گزشتہ 48 گھنٹوں میں پاکستان کے اندر پٹرول کی قیمتیں بین الاقوامی حالات کی اڑ میں بڑھا کر پاکستان میں موجود غربت مہنگائی پریشانی مسائل بے روزگاری وسائل کی قلت بیماری اور ذلت و رسوائی کی د لد ل میں دھنسی ہوئی عوام کیلییاپنی سیاسی تربیت۔ طبیعت۔ نیت اور حب الوطنی بے لوث خدمت بے خوف قیادت اور عوامی رفاہی فلاحی خدمت کا اپنے تئیں پردہ چاک کر کے ایک اور تاریخ ساز کارنامہ سر انجام د ے کر پاکستانی ہونے کا اپنی طرف سے بہت ہی پیارا پاکستانیوں کو تحفہ پیش کر کے دکھا دیا جب کہ پاکستان کے نامور صحافی حامد میر کے مطابق حالت جنگ میں بھی حرمت بندرگاہ سے پاکستانی ائل ٹینکرز بلا روک ٹوک ا رہے ہیں جس وجہ سے پاکستانی عوام پر پٹرول بم گرانا سمجھ سے بالاتر ہے ۔لیکن ہمارے کچھ ارباب اختیار و اقتدار عوامی استحصال اور مسائل میں دن بدن اضافہ کرنا اپنا نصب العین بنائے ہوئے ہیں جبکہ پاکستانی حکمران اس بات پر غور کرنے کو تیار ہی نہیں ہیں کہ اس وقت مشرق وسطی کی آگ صرف بارود نہیں ایک نئے نظام کی پیدائش کی طرف بڑھ رہی ہے
یہ کوئی عام جنگ نہیں ہے یہ وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ اپنا رخ بدل رہی ہے جہاں گولیوں کی آواز کے پیچھے ایک پورا عالمی نقشہ ازسرنو ترتیب پا رہا ہے یہ صرف ایران اسرائیل اور امریکہ کی کشمکش نہیں بلکہ ایک ایسے عہد کا آغاز ہے جو پرانے عالمی نظام کو توڑ کر ایک نئی حقیقت کو جنم دے رہا ہے یہ جنگ اچانک نہیں یہ ایک مسلسل زنجیر ہے یہ تصادم کسی ایک دن یا ایک حملے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل جیوپولیٹیکل سلسلے کی کڑی ہے غزہ کی آگ نے جس چنگاری کو بھڑکایا وہ دیکھتے ہی دیکھتے پورے خطے میں پھیل گئی لبنان سے یمن تک شام سے خلیج تک ہر محاذ ایک دوسرے سے جڑ گیا یہ کوئی سنگل واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل ردعمل ہے ایک ایسا چین ری ایکشن جس نے پورے مشرق وسطی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
یہ جنگ اب ملٹی فرنٹ ریجنل وار بن چکی ہے یہاں صرف ریاستیں نہیں لڑ رہیں بلکہ پراکسی قوتیں بھی میدان میں ہیں حزب اللہ حوثی اور دیگر مزاحمتی گروہ اس جنگ کو کئی محاذوں پر پھیلا چکے ہیں اب یہ جنگ سرحدوں کی پابند نہیں رہی بلکہ نظریات اور اثر و رسوخ کی جنگ بن چکی ہے چند ہی دنوں میں کروڑوں انسان اس کی زد میں آ سکتے ہیں اور پورا خطہ ایک آتش فشاں کے دہانے پر کھڑا ہے پرانا نظام ٹوٹ رہا ہے نیا نظام جنم لے رہا ہے وہ دور ختم ہو رہا ہے جہاں امریکہ کی بالادستی اور محدود پراکسی جنگیں عالمی ترتیب کو کنٹرول کرتی تھیں اب ایک نیا منظرنامہ ابھر رہا ہے جہاں روس چین اور دیگر طاقتیں بھی اس کھیل کا حصہ بن چکی ہیں طاقت کا توازن لمحہ بہ لمحہ بدل رہا ہے اور دنیا ایک نئے علاقائی اور عالمی آرڈر کی طرف بڑھ رہی ہے یہ جنگ صرف فتح کی نہیں نظام کی تشکیل کی جنگ ہے اصل سوال یہ نہیں کہ کون جیتے گا اصل سوال یہ ہے کہ جنگ کے بعد دنیا کیسی ہوگی یہ وہ نئی جہت ہے جہاں جنگ میدان تک محدود نہیں بلکہ پورے نظام کو بدل رہی ہے یہ ایک سسٹم شیپنگ ایونٹ ہے جو آنے والی نسلوں کی تقدیر لکھ رہا ہے۔
امریکہ کا کردار بدل چکا ہے پہلے وہ پس پردہ کھلاڑی تھا آج وہ براہ راست میدان میں ہے اس کی فوجی موجودگی پابندیاں اور اسٹریٹیجک دبا اس جنگ کو نئی سطح پر لے جا رہے ہیں دوسری طرف ایران کو روکنا اب ممکن نظر نہیں آتا ایران نہ صرف مزاحمت کر رہا ہے بلکہ خود کو ایک نظریاتی قوت کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
ایران کا مزاحمتی محور ایک حقیقت بن چکا ہے لبنان شام عراق اور فلسطین میں ایران کا اثر بڑھ رہا ہے وہ اس جنگ کو صرف دفاع نہیں بلکہ نظریاتی بقا کی جنگ سمجھتا ہے اس کے اتحادی اس کے بازو بن چکے ہیں اور یہ پورا محاذ ایک نئی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے اسرائیل کی پالیسیوں نے آگ کو بھڑکایا مسلسل فوجی کارروائیاں اور جارحانہ حکمت عملیاں خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہیں غزہ سے لے کر دیگر علاقوں تک جاری آپریشنز نے نفرت اور ردعمل کی ایک نئی لہر کو جنم دیا ہے جس نے اس جنگ کو مزید پیچیدہ اور خطرناک بنا دیا ہے دنیا دو حصوں میں بٹ رہی ہے ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادی ہیں دوسری طرف وہ قوتیں ہیں جو اس بیانیے کو چیلنج کر رہی ہیں عالمی سیاست ایک نئی تقسیم کا شکار ہو رہی ہے جہاں ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق صف بندی کر رہا ہے انسانی المیہ اپنے عروج پر ہے یہ جنگ صرف ہتھیاروں کی نہیں انسانیت کی بھی جنگ ہے لاکھوں لوگ متاثر ہو رہے ہیں بنیادی سہولیات تباہ ہو رہی ہیں اور ایک بڑا انسانی بحران جنم لے رہا ہے اگر یہ آگ نہ رکی تو اس کے شعلے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
یہ طاقت نظریہ اور مستقبل کی جنگ ہے یہ براہ راست ٹینکوں اور میزائلوں کی جنگ نہیں بلکہ اثر و رسوخ نظریات اور خطے کے مستقبل کی جنگ ہے ایران پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں امریکہ اپنی گرفت چھوڑنے کو تیار نہیں اور اسرائیل اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کو تیار نہیں۔
فیصلہ میدان میں نہیں تاریخ میں ہوگا یہ جنگ اس سوال کا جواب نہیں دے گی کہ کون جیتا بلکہ یہ طے کرے گی کہ آنے والی دنیا کیسی ہوگی ایک ایسی دنیا جہاں طاقت کا توازن نئے سرے سے لکھا جائے گا اتحاد بدل جائیں گے دشمنیاں نئی شکل اختیار کریں گی یہ صرف جنگ نہیں ایک نئے عہد کی دستک ہے مشرق وسطی ایک بار پھر تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہر گولی ہر دھماکہ اور ہر فیصلہ آنے والے کل کی بنیاد رکھ رہا ہے یہ آگ اگر بجھی نہیں تو صرف خطہ نہیں پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آ سکتی ہے یہ لمحہ فیصلہ کن ہے یا تو دنیا ایک نئے توازن کی طرف بڑھے گی یا ایک ایسی تباہی کی طرف جہاں جیتنے والا کوئی نہیں ہوگا ۔میرے صحافتی تجزیے کے مطابق اگر پاکستانی حکمرانوں نے ان بیںن اقوامی حالات سے کچھ سبق نہ سیکھا تو ان کی بھی داستان نہ ہوگی داستانوں میں ۔
کالم
بین الاقوامی حالات پیٹرول اور پاکستان
- by web desk
- اپریل 5, 2026
- 0 Comments
- Less than a minute
- 53 Views
- 1 مہینہ ago

