بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Sunday, 14 June 2026 | پاکستان: 29 ذوالحجۃ 1447

بڑی طاقتیں بھارتی دہشتگردی کیخلاف کینیڈا کےساتھ ہیں

Monday, 25 September, 2023

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق کینیڈا میں مقیم سکھ رہنما ہردیپ سنگھ کے قتل کی تحقیقات میں امریکا کی خفیہ ایجنسی نے اہم کردار ادا کیا اور کینیڈا کو ایسی معلومات فراہم کیں جن سے ثابت ہوا کہ بھارت سکھ رہنما کے قتل میں ملوث ہے۔ ہردیپ سنگھ نجر قتل کے بارے میں متعلقہ معلومات امریکا نے مختلف انٹیلیجنس اسٹریمز کے پیکج کے حصے کےطور پر شیئر کیں۔ امریکا بھارت اور کینیڈا تنازع میں باضابطہ طور پر کینیڈا کی حمایت اور تعاون کا اعلان کر چکا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سکھ رہنما کے قتل کی تحقیقات میں کینیڈا سے تعاون کرے اور ہردیپ سنگھ نجر کے قتل پر احتساب کو یقینی بنائے۔ امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا بین الاقوامی جبر کو بہت زیادہ سنجیدگی سے لیتا ہے۔قتل کے تناظر میں امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اپنے کینیڈین ہم منصبوں کو وہ سیاق و سباق فراہم کیا جس سے کینیڈا کو یہ نتیجہ اخذ کرنے میں مدد ملی کہ بھارت اس میں ملوث ہے۔ کینیڈین حکام کا کہنا تھا کہ اوٹاوا نے وہ ایسی معلومات اکٹھی کی تھیں جواس کیس میں “دلیل قاطع ” ثابت ہوئیں۔ اس کے بعد کینیڈا میں ہندوستانی سفارت کاروں کی بات چیت کو روکا گیا جو اس سازش میں ان کے ملوث ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔ دنیا بھر کے سکھ رہنماو ¿ں نے کینیڈا میں بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کے ہاتھوں تحریک خالصتان کے سرگرم رکن ہردیپ سنگھ نجر کے قتل پر کینیڈین وزیراعظم کی جانب سے نئی دہلی مخالف واضح مو ¿قف اپنانے پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے بیانات اور تحقیقاتی عمل کو بے حد سراہا ہے۔ سکھ رہنماو ¿ں کا کہنا تھا کہ ”کینیڈین وزیراعظم نے اپنی پارلیمنٹ میں واضح طور پر کہا کہ ہردیپ سنگھ کے قتل میں بھارتی ایجنسیاں ملوث ہیں“ یہ بات کینیڈین وزیراعظم نے ملکی سربراہ ہونے کی حیثیت سے انتہائی ذمہ داری کے ساتھ کی ہے۔سکھ رہنما ڈاکٹر گروندر سنگھ نے کہا کہ “کینیڈین وزیراعظم کے بیان کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اس قتل کو کینیڈا کی خودمختاری کے خلاف قرار دیا۔ بھارت کا کینیڈا میں سکھوں کے معاملات میں بے جا دخل اندازی کا وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے جی 20 اجلاس میں بھی ذکر کیا۔ کینیڈین وزیراعظم کے جی 20 بیان پر بھارتی میڈیا نے بہت مذاق اڑایا مگر کینیڈین وزیراعظم نے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ بیان دیا۔ کینیڈین سیاست اور سکھوں کے معاملات میں بھارت کی بے جا دخل اندازی خطرناک ہے۔ وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے سکھوں کے لئے آواز اٹھا کر یہ ثابت کیا کہ وہ ذمہ دار ریاست کے سربراہ ہیں۔ گیانی رگھبیر سنگھ نے کہا کہ ہردیپ سنگھ کے قتل نے ماضی میں ہونے والے سکھوں کے قتل عام کی یاد تازہ کردی۔ بھارتی ایجنسیاں قتل میں ملوث ہیں تو یہ انتہائی افسوناک اور شرمناک بات ہے۔ اس وقت کینیڈین وزیراعظم نے سرعام بھارت پر ہردیپ سنگھ کے قتل کا الزام لگایا ہے اس میں بھارتی سرکار تعاون کرے۔ کینیڈین وزیراعظم جسٹس ٹروڈو کی جانب سے بھارت کو ہردیپ سنگھ کے قتل کا ذمہ دار قرار دینے پر بھارتی میڈیا ہوش و حواس کھو بیٹھا ہے۔ بھارتی ٹی وی چینلز پر موجود اینکرز اور تجزیہ کار کینیڈا پر ایٹمی حملے کی دھمکیاں دینے پر اتر آئے۔ٹی وی چینلرز پر بھارتی تجزیہ کاروں نے کہا کہ اب بھارتی حکومت اس محاذ آرائی کو منطقی انجام تک پہنچائے۔کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل سے متعلق جو تحقیقات اب تک ہوئی ہیں ان سے پوری طرح واضح ہے کہ اس قتل میں بھارت ملوث ہے۔ پہلے تو صرف کینیڈا کی پولیس اور خفیہ ادارے یہ کہہ رہے تھے کہ مذکورہ قتل میں بھارت ملوث ہے، اب امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور کینیڈا کے اتحاد سے بننے والے خفیہ ادارے فائیو آئیز نے بھی اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ خالصتان تحریک کے سرکردہ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کا قتل بھارت کے خفیہ ادارے نے کیا ہے۔ فائیو آئیز کا کہنا ہے کہ اس بات کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں کہ اس قلت میں بھارت پوری طرح ملوث ہے۔ فائیو آئیز کے رکن ممالک کی خفیہ ایجنسیاں دہشت گردی سے متعلق معلومات ایک دوسرے سے فوری طورپر شیئر کرتی ہیں اور اس اہم ادارے کے ایک افسر نے بھارتی سفارتکاروں اور افسران کی وہ بات چیت لیک کی ہے جس میں مذکورہ قتل کی منصوبہ بندی سے متعلق شواہد موجود ہیں۔ادھر، کینیڈا کی پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوںنے مکمل تحقیقات کے بعد یہ دعویٰ کیا ہے کہ ہردیپ سنگھ کا قتل کینیڈا میں متعین بھارتی انٹیلی جنس کے سٹیشن چیف کی نگرانی میں ہوا۔ امریکی جریدے ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے بھی کینیڈا میں بھارتی دہشت گردی کی تصدیق کی ہے ۔ وال اسٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا ہے کہ ہردیپ سنگھ کے قتل کی تحقیقات مکمل ہونے پر بھارت کو عالمی سطح پر شدید ذلت اور رسوائی کا سامنا ہے۔کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے الزام نے جمہوریت کے علمبردار اور خود کو جمہوریت کی ماں کہنے والے بھارت کو بے نقاب کردیا۔بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم اور خطے میں طاقت کے توازن کو بگاڑنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے متعلق بات کرتے ہوئے نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے کہا ہے کہ بھارت ایک عرصے سے خطے کے ملکوں کی خودمختاری پر حملے کرتا آرہا ہے اور اب کینیڈا کے کیس سے بھارتی دخل اندازیاں کھل کر دنیا کے سامنے آگئی ہیں۔ ہردیپ سنگھ نجر کے قتل نے بھارت کے چہرے سے نقاب اٹھا دیا ہے۔ کینیڈا میں سکھ رہنما کو جس بہیمانہ طریقے سے قتل کیا گیا اس سے مغربی ممالک کو جھٹکا لگا ہے، اب ان کی آنکھیں کھلی ہیں اور وہ سنجیدہ سوالات اٹھا رہے ہیں۔ پاکستان دہائیوں سے بھارتی دہشت گردی کا شکار ہے اور بھارت دہشت گردی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ بھارت میں مسلمانوں اور سکھوں سمیت تمام اقلیتوں کو جس طرح نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ بھارتی ریاستی دہشت گردی کی ایک واضح مثال ہے اور بھارت کے غیرقانونی زیر تسلط کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر جو مظالم ڈھائے جارہے ہیں وہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔

رائے کا اظہار کریں

ضروری خانے * سے نشان زد ہیں