بھارت میں معاشی نمو کے باوجود بیروزگاری اور غربت بڑے چیلنجز ہیں، جن کا اتار چڑھاؤ جاری ہے۔:تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، بھارت میں بے روزگاری کی شرح 2026ء میں بڑھ کر 5.5 فیصد تک جا پہنچی۔روزگار کے مواقع کی کمی کے باعث نواجونوں (خصوصاً گریجویٹس) کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔دیہی علاقوں میں روزگار کی شرح کم ہوئی ہے جس سے بیروزگاری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔عالمی بینک کی رپورٹس کے مطابق گزشتہ دہائی میں انتہائی غربت کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے ۔ تاہم آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ (تقریباً 18 فیصد سے زائد) اب بھی کثیر جہتی غربت کا شکار ہے یا غربت کی لکیر کے بالکل اوپر رہتا ہے، جو معاشی اتار چڑھاؤ کی وجہ سے انتہائی غیر محفوظ ہے۔تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کیلئے مناسب ملازمتوں کی عدم فراہمی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ بہت سے لوگ غربت سے نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں لیکن آمدنی میں عدم مساوات اور مہنگائی کی وجہ سے نچلے طبقے کی مشکلات برقرار ہیں۔غربت کے تذکرہ کیساتھ ہی ہندوستان کے کئی اہم شہروں کے نام ذہن میں ابھر آتے ہیں جہاں غربت کے خاتمہ کیلئے حکومتوںکی سطح پر روز اقدامات کی کمی ہے۔ مرکز اور ریاستوں میں حکومت چاہے کسی پارٹی کی ہو لیکن انتخابات کے موقع پر غربت کے خاتمہ اور مہنگائی میں کمی کا وعدہ ضرور کیا جاتا ہے ۔ بی جے پی نے 2014 میں انتخابی مہم کے دوران ہر سال دو کروڑ روزگار فراہم کرنے اور اندرون 100 دن مہنگائی میں کمی کا وعدہ کیا تھا ، باوجود اس کے گزشتہ 12 برسوں میں ملک میں غربت کی شرح میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ مرکزی حکومت کے نزدیک غریب اور بیروزگار نوجوان محض ووٹ بینک کے سواء کچھ نہیں ہے ۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں غربت کی سطح کا سروے کیا گیا جس میں کئی اہم ریاستوں میں غربت کی شرح تشویشناک حد تک پائی گئی ہے ۔ قومی سطح پر غربت کی شرح 14.96 فیصد درج کی گئی ہے اور ریاستوں میں یہ شرح الگ الگ ہے۔ بہار جس کا شمار بیمارو ریاستوں میں ہوتا ہے، وہاں غربت کی شرح 33.76 فیصد درج کی گئی جو ملک کی دیگر ریاستوں کے مقابلہ زیادہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں ریاستوں کی سطح پر غربت کی سطح کا اندازہ لگانے کیلئے بہار کے اعداد و شمار کے بغیر ہی اسے سرفہرست رکھا جاسکتا ہے ۔ تعلیمی اور معاشی پسماندگی کے علاوہ بنیادی انفراسٹرکچر کے معاملہ میں بہار دیگر بڑی ریاستوں میں پسماندہ ہے۔ غربت کے معاملہ میں جھارکھنڈ 28.81 فیصد کے ساتھ دوسرے اور میگھالیہ 27.79 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ جنوبی ریاستوں میں غربت کی شرح کم درج کی گئی ہے۔ عوام کی خوشحالی کے معاملہ میں جنوبی ریاستوں میں کیرالا کا بہتر مظاہرہ رہا ہے جہاں غربت محض 0.55 فیصد درج کی گئی ہے۔ سروے کے ذریعہ ریاستوں میں غربت کے خاتمہ کے اقدامات کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اترپردیش میں غربت کی شرح 22.93 فیصد درج کی گئی جبکہ مدھیہ پردیش 20.63 ، راجستھان 15.31 ، گجرات 11.66 فیصد ، چھتیس گڑھ 16.37 فیصد ، اڈیشہ 15.68 فیصد اور مغربی بنگال میں 11.89 فیصد غربت کی شرح درج کی گئی۔ جنوبی ریاستوں میں تلنگانہ اور آندھراپردیش نے غربت کے خاتمہ کے معاملہ میں بہتر مظاہرہ کیا ہے۔ آندھرا پردیش میں غربت کی شرح 6.06 فیصد درج کی گئی جبکہ تلنگانہ میں 5.88 فیصد درج کی گئی۔دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہونے کا دعویٰ کرنیوالے ملک بھارت کی کئی ریاستوں میں بیروزگاری اور غربت اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ مودی سرکار ایک طرف جہاں دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہونے کا دعویٰ کر رہی ہے وہیں بھارت بیروزگاری کے باعث شدید عدم استحکام کا شکار ہے۔ بھارت میں لیبر فورس سروے کے اعدادوشمار نے مودی کے کھوکھلے دعووں کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ مودی کے زیر اقتدار بھارت میں بیروزگاری اور غربت انتہائی سنگین حد تک پہنچ گئی ہے۔ بھارتی ریاست کیرالہ میں 15 تا 29 سال کی عمر کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 30 فیصد ہے۔ اسی طرح ریاست کیرالہ میں خواتین میں بے روزگاری کی شرح 47 فیصد اور مردوں میں 19 فیصد ہے۔پی ایل ایف ایس کے اعداد و شمار کے مطابق مودی کے بڑے بڑے دعوئوں کے باوجود سال 2023 اور 24 میں بیر روزگاری کی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی جبکہ مجموعی طور پر بیروزگاری کی شرح 2.9 فیصد سے بڑھ کر 3.2 فیصد تک پہنچ گئی۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر ، ناگالینڈ، منی پور اور اروناچل پردیش میں بھی نوجوانوں کی بیروزگاری کی بلند شرح ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس سے قبل انڈیا ایمپلائمنٹ رپورٹ کے مطابق بھارت کی بیروزگار عوام کا 83 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ بیروزگاری اور مودی سرکار کی بے حسی سے تنگ آکر پڑھے لکھے نوجوان معمولی نوکریاں کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ تحقیق کے مطابق بھارت میں بے روزگاری کے باعث تقریباً 70 فیصد تعمیراتی مزدور کم سے کم اجرت پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔ بھارت میں بیروزگاری سے تنگ عوام غیرقانونی طور پر امریکا اور برطانیہ منتقل ہونے پر مجبور ہو چکے ہیں جب کہ بڑھتی بیروزگاری سے انسانی اسمگلنگ بھی عروج پر پہنچ چکی ہے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں