اسلام آباد: یونان کشتی حادثے میں پاکستانیوں کی ہلاکت کے حوالے سے حکومت پاکستان نے 78میتیوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ وزیر اعظم کی ہدایت پر وزارت داخلہ میں کنٹرول سیل قائم کردیا۔حکومت نے ڈی این اے کے لیے کوآرڈینشن سیل بنانے کی ہدایت جاری کردی، جس میں وزارت داخلہ،وزارت خارجہ، وزارت صحت،وزارت اورسیز پاکستانی اورایف آئی اے کے نمائندہ شامل ہونگے۔یہ سیل بدقسمت کشتی کے مسافروں کے رشتہ داروں کے ڈی این اے سیمپل اکٹھے کرے گا۔ اسلام آباد اور آزادکشمیر سمیت جہاں ضروری ہوا کیمپ آفس قائم کیے جائیں گے۔ڈی این اے کے نمونہ جات کے لیے جگہوں کا تعین کرکے لواحقین کو اطلاع دی جائے گی۔ یونان میں پاکستانی سفارتخانے کی مشاورت سے ڈی این اے ٹیسٹ لیے جائیں گے۔ ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے پنجاب فرانزک لیب سے کوآرڈینیشن کی جائے گی۔وزیراعظم کی ہدایت پر سانحہ یونان کے حوالے سے وزارت داخلہ میں کنٹرول سیل قائم کردیا گیا ہے۔ سیل کے انچارج ایڈیشنل سیکرٹری بارڈرمنیجمنٹ ہوں گے جبکہ وزارت خارجہ، ایف آئی اے اوردیگر اداروں کے نمائندے بھی سیل میں شامل ہیں۔مذکورہ سیل سیل کشتی میں سوارپاکستانیوں کی سیکرنگ اور دیگر معلومات حاصل کرے گا، ای این اے سیمپلنگ اور دیگر معاملات کے حوالے سے بھی کام کیا جائے گا، سیل پنجاب فرانزک ایجنسی اور دیگر لیبارٹریز کے ساتھ بھی رابطے میں رہے گا۔اُدھر کمشنرمیرپورشوکت علی کی قیادت میں ڈاکٹروں کی ٹیم لواحقین کے ڈی این اے سیمپل لینے کھوئی رٹہ پہنچ گئی۔ڈی آئی جی ڈاکٹر خالد چوہان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کمشنر میر پور نے کہا کہ یونان کشتی سانحہ اس خطے کا بہت بڑا نقصان ہے، واقعے نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے، واقعہ میں ملوث کرداروں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ڈی این اے کے لیے ٹیم بنا دی جو متاثرین کے نمونے اکھٹے کرے گی، ہر گھر سے دو ٹیسٹ لئے جائیں گے، عوام کی مشکل گھڑی میں ہر دم ساتھ کھڑے ہیں۔





