر لوٹ آیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کی ہدایت پر وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف نے زندہ دلان لاہور کو خاص طورپر اور رنگا رنگ ثقافتوں کے امین پنجاب کو عام طورپر یہ تحفہ دیا ہے۔ ایک عرصہ سے پنجاب پر گلے پر ڈور پھرنے سے جس دہشت کا راج تھا، اس ایک فیصلے نے خوف کے اُس ماحول کو دور کردیا ہے۔ وزیراعلی پنجاب نے محفوظ بسنت منانے کے لئے جو انتظامات کئے ہیں، شاید پاکستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کے منفرد ہی نہیں، مثال بھی کہے جاسکتے ہیں۔ مفت سرکاری بس سروس کی فراہمی، چھ ، سات اور آٹھ فروری کو حفاظتی انتظامات اور طے شدہ طریقہ کار کے مطابق پتنگ بازی کے اقدامات، انسانی حد تک ایسی کوشش ہے جس کا بنیادی مقصد کسی بھی انسانی جان کو نقصان سے بچانا ہے۔پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ ایکٹ آرڈیننس2025 کے تحت بسنت کو محفوظ اور خوشگوار بنانے کی کاوش کی گئی ہے۔ڈور اور گڈے کا سائز بھی طے کردیا گیا ہے جبکہ پتنگ بازی کے لئے خطرناک ڈور، دھاتی تار، نائلون، کیمیکل اور شیشہ لگے مانجھے کے استعمال اور خریدوفروخت پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔موٹرسائیکل سواروں کیلئے سیفٹی راڈز لگانا لازم قرار دیاگیا ہے۔ صرف اُن چھتوں پر پتنگ بازی ہوسکے گی جن کیلئے متعین کردہ شرائط کی تکمیل پر ضلعی انتظامیہ نے ‘این او سی’ جاری کیا ہوگا۔ چھتوں کی اسی مانگ نے لاہوریوں کو دیہاڑی لگانے کا بھی موقع دے دیا ہے۔ خبریں آرہی ہیں کہ دو لاکھ روپے سے لے کر دس لاکھ روپے تک چھتیں فروخت ہورہی ہیں۔ ڈھول بجانے اور رقص کرنے والوں سے لے کر پھول فروخت کرنے والے، پتنگ ساز اور ڈور بنانے والے سب ہی وزیراعلی مریم نوازشریف کی تعریفیں کررہے ہیں۔ دہشت گردی سے لہو لہو ہوجانے والے پاکستان کے باسی طویل عرصے سے خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور رہے ہیں۔ معاشی مشکلات، مہنگائی اور بے روزگاری نے اُن کی خوشیوں کے چہرے زرد کردئیے تھے۔ پنجاب ماضی سے غلّے کی پٹاری یا اناج گھر کے طورپر خوش حالی کا مرکز رہا ہے۔ پانچ دریائوں کی یہ دھرتی صوفیاء کرام کی لوک شاعری ، اُسے گانے والے لوک فنکاروں کی نغمگی ، ایک تارے اور دو تارے کی منفرد سرگم، میلوں ٹھیلوں کی چہل پہل، بیلوں کے مقابلوں، نیزہ بازی، کشتی ، کبڈی، پتلی تماشوں سے جانی پہچانی جاتی تھی۔ بدامنی ، ماحول میں گھلتے زہریلے دھوئیں اورسموگ نے لاہور کے رنگ اور لاہوریوں کے دل کی دھڑکنیں چھین لی تھیں۔ اچھی بات تو یہ ہے کہ پنجاب کا رنگ بدلا ہے۔ لاہور __ لاہور اے ، کی صدا پھر سے سنائی دے رہی ہے۔ لیکن جس وقت پنجاب میں انتظامی اقدامات اور حکومتی کارکردگی سے پاکستان میں ایک نئی مثال بنتی دکھائی دے رہی ہے، وہیںایسے واقعات بھی رونما ہورہے ہیں جو بسنت کی آمد پر دلوں اور چہروں پر آنے والی خوشی کو ماند کرگئی ہے۔ ایسا ہی واقعہ بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی ہے جس نے پورے پاکستان کو ہی مغموم کردیا ہے۔ اگرچہ بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے 145 دہشت گردوں کو پاکستان کی بہادر سکیورٹی فورسز نے اپنے لہو کے قیمتی نذرانے دے کر ناکام بنادیا ہے جس میں 17سکیورٹی کے جوان اور 31 شہری بھی شامل ہیں، لیکن اس نے اہل پنجاب کے دِل پر بھی گہرا زخم لگایا ہے۔ دہشت گردوں نے خواتین اور بچوں کو بھی بے دردی اور سفاکی سے نشانہ بنایا۔ یقینا یہ واقعہ ہر پاکستانی کے دِل کو تڑپا گیا ہے۔ بھارت معرکہ حق کے بعد سے اپنی عالمی رسوائی کے داغ پر تلملایا ہوا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت اور خاص طورپر وزیراعظم مودی کی زخمی انا پر سات رافیل طیاروں کے مارگرائے جانے کا بیان نمک کی صورت چھڑکتے رہتے ہیں۔ میدان جنگ میں پاکستانی شیروں اور شاہینوں کے ہاتھوں عبرتناک شکست کھانے والا بھارت دہشت گردوں کے ذریعے پاکستان پر ایک نئی جنگ مسلط کرچکا ہے۔ ایک دِل خراش پہلوسیاسی منظر نامے پر جاری ”پتنگ بازی” بھی ہے۔ پی ٹی آئی جو صوبہ خیبرپختون خوا میں گزشتہ 13 برس سے اقتدار میں ہے اور چار سال وفاق میں حکومت کرچکی ہے، آج بھی سینٹ، قومی اسمبلی اور دیگر اسمبلیوں میں اس کی قابل لحاظ تعداد موجود ہے۔ قومی اسمبلی اور سینٹ میں اپوزیشن لیڈر بھی پی ٹی آئی کے بانی کی مرضی کے مطابق مقرر ہوچکے ہیں۔ وزیراعظم شہبازشریف کی بار بار کی مذاکرات کی پیشکش اور سینٹ وقومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرز کی تقرری میں رکاوٹ نہ ڈالنے کے اقدام کی تمام معتبر، سنجیدہ اور صاحب الرائے کالم نگاروں، تجزیہ نگاروں اور عمومی طورپر عوام کی طرف سے پزیرائی کی گئی ہے۔ اسے سیاسی منظر نامے کی فضا کو بہتر بنانے کی کوشش کے طورپر تسلیم کیاگیا۔ پنجاب اور سندھ میں وزیراعلی خیبرپختون خوا اور ان کے ساتھی دورے کرچکے ہیں۔ تحریک تحفظ آئین کے راہنما بھی پنجاب کے دورے کرآئے ہیں۔ لیکن حکومتی خیرسگالی کا جواب پی ٹی آئی اور اپوزیشن لیڈرز کی طرف سے اب تک دیکھنے میں نہیں آیا۔ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ یہ محاورہ ہم بچپن سے پڑھتے اور سنتے آرہے ہیں۔ سیاسی فضا کو بہتر بنانے کی ذمہ داری جتنی حکومت کی ہے، اتنی ہی اپوزیشن کی بھی ہے کیونکہ دونوں مل کر ہی پارلیمنٹ، جمہوری نظام اور حکومتی نظام کی تکمیل کرتے ہیں۔دونوں کا وجود ایک دوسرے کے بنا نامکمل رہتا ہے۔ دونوں کا باہمی تعاون ہی نظام ِحکومت چلانے اور عوامی مسائل کے حل کی راہ نکالنے کو یقینی بناتا ہے۔ کیا مناسب نہیں ہوگا کہ بلوچستان کے واقعہ کے بعد پی ٹی آئی 8 فروری کے اپنے احتجاج کومنسوخ کردے اور شہداء کے ساتھ یک جہتی کرے۔ پنجاب حکومت اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے لئے بھی مناسب ہوگا اگر وہ بسنت کی تاریخ بدل دیں۔ لہو رنگ ماحول میں بسنت اور سیاسی رنگ ، ایک پاکستانی کے طورپر شاید اچھا پیغام نہیں ہوگا۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں