کسی بھی خطے کی معیشت کا دارومدار وہاں کی مقامی پیداوار اور اس سے جڑے لاکھوں خاندانوں کے روزگار پر ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے خیبر پختونخوا کی سب سے بڑی نقد آور فصل(کیش کراپ)یعنی تمباکو اور اس سے وابستہ لاکھوں افراد طویل عرصے سے کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ صوبے کے نو اضلاع کی معیشت کا سارا پہیہ اسی ایک فصل کے گرد گھومتا ہے، لیکن حالت یہ ہو چکی ہے کہ ایک طرف عالمی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اجارہ داری نے مقامی کاشتکار کا خون چوسا ہے، تو دوسری طرف وفاقی اداروں کے امتیازی رویوں نے چھوٹے صنعت کاروں کا جینا محال کر رکھا ہے۔انہی تاریک حالات میں اسلام آباد سے اس وقت امید کی کرن سامنے آئی، جب خیبر پختونخوا کے تمباکو کاشتکاروں، برآمد کنندگان اور چھوٹے کارخانہ داروں کے ایک نمائندہ وفد نے وفاقی وزیر سیفران انجینئر امیر مقام سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ انجینئر امیر مقام مسائل کی سنگینی سے نہ صرف واقف ہیں بلکہ وہ اس درد کو محسوس بھی کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے وفد کو صرف دلاسہ نہیں دیا، بلکہ قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اپنی تقریر کے دوران اس معاملہ پر کھل کر بات کی اور صاف الفاظ میں کہا کہ ایف بی آر اور دیگر اداروں کا تمباکو سے وابستہ کاروباری افراد کو ہراساں کرنا اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک کسی طور برداشت نہیں کیا جائے گا۔ تمباکو خیبر پختونخوا کے نو اضلاع کی ایسی فصل ہے جس سے لاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے لیکن ناقص پالیسیوں کے باعث یہ صنعت بند ہونے کے دہانے پر کھڑی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ملک میں رائج قوانین تمام شہریوں اور تاجروں کے لیے برابر ہونے چاہئیں، لیکن خیبر پختونخوا کے ٹوبیکو سیکٹر سے وابستہ افراد کا مرکزی حکومت اور اس کے اداروں سے شاکی ہونا بالکل بجا ہے قوانین کے تخت کسی بھی زرعی فصل پر ٹیکس عائد نہیں لیکن تمباکو واحد فصل ہے جس پر ٹیکس عائد کیاگیاہے اس طرح ‘ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم’ سمیت دیگر اداروں کی براہ راست چیکنگ کے نام پر مقامی تاجروں کو ہراساں کیا جاتا ہے، دوسری طرف ان پر مسلسل ٹیکس چوری کے الزامات عائد کر کے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ جب ریاست اپنے ہی مقامی سرمایہ کاروں پر اعتماد کرنے کے بجائے انہیں چور ثابت کرنے پر تل جائے، تو معیشتیں ترقی نہیں کرتیں بلکہ تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتی ہیں۔اس گھمبیر صورتحال کا سب سے خوبصورت اور مثبت پہلو وہ سیاسی ہم آہنگی ہے جو پارلیمنٹ کے اندر دیکھنے کو ملی۔ یہ دیکھنا انتہائی خوش آئند ہے کہ جب صوبے کے ٹوبیکو سیکٹر کے بچاؤ اور حقوق کی بات آئی، تو پاکستان تحریک انصاف، جمعیت علمائے اسلام اور مسلم لیگ ن کے پارلیمنٹرینز تمام تر سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ایک صفحے پر نظر آئے۔ جب سیاسی قیادت کا اپنے عوام کے مسائل پر ادراک اتنا واضح ہو، تو راستے خود بخود نکلتے ہیں انجینئر امیر مقام نے اس موقع پر ایک انتہائی جاندار اور قابلِ عمل تجویز پیش کی ہے کہ وفاقی حکومت، حکومتِ خیبر پختونخوا اور ٹوبیکو سیکٹر کے نمائندوں پر مشتمل ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی بنائی جائے جو کاشتکاروں اور چھوٹے کارخانہ داروں کے مسائل کا باریک بینی سے جائزہ لیکر ان کا مستقل حل تلاش کرے۔ وفاقی حکومت میں انجینئر امیر مقام کو ایک منفرد اور معتبر مقام حاصل ہے۔ وہ ایک سنجیدہ سیاستدان ہیں اور شریف خاندان کے ساتھ ان کے دیرینہ ذاتی و سیاسی تعلقات کی وجہ سے وفاق میں ان کی آواز کو سنجیدگی سے سنا جاتا ہے۔کاشتکاروں اور ٹوبیکو کمپنیوں کے نمائندوں کی وفاقی وزیر سے اس ملاقات کے بعد اب یہ امید کی جانی چاہیے کہ اس کے جلد ہی مثبت ثمرات ظاہر ہوں گے۔ اگر انجینئر امیر مقام کی تجویز کردہ کمیٹی فعال ہو جاتی ہے اور مقامی صنعت کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے چنگل سے بچا کر ایک یکساں کاروباری ماحول فراہم کر دیا جاتا ہے، تو یہ نہ صرف خیبر پختونخوا کے لاکھوں کاشتکاروں کی معاشی خوشحالی کا سبب بنے گا بلکہ ملکی برآمدات اور ریونیو میں بھی ایک بڑا انقلاب ثابت ہوگا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اب زبانی جمع خرچ کے بجائے عملی اقدامات کا آغاز کیا جائے تاکہ دھرتی کے ان بیٹوں کو ان کا جائز حق مل سکے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں