بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Friday, 19 June 2026 | پاکستان: 4 محرم 1448

صحت مند پاکستان کے بغیر ترقی کا خواب دیکھنا ٹھیک نہیں فٹنس ٹرینیئر علی رضا ٹی جی آئی

Tuesday, 4 October, 2022

پاکستان میں باصلاحیت لوگوں کی کبھی بھی کمی نہیں رہی اور نہایت محدود وسائل رکھنے کے باوجود باصلاحیت نوجوانوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا پوری دنیا سے منوایا، شعبہ تعلیم کا ہو، صحت کا ہویا کھیل کا ہو ہرجگہ پاکستانی نوجوان ہر اپنی انفرادیت کو برقرار رکھتے ہیں، قیام پاکستان سے لیکر اب تک دنیا بھر میں پاکستان کی شہرت کھیلوں کی وجہ سے ہوا کرتی تھی، ہاکی کے میدان میں پاکستان نے چیمپئن ٹرافی، ورلڈ کپ اور اولمپکس میں پہلی پوزیشنیں حاصل کرکے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، اسی طرح کرکٹ کے میدان میں ورلڈ کپ جیت کر لائے، سکواش میں پاکستانی کھلاڑیوں کا توڑ ابھی تک دنیا میں نہیں ڈھونڈا جاسکا، تیراکی، فٹ بال، والی بال، باسکٹ بال، سنوکر میں بھی پاکستانی کھلاڑی کسی سے کم نہیں، جب پاکستان عالمی مقابلے جیتتا ہے اور پہلی پوزیشن حاصل کرتا ہے تو گراؤنڈ میں نہ صرف پاکستان کا قومی ترانہ بجایا جاتا ہے بلکہ قومی پرچم کو بھی پوری دنیا کے سامنے سربلند کیا جاتا ہے مگر شاید یہ بات بہت لوگ جانتے ہیں کہ کھلاڑیوں کو اس مقام تک پہنچانے کیلئے کس قدر محنت، مشقت اور جدوجہد کرنا پڑتی ہے اور اس مقام تک لانے کا سہرا صرف اور صرف ان کے فٹنس کوچ اور ٹرینیئر کو جاتا ہے کیونکہ جسمانی فٹنس کے بغیر کسی بھی شعبے میں کامیابی کا حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے، فزیکل فٹنس کے کوچ اور ٹرینیئر ان کھلاڑیوں کو ایک ماہر استاد کی طرح تیار کرتے ہیں اور ان کی خوراک، آرام اور سونے جاگنے کے اوقات کا تعین کرتے ہیں، بسا اوقات یہ ٹرینیئر اپنے شاگرد کھلاڑیوں کے ساتھ نہایت سخت گیر رویہ بھی اختیار کرتے ہیں مگر جب یہی کھلاڑی گراؤنڈ میں اتر کر اپنے ملک کا نام سربلند کرنے کی جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں تو ان لمحات میں ان کی فٹنس ٹرینئر کی حالت دیکھنے کی لائق ہوتی ہے اور جب پاکستان کا قومی پرچم سربلند ہورہا ہوتا ہے تو یہی فٹنس ٹرینئر اپنے شاگرد وں کو گلے لگاکر داد دے رہے ہوتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے اشکوں کے سیلاب رواں ہوتے ہیں، یہ آنسو خوشی کے ہوتے ہیں جو وطن کی کامیابی کا اعلان ہوتے ہی آنکھوں سے چھلک پڑتے ہیں، آج ایسے ہی ایک فٹنس کوچ کی ملاقات ہم آپ سے کروارہے ہیں جنہوں نے پاکستان ایئر فورس کے کئی اعلیٰ افسران سمیت ایف 16کے پائلٹوں کو جسمانی تربیت مہیا کی، ان کا نام ہے علی رضا ٹی جی آئی، ان کا بنیادی تعلق فیصل آباد شہر کے ایک راجپوت گھرانے سے ہیں، ان کے والد محترم محمد افتخار زرگری کے پیشے سے وابستہ ہیں اور انہوں نے کبھی بھی علی رضا کی خواہش کے سامنے رکاوٹ بننے کی کوشش نہیں کی، یہی وجہ ہے کہ آج علی رضا نہ صرف اپنے شہر، اپنے قبیلے بلکہ پورے ملک کے لئے قابل فخر کہلاتا ہے، وہ اپنی اس کامیابیوں کا تمام کریڈیٹ اپنے والد محترم محمد افتخار کو دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میرے اس مقام تک پہنچے کا تمام تر سہرہ میرے والد کے سر ہے کہ اگر وہ میرے شوق کے راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں اور میری حوصلہ افزائی نہ کرتے تو شاید میں آج اس مقام پر نہ ہوتابلکہ کسی سونے کی دکان پر بیٹھ کر زیورات کی تیاری کا کام کررہا ہوتا، علی رضا ورلڈ بینک،پاکستان ایئر فورس اور پاکستان سپورٹس بورڈ کے کئی اعلیٰ افسران کو فٹنس ٹریننگ دے چکا ہے، عالمی شہرت یافتہ باکسر عثمان وزیر اور اس کی ٹیم جس میں پندرہ دیگر بچے شامل ہیں او ر سابق وفاقی وزیر شہریار آفریدی بھی ان کے شاگردوں میں شامل ہوتے ہیں، گزشتہ دنوں اسلام آباد کے ایک فٹنس جم میں علی رضا سے ملاقات ہوئی جسمیں روزنامہ پاکستان نے ان سے دریافت کیا کہ ایک عام آدمی کو اپنی صحت کو برقرار رکھنے کیلئے کیا کرنا چاہیے تو انہوں نے جواب دیا کہ ہماری صحت کو قائم رکھنے میں پینے کا صاف پانی اور صاف ستھری قدرتی غذا کا عمل دخل ہے، اس لئے اس کا بنیادی اور خصوصی خیال رکھنا چایئے، انہوں نے کہا کہ ایک عام انسان کو روزانہ کم از کم دس گلاس پانی ضرور پینا چاہیے کیونکہ پانی گردوں کی صفائی کرتا ہے، ان کو فعال رکھتا ہے اور انسانی خون کی صفائی کا عمل سرانجام دیتا ہے اگر گردے صحیح طور پر کام کرے تو انسان کے خون سے تمام فاسد مادے نکل جاتے ہیں اور انسان کے چہرے پر صالح خون کی جھلک واضح اور صاف دکھائی دیتی ہے، اپنے کیرئیر کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ 2018سے لیکر 2019تک انہوں نے ورلڈ بینک کے افسران کو تربیت فراہم کی، اس کے ساتھ ساتھ وہ ایئر فورس کے ساتھ منسلک رہے جہاں انہوں نے پاکستان ایئر فورس کے جانباز پائلٹس کی فٹنس ٹریننگ کا فریضہ سرانجام دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان میں افی 16کے پائلٹس بھی شامل تھے، ایئر فورس کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ یہ وطن اور اس کی افواج اسکا پہلا اور آخری عشق ہیں اور جب میں افسران کو ٹریننگ دینے کے بعد اپنی رہائش گاہ پر واپس آتا تھا تو مجھے اتنا ہی روحانی سکون ملتا تھا جتنا کہ مجھے اللہ کی عبادت کرکے ملا کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان کے یہ بہادر بیٹے مادر وطن کی دفاع کیلئے اپنے آپ کو ہمہ وقت تیار رکھتے ہیں اور مجھے اللہ پاک نے یہ اعزاز دیا کہ ان دھرتی کے بیٹوں کی فزیکل فٹنس اور تربیت کی ذمے داری میرے حصے میں آئی۔ایک سوال کے جواب میں علی رضا نے بتایا کہ فزیکل فٹنس کیلئے اچھی اور گہری نیند کا لینا بھی ضروری ہے کیونکہ اگر نیندیں بے رفت ہوجائے تو اس سے اعصاب کے خلیے تھوڑ پھوڑ کا شکا ر ہوجاتی ہے، جسم کو پوری طرح آرام میسر نہیں آتا اور انسان ہر وقت تھکاوٹ کا شکار رہتا ہے،خوراک کے حوالے سے کئے جانے والے ایک سوال کے جواب میں علی رضا نے کہا کہ ایک عام آدمی کوروزانہ دودھ کا ایگ گلاس پینا چاہیے کیونکہ دودھ میں کیلشم ہوتا ہے جو انسانی ہڈیوں کیلئے مفید ہے، اس کے ساتھ ساتھ تازہ گوشت کو اپنی خوراک کا حصہ بنانا چاہیے، اس کے علاوہ سردیوں میں اپنی خوراک میں مچھلی کو بھی لازمی جز بنانا چاہیے، انہوں نے مزید بتایا کہ تازہ سبزیاں، تازہ پھل بھی انسان کیلئے بے حد ضروری ہے مگر ایک بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ سبزیوں کو آگ پر بھوننے یا گھی میں تلنے کی بجائے ابال کر کھایا جائے تو اس کے فوائد جسم کیلئے زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ اس سے وٹامنزجلتے نہیں بلکہ برقرار رکھتے ہیں اور انسانی جسم جاکر خون پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ایک نارمل آدمی کو روزانہ آدھا گھنٹہ یا ایک کلو میٹر تک واک کرنا چاہیے اور اس دوران اس کے جسم سے پسینے کا اخراج ہونا چاہیے کیونکہ پسینہ بھی جسم سے گندے اور فاسد مادوں کے اخراج کا سبب بنتا ہے۔ اس کے علاوہ صبح نماز فجر کے بعد 15منٹ تک ننگے پاؤں گھاس پر پیدل چلنا چاہیے یہ عمل فطرت نے انسانی نظر اور اعصاب کو مظبوط بنانے کیلئے رکھا ہے، اس کے ساتھ ساتھ اپنی خوراک میں روزانہ ایک سیب کا استعمال باقاعدگی سے کرنا چاہیے جبکہ دودھ، دہی ابلے ہوئے انڈے بھی ضرور استعمال کرنے چاہیے جبکہ عصر کے اوقات میں بھنے ہوئے چنے اگر میسر ہو تو اس کا کوئی ثانی ہے، انہوں نے کہا کہ آج کل جوانوں میں معدہ کے امراض پیدا ہوچکے ہیں جس کی بنیادی وجہ ان کی سستی، کاہلی اور موبائل و ٹیبلٹ کا زیادہ استعمال کرنا ہے، اگر نوجوان اس سے گریز کریں تو بہت ساری بیماریوں سے بچ سکتے ہیں، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں موبائل فون گردن اور ریڑھ کی ہڈی کے زیادہ امراض پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ان چیزوں کااستعمال ذہنی خلیوں کی تباہی اور نظر کی کمزوری کا باعث بھی بن رہا ہے، اگر یہ نوجوان روزانہ ایک رکوع قرآن پاک باقاعدگی سے پڑھ لیں تو نہ صرف ان کی نظر میں تیزی آئے گی بلکہ ان کی روحانی تربیت کا باعث بھی بنے گی، اسلام آباد پولیس کے حوالے پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں علی رضا نے نہایت دلچسپ جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت سب سے زیادہ فٹنس کی ضرورت اسلام آباد ٹریفک پولیس کے جوانوں کو ہے کیونکہ یہ کئی کئی گھنٹے لگاتار کھڑے ہوکر ڈیوٹی کرتے ہیں اور اکثر اوقات شدید گرمی اور دھوپ میں ان کی ڈیوٹی ہوا کرتی ہے، چوک میں کھڑے ہوکر ڈیوٹی دینے سے یہ روزانہ ایک پاؤ کے قریب خاک اپنے جسم کے اندر منتقل کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ قبل ازوقت موت کے منہ میں چلے جارہے ہیں اس حوالے سے وزارت داخلہ اور اسلا آباد پولیس کے انسپکٹر جنرل کو خصوصی طور پر نوٹس لینا چاہیے اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا چاہیے تاہم احتیاطی تدابیر کے طور پر اسلام آباد ٹریفک پولیس کے جوانوں کو چاہیے کہ وہ دن میں کم ازم کم پندرہ گلاس پانی پیئے اور ماسک کا استعمال باقاعدگی سے کرے اور اعصابی تناؤ سے بچنے کی کوشش کرے، ان کا کہنا تھا کہ پولیس فورس معاشرے میں امن و امان کو برقرار رکھتے ہوئے بنیادی کردار اداکرتی ہے اس لئے اس میں چڑ چڑاپن، شوگر اور بلڈپریشر کے امراض پیدا ہونا شروع جائے تو پھر یہ اپنے منصب کے ساتھ اور عوام کے ساتھ صحیح طور پر انصاف نہیں کر پائیں گے اس لئے ان کا صحت مند رہنا صحت مند معاشرے کیلئے بے حد ضروری ہے، ایک اور سوال کے جواب میں علی رضا نے کہا کہ اسلام آباد کے شہری خوش نصیب ہے کہ جنہیں ہر سیکٹر میں کئی پارکس میسر ہیں مگر افسوس اس بات ہے کہ وہ ان کا استعمال نہیں کرتے، انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک میں شہری اپنی فیملیوں کے ساتھ ان پارکوں کا رخ کرتے ہیں اور وہاں بیٹھ کر ہلکی پلکی ورزش یا چھوٹی موٹی گیم کر لیتے ہیں جس کی بنیاد پر وہ صحت مند زندگی اور لمبی عمر پاتے ہیں، انہوں نے کہ وہ پاکستان سپورٹس بورڈ اور دیگر اداروں کے تعاو ن سے وفاقی دارالحکومت کے نوجوانوں کی فزیکل فٹنس کیلئے اکیڈمی بنانا چاہتے ہیں جہاں پر آنے والے نوجوانوں اچھی صحت ارو زندگی کے اصول گزارنے کی تربیت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں، اس حوالے سے وہ عنقریب وفاقی وزیر برائے بین الاصوبائی رابطہ، چیئر مین سی ڈی اے اور دیگر محکموں کے سربراہوں سے ملاقات کریں گے، انہوں کہا کہ پاکستان کا مستقبل صحت منداور توانا نوجوانوں کے ساتھ وابستہ ہیں اگر ہمارے معاشرے میں بیماریاں تسلسل کے ساتھ پھیلتی رہیں اور صحت مند زندگی گزارنے کے اصولوں پر عمل نہ کیا گیا تو پھر ہم اقوام عالم میں اپنا الگ تشخص اور الگ پہچان کو کیسے برقرار رکھ پائیں گے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *