بانی سردار خان نیازی

🌤 Columbus 19.7°C
Friday, 19 June 2026 | پاکستان: 4 محرم 1448

پرانے وقتوںکے ماڈرن لوگ

Friday, 19 June, 2026

سوشل میڈیا پر کبھی نا کبھی بڑی دلچسپ چیزیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ جیسے مٹی کے تیل سے جلنے والی چمنی ،لالٹین، بائیسکل،پرانے ٹرک بسیں، گلیوں میں گلی ڈنڈا، کنچے جسے پنڈی والے بنٹے بولتے ہیں، پرانے تالے، بجلی کے سوئچ بورڈ بٹن، مورس،مزدا اوپل کاریں، کراچی کی ٹرام اور کالے دھوئیں والے بھاپ سے چلنے والے ریلوے انجن وغیرہ اور پھر بیک گرانڈ میں ہلکی آواز میں کچھ دل جلے ایسا گیت بھی لگا دیتے ہیں، آیا ہے مجھے پھر یاد وہ ظالم گزرا زمانہ بچپن کا اور جسے سنتے ہی پرانے لوگوں کیلئے اپنی ماضی کے یادوں کے دریچے سے جیسے کھل جاتے ہیں۔ بچپن کی بہاریں، دوست یاروں سے کھیلتے بھاگتے دوڑتے گلی ڈنڈا بنٹے کھیلتے جیسے ایک لمحے کیلئے ہم چھوٹے سے بچے بن جاتے ہیں لیکن خواب تو تب ٹوٹتا ہے جب کوئی دادا جی، نانا جی، پکار کر گود میں آ بیٹھتا ہے یا ہاتھ سے موبائل ہی چھین کر بھاگ جاتا ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ اب ہمارے پاس یاد ماضی کے اور بچا ہی کیا ہے جسے ہم اپنے بچوں کو بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ کیسے ہم دوست یار ٹولیوں کی شکل میں ریلوے ٹریک پر چھ سات میل دور روانہ اسکول آتے جاتے، کیسے ہم دو چار آنوں میں تین چار دن گذار لیتے اور اسکول کے ماسٹرز کی اکثر باتیں، انکے سزا کے مختلف اسٹائل اور ہمارا بھی دفاعی نظام یعنی ڈنڈے سے بچنے کے مختلف طریقے۔ کل میرے گھر کی گھنٹی بجی، باہر کوئی نہیں تھا اور پھر یہ معمول بن گیا اور ہم بھی اسی ٹوہ میں لگ گئے کہ ایک دن ٹیرس پر موجودگی کی وجہ سے دو چھوٹے بچوں کو گھنٹی بجاتے اور بھاگتے دیکھا ۔ غصہ تو فطری طور پر سب کو آتا ہے لیکن ہمارا غصہ فورا ًتقریباً ساٹھ کی دہائی میں واپس جا ٹپکا جب بچپن میں بالکل عین ہم بھی ٹولیوں کی شکل میں رات کو امیر لوگوں کے گھروں کی گھنٹیاں بجا کر غائب ہو جاتے۔ ایک بات آج بھی اچھی طرح یاد ہے کہ رات کو پختہ سڑک پر بلب کی روشنی جہاں پڑتی اسکے آس پاس ہمارا ایک دوست اندھیرے میں چھپ کر باریک دھاگے کے ساتھ کالے سوتر کا موٹا سا سانپ بنا کر عین اسوقت سڑک پر کھینچ لاتا جب کوئی فیملی واک کرتے وہاں سے گزرتی اور وہ ڈر کر بھاگ پڑتے اور یہ اس بچہ پارٹی کی بڑی کامیابی ہوتی اور خوب محظوظ ہوتے۔ مجھے یاد ہے اکثر لوگ بہت کم برا مناتے بلکہ ایک صاحب نے تو اس شیطان پارٹی کو نقد ایک روپیہ انعام بھی دیا تھا۔ شاید وہ صاحب بھی اپنے کسی ماضی کے دریچے میں اپنا کوئی کارنامہ یاد کر بیٹھے تھے اسی لیئے شاید انہوں نے بھی حوالہ افزائی کرنا ہی مناسب سمجھی ہو گی۔وطن عزیز کو آزاد ہوئے سات آٹھ عشرے بیت چکے ہیں۔ سنا ہے کام کرنے کو اسوقت بہت معمولی ذرائع ہمارے حصے میں آئے۔ کامن پن کا کام کانٹوں سے چلاتے یہ بھی سنا ہے لیکن وقت بحرحال گزرتا گیا اور آج الحمدللہ ہم ایٹمی قوت ہیں۔ میں نے کیرئیر چونکہ بطور مختصر نویسی سے شروع کیا تھا ٹائپ شارٹ ہینڈ میری جاب کا حصہ تھے، شروع شروع میں اتنے پرانے اور تھکے ہوئے ریمنگٹن ٹائپ رائٹر سے پالا پڑا جسکی پشت پر تاریخ خرید 1948 کی درج تھی۔ کچھ لیٹر تو کاغذ پر لگتے ضرور تھے لیکن پڑھے نہیں جاتے تھے جنھیں بعد میں قلم سے اٹھانا پڑتا۔ اسی دور کے اس آدمی (راقم)نے آج کمپیوٹر پر بھی کام کیا ہے اور اب تو جدید اینڈروئیڈ فون نے تو طلسماتی دنیا میں جیسے پہنچا دیا ہے، فون سامنے رکھو، میٹا، گروک، جی پی چیٹ جس کو جو حکم لگاؤ فورا تعمیل کی جاتی ہے، ہم آج کل یقینا اسوقت کے اللہ دین سے بہت ہی بہتر ہیں جسے پہلے تو چراغ کو رگڑنا پڑتا، پھر کہیں جا کر جن حاضر ہوتا ، خواہش پوچھتا اور پھر خواہش پوری کرتا لیکن ہم آج کے اللہ دینوں کو تو اتنی تکلیف بھی نہیں کرنی پڑتی بس فون کو سامنے رکھ کر حکم لگا دیا اور ہزاروں سال کی تاریخ، سوال و جواب آپ کے سامنے۔ پسند نہ آئے تو دوبارہ اس سے اچھی بجا آوری۔ سچ پوچھیں تو حد ہی ہو چکی ہے۔ کہاں ایک ایک لفظ زور دے کر ٹائپ کرنا، غلطی کو ربڑ سے صاف کرنا احتیاط سے کہ کہیں کاغذ ہی نہ پھٹ جائے اور اب کہاں کٹ کاپی پیسٹ۔دنوں کا کام منٹوں میں ۔ حیران ہوتا ہوں کہ یہ ترقی کی رفتار کہاں جا کر رکے گی کیا اس کا کوئی اختتام یا انتہا بھی ہے یا ہم زمینوں سے۔ آسمانوں کی طرف اپنی خواہش کے مطابق جب چاہیں جیسے چاہیں اڑتے چلے جائیں گے۔ اس رفتار سے یہ ڈر بھی کبھی کبھی ستاتا ہے کہ سب کچھ کیا ختم تو نہیں ہونے والا۔میں نے اپنی زندگی کے یہ گزرے سال اپنی یادوں میں سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں میری قوت یاداشت بہت تیز ہے مجھے اپنے بچپن کے پہلے تین چار سالوں کا زمانہ بھی کچھ نہ کچھ یاد پڑتا ہے کہاں وہ موٹی تختی سیاہی قلم دوات ماسٹر کا ڈنڈا، مرغا چال اور امتحان میں کامیابیاں ناکامیاں اور آج اسکول کے باہر مار نہیں پیارجیسے اساتذہ کے خلاف انتباہی تحریریں، آج پرانے زمانے کی ٹوٹی پھوٹی سڑکیں عظیم شاہراوں میں تبدیل ہو چکی ہیں، میں نے کراچی بھی دیکھا ہوا ہے دیگر شہر بھی اور اسلام آباد کا جدید ترین شہر بھی میری نظروں کے سامنے بسایا گیا، ان گزرے سالوں میں مجھ جیسے پیدل پہلے سائیکل، موٹر سائیکل اور اب عالی شان گاڑیوں میں سفر کرتے دکھائی دیتے ہیں، جن کے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا، انہوں نے آج کل دسترخوان لگائے ہوئے ہیں اور یہ بات بھی درست ہے کہ یہ سب اللہ کی دین ہے جیسے میں نے پہلے عرض کیا ہے کہ جس ملک میں سوئی دھاگے جیسی معمولی چیز بھی باہر سے منگوانی پڑتی تھی اب ہم ایک ایٹمی ملک ہیں، جنگی طیارے بناتے ہیں اور ہمارے ٹینک تو دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ اسکول کالج اور یونیورسٹیاں بن چکے ہیں اور ماشااللہ پی ایچ ڈی ڈاکٹرز اب ہم خود تیار کر رہے ہیں وہ زمانہ بھی یاد ہے کہ جب ہم کسی گلی محلے سے گزرتے تو ایک تختی پر نظر پڑتی ،نور محمد بی اے یامحمد اسلم بی اے۔ اور اگر کہیں کسی کے ساتھ ”ایم اے” لکھا ہوا دیکھنے کو ملتا تو اس ہستی کو دیکھنے کو دل کرتا کہ یہ کون ہو سکتا ہے جو پوری سولہ جماعت پاس ہے، ماشااللہ آج ہماری ایک بہت بڑی پارلیمنٹ ہے سینٹ ہے صدر ہے وزیراعظم ہے اس ملک نے ڈکٹیٹر شپ بھی دیکھی ہے جو کسی نہ کسی شکل میں ہر دور میں موجود رہی ہے لیکن میں اپنے گزرے سالوں کا جب تجزیہ کرتا ہوں تو مجھے اگر کہیں ترقی ہوتی ہوئی نظر آئی تو وہ ایک ڈکٹیٹر ہی کا دور تھا جب جمہوریت کا کہیں نام نشان نہیں تھا۔ سچی بات ہے ان چند سالوں میں ملک نے سہی معنوں میں دن دگنی رات چوگنی ترقی کر کے دکھائی جسکے ثمرات سے آج بھی ہم مستفید ہو رہے ہیں۔ پھر اچانک ہمارے ملک میں جمہوریت تشریف لائی۔ یہ عفریت کیا آئی جیسے ترقی کا پہیہ ہی رک گیا اور سیاست کے نام پر اقتدار کی بندر بانٹ کا وہ مکروہ کھیل شروع ہو گیا جو آج تک جاری ہے۔ جس جمہوریت کے لیے لوگوں نے قربانیاں دیں، لیڈر پھانسی چڑھے، دیس نکالے ملے انہی کی کوتاہیوں، کرتوتوں اور ناکامیوں کی وجہ سے جمہوریت اس وقت اس ملک میں ایک گالی اور غلاظت کا ڈھیر بن چکی ہے اور ملک کا اکثر باشعور طبقہ ہاتھ جوڑ کر اب جمہوریت کی مصیبت سے جان چھڑانا چاہتا ہے اور کسی باکردار، ایماندار شخص کے اقتدار میں آنے کو ترس رہا ہے چاہے وہ سول ہو یا وردی والا، جو حقیقی معنوں میں اس ملک کی ڈوبتی نیا کو سہارا دے کر اسے دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کر سکے۔ مختصراًمجھ جیسا فرسودہ دور کا انسان جس کے ہاتھ میں آج آئی ٹی کا بٹن ہے اپنے آپ کو خوش قسمت ضرور سمجھتا ہے لیکن جب میں پیچھے مڑ کر گزرے سادہ زمانے کو اس ترقی یافتہ ماڈرن دور کے ساتھ موازنہ کرتا ہوں تو مجھے ایک طرف تو زمینی ترقی پر بہت خوشی،، دل کو راحت اور سکون ملتا ہے کہ ہم بھی کسی سے کم نہیں لیکن وہیں پر ایک دکھ، بے چینی اور اداسی سی دل پر چھا جاتی ہے کہ جس طرح دوسری قوموں نے جتنی تیز رفتاری سے ہر شعبے میں ترقی کی ہے اسی طرح انہوں نے اپنے کردار میں بھی انقلابی تبدیلیاں لائی ہیں لیکن ہم نے اس ملک میں عمارات، بلند و بالا تعمیرات، موٹرویز ھائی ویز، یونیورسٹیاں اور لاتعداد ادارے تو قائم کر لیئے لیکن اسی رفتار سے ہم اپنی کردار سازی، حب الوطنی اور بھائی چارے میں ہم سب سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ پاکستانی شروع شروع میں سچے پاکستانی تھے، پھر نفرتوں، قدورتوں، سیاسی محاذ آرائیوں اور آپسی لڑائیوں نے ہمیں انتہائی کمزور کر کے گھروں تک ہی محدود کر دیا ہے۔ ہم آج بھی اپنی ذات سے آگے نہیں سوچتے، دوسروں کو کمتر اور حقیر جانتے ہیں اور اسمیں سب سے بڑا قصور اس سسٹم کا ہے جو ظالم کو تحفظ اور مظلوم کو انصاف کے قریب تک نہیں آنے دیتا، چور سزا سے بچ جاتے ہیں اور لٹنے والا ملزم کی جگہ کھڑا کر دیا جاتا۔ عدالتیں کمزور اور کمپرومائز ہو چکی ہیں۔ یہاں جسکی لاٹھی اسکی بھینس والا قانون ہے۔ یہ ملک تو عام انسان کی عزت نفس اور تحفظ کیلئے قائم ہوا تھا آج اس ملک میں ہر اس بندے کی عزت ہے جو کچھ حیثیت والا، مامے چاچے والا ہے اور اگر عزت و تکریم نہیں ہے تو اس عام آدمی کی نہیں جسکے لیے یہ سب اسٹیج سجایا گیا تھا۔ ہم پرانے دور کے بابے اس بات پر تو خوش ہیں کہ ہم ایک بڑے ایٹمی ملک کے باسی ہیں لیکن ہماری سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ ہم آج تک ایک قوم نہ بن سکے، ہمارا کوئی واضح نشان منزل ہی نہیں، بس ایک جم غفیر ہے جو ایک دوسرے کو دھکیلتے، روندتے کچلتے آگے کی طرف بے نشاں بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے، سچ تو یہ ہے کہ ہم انسان ضرور ہیں لیکن بطور قوم ہم انسانیت سے ہر روز دور سے دور تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *