بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 30.3°C
Friday, 19 June 2026 | پاکستان: 4 محرم 1448

امریکہ ایران مفاہمت:امن کی نئی نوید یا عارضی جنگ بندی؟

Friday, 19 June, 2026

واشنگٹن نے امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کا باضابطہ مسودہ جاری کردیا جس میں فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل طورپر جنگ ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے معاہدے کے تحت فریقین ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کریں گے اور اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے جبکہ 60 روز کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی اس دوران موجودہ صورتحال برقرار رہے گی۔امریکہ ایران کا بحری محاصرہ ختم کرے گااور30دنوں کے اندرایران کے قریبی علاقوں سے اپنے فوجی ہٹالے گاتجارتی جہازوں کو بغیر کسی فیس کے 60روز تک آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ہوگی جس کے بعد تہران عمان کے ساتھ ملکر ہرمز میں مستقبل کے انتظامات پر بات چیت کریگا ایران کی معاشی ترقی اور تعمیر نو کیلئے علاقائی ممالک اور شراکت داروں کے ساتھ 300ارب ڈالر کا منصوبہ بنایاجائیگا تہران پر عائد تمام پابندیاں ختم اور مالیاتی پابندیوں میں نرمی کی جائے گی معاہدے کے تحت ایران جوہری ہتھیار حاصل کریگا نہ بنائے گاافزودہ یورینیم کو پتلا کیا جائے گاایران کے منجمداثاثے جاری کئے جائیں گے معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کیلئے ایک میکنزم بنایاجائے گا حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے لی جائے گی ۔ اعلیٰ امریکی عہدیدار نے امریکہ ایران مفاہمتی یاد داشت کے 14نکات کو صحافیوں کے سامنے پڑھ کر سنایا۔ امریکہ اور ایران اور ان کے اتحادی اس جاری جنگ میں اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرتے ہوئے تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ کے خاتمے کا اعلان کرتے ہیں جس میں لبنان سمیت تمام محاذ شامل ہیں اور اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کیخلاف کوئی جنگ یا فوجی کارروائی شروع نہیں کریں گے نہ ہی طاقت کے استعمال یا دھمکی سے کام لیں گے اور لبنان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کو یقینی بنائیں گے ۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں گے اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔دونوں فریق زیادہ سے زیادہ دن کے اندر حتمی معاہدہ کرنے پر متفق ہیں جس میں باہمی رضامندی سے توسیع ممکن ہوگی۔عالمی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ کے دھدکتے ہوئے منظرنامے میں واشنگٹن اور تہران کے مابین مفاہمتی یادداشت کا باضابطہ مسودہ سامنے آنا ایک ایسی تاریخی پیش رفت ہے، جس کے اثرات صدیوں پر محیط ہو سکتے ہیں۔ طویل عرصے سے جاری شدید ترین کشیدگی، بالواسطہ جنگوںاور اقتصادی ناکہ بندیوں کے بعد، دونوں روایتی حریفوں کا لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی پر اتفاق کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بالآخر بندوق کی نالی اور پابندیوں کی سیاست کو مذاکرات کی میز کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ واشنگٹن کی جانب سے جاری کردہ 14 نکات پر مشتمل یہ مسودہ جہاں ایک طرف مشرقِ وسطیٰ کو جنگ کی ہولناکیوں سے نکالنے کی امید دلاتا ہے، وہیں دوسری طرف خطے کے مستقبل کے سیاسی و عسکری توازن کے حوالے سے کئی نئے سوالات کو بھی جنم دے رہا ہے ۔ اس مفاہمتی یادداشت کا سب سے اہم اور خوش آئند پہلو تمام محاذوں بشمول لبنان پر فوری اور مستقل طور پر جنگ کا خاتمہ ہے۔ گزشتہ چند سالوں سے مشرقِ وسطیٰ جس نہج پر پہنچ چکا تھا وہاں کسی بھی وقت ایک وسیع تر عالمی جنگ کا خطرہ موجود تھا۔ لبنان، غزہ اور دیگر محاذوں پر معصوم انسانی جانوں کا ضیاع اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی عالمی ضمیر پر ایک بوجھ بن چکی تھی۔ ایسے میں امریکہ اور ایران کا ایک دوسرے کیخلاف طاقت کا استعمال نہ کرنے اور ایک دوسرے کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کا احترام کرنے کا عزم، عالمی امن کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ اگر فریقین اس عہد پر قائم رہتے ہیں اور 60 روز کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ جدید سفارت کاری کی بہت بڑی فتح ہوگی ۔ معاہدے کے اقتصادی نکات خاصے جرات مندانہ اور غیر متوقع ہیں۔ امریکہ کی جانب سے ایران کا بحری محاصرہ ختم کرنے اور 30 دنوں کے اندر اپنے فوجی دستے ایرانی سرحدوں کے قریبی علاقوں سے ہٹانے کا فیصلہ تہران کیلئے ایک بڑی اسٹریٹجک کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے ۔ مزید برآں آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کو 60 روز تک بغیر کسی فیس کے گزرنے کی اجازت دینا اور بعد میں تہران اور عمان کے مابین اس اہم ترین آبی گزرگاہ کے انتظام پر بات چیت کا فیصلہ، عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ آبنائے ہرمز ہمیشہ سے عالمی تیل کی سپلائی کیلئے ایک فلیش پوائنٹ رہا ہے اور یہاں استحکام سے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں استحکام آئے گا۔سب سے زیادہ حیران کن اور بڑا معاشی پیکیج ایران کی تعمیرِ نو اور معاشی ترقی کیلئے 300 ارب ڈالر کے منصوبے کی شکل میں سامنے آیا ہے ۔ علاقائی ممالک اور شراکت داروں کے تعاون سے بننے والا یہ منصوبہ اگر حقیقت کا روپ دھارتا ہے تو اس سے نہ صرف ایران کی معیشت کو نئی زندگی ملے گی بلکہ خطے میں معاشی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ ایران پر عائد تمام معاشی اور مالیاتی پابندیوں کا خاتمہ اور اس کے منجمد اثاثوں کی بحالی، تہران کی اس اصولی موقف کی فتح ہے کہ پابندیاں کبھی بھی دیرپا حل نہیں ہو سکتیں ۔تاہم اس پورے منظرنامے کا سب سے حساس اور پیچیدہ پہلو ایران کا جوہری پروگرام ہے۔ مفاہمت کے تحت ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے اور افزودہ یورینیم کو پتلا کرنے پر راضی ہو گیا ہے۔ یہ شق اس سے پہلے ہونیوالے جے سی پی او اے معاہدے کی یاد دلاتی ہے، جسے امریکہ نے یکطرفہ طور پر ختم کر دیا تھا۔ اب اس نئے معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کیلئے ایک باقاعدہ میکنزم کی تشکیل اور حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے لینے کا فیصلہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا گیا ہے اور اس بار معاہدے کو بین الاقوامی قانونی تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ کوئی بھی آنے والی امریکی حکومت اس سے یکطرفہ طور پر منحرف نہ ہو سکے۔لیکن اس سنہری تصویر کے پیچھے موجود چیلنجز کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ 60 دن کا وقت انتہائی مختصر ہے اور اس دوران “موجودہ صورتحال برقرار رکھنے”کا مطلب یہ ہے کہ زمین پر موجود تلخیاں راتوں رات ختم نہیں ہوں گی۔ مشرقِ وسطیٰ میں کئی ایسے عناصر اور علاقائی طاقتیں موجود ہیں جن کے مفادات واشنگٹن اور تہران کی اس قربت سے ضرب کھا سکتے ہیں۔ خاص طور پر اسرائیل اور خطے میں بعض دیگر امریکی اتحادی، جو ایران کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں، اس مفاہمت کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ کیا وہ لبنان اور دیگر محاذوں پر مستقل امن قائم ہونے دیں گے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب آنیوالے دنوں میں ملے گا ۔ مجموعی طور پر امریکہ اور ایران کا یہ اقدام جنگ کی دلدل میں دھنسے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کیلئے ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے۔ جنگیں کبھی بھی مسائل کا حل نہیں ہوتیں بلکہ وہ مزید مسائل کو جنم دیتی ہیں ۔ عالمی برادری خصوصاً اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو چاہیے کہ وہ اس نازک موڑ پر اپنا بھرپور کردار ادا کرے اور ان 14 نکات کو ایک عارضی جنگ بندی کے بجائے ایک مستقل اور پائیدار عالمی امن کے معاہدے میں تبدیل کرنے کیلئے فریقین پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔ تاریخ گواہ ہے کہ امن کے مواقع بار بار نہیں ملتے اور اگر اب یہ موقع ضائع ہو گیا تو اگلی تباہی کا حجم ناقابلِ تصور ہوگا۔
پنجاب کاعوام دوست بجٹ
وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف اور ان کی کابینہ نے مالی سال دوہزارچھبیس۔ ستائیس کیلئے 5.34 ٹریلین روپے کا عوام دوست بجٹ پیش کیا ہے،جس میں بہت سے ماہرین اس بات کا تعین کرنے کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں کہ یہ کن لوگوں کیلئے دوستانہ ہے۔پنجاب کا بجٹ سرپلس اب بھی اتنا بڑا تھا کہ یہ سوال کرنا مناسب ہے کہ مریم نواز کی قیادت والی حکومت باقاعدہ سرپلسز کے لئے آئی ایم ایف کے قرض کی ضرورت سے بھی آگے کیوں چلی گئی۔بجٹ میں کئی ایسے شعبے ہیں جن کے لئے اضافی فنڈنگ کی معقول ضرورت ہے۔پنجاب ملک کا سب سے ترقی یافتہ صوبہ ہو سکتا ہے،لیکن یہ اب بھی میز پر صرف نقدی چھوڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔بدقسمتی سے جبکہ اپوزیشن نے اس معاملے کو ایوان میں اٹھایالیکن اس کی اولین ترجیح فریقین پر مبنی ہے۔ بجائے اس کے کہ معاہدے اور تعاون کے ایسے شعبے تلاش کیے جائیں جس سے پورے صوبے کے لئے نتائج برآمد ہوں۔اس کی وجہ سے شہریوں کو محصولات کے لئے دبایا جا رہا ہے کہ وہ اپنے ٹیکسوں کو غیر استعمال ہوتے دیکھ کر ناقابلِ رشک حالت میں ہیں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *