تعلیم محض ایک خدمت نہیں یہ وہ بنیاد ہے جس پر کوئی قوم اپنا مستقبل تعمیر کرتی ہے ۔ جامعات ڈگری بانٹنے کی مشینیں نہیں وہ تحقیق، اختراع اور فکری ارتقا کے مراکز ہیں۔ پنجاب میں سرکاری جامعات کی نجکاری کی تجویز لہٰذا ایک ایسی بحث کا تقاضا کرتی ہے جو محض بجٹ کے اعداد و شمار سے کہیں آگے جاتی ہو۔ اصل سوال یہ نہیں کہ آیا نجی انتظامیہ اداروں کو زیادہ موثر طریقے سے چلا سکتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اپنی ایک بنیادی ذمے داری سے خاموشی کیساتھ دستبردار ہو رہی ہے؟
تعلیمِ عالیہ: مسلسل زوال پذیر بنیادیں: ۔ پاکستان کا نظامِ اعلیٰ تعلیم پہلے ہی شدید دباؤ میں ہے۔ ملک میں 269 جامعات ہیں جن میں تقریباً 19 لاکھ 50 ہزار طلبا زیرِ تعلیم ہیں، مگر ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) جو ان اداروں کی مالی معاونت اور نگرانی کا ذمے دار ہے کی گرانٹ 2018 ء سے63 سے 66ارب روپے کے درمیان منجمد ہے جبکہ اس عرصے میں مہنگائی 38 فی صد سے تجاوز کر گئی۔ پاکستان کا مجموعی تعلیمی بجٹ جی ڈی پی کا صرف 0.8 فیصد رہ گیا ہے ترقی پذیر دنیا میں یہ نسبت سب سے کم ہے۔2024ء میں جب ایچ ای سی کا بجٹ 65 ارب سے گھٹا کر25ء ارب روپے کرنے کی تجویز سامنے آئی تو تعلیمی حلقوں میں ہڑکمپ مچ گیا۔ عوامی احتجاج کے بعد یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا لیکن یہ حقیقت کہ اس پر سنجیدگی سے غور ہوا، اعلیٰ تعلیم سے ریاست کی وابستگی کی نزاکت کو بے نقاب کر دیتی ہے۔
ختیارات کی منتقلی: تیاری کے بغیر: ۔ 2010ء کی اٹھارہویں آئینی ترمیم پاکستان کے وفاقی ڈھانچے میں ایک سنگِ میل تھی، جس نے مرکز سے صوبوں کو وسیع اختیارات منتقل کیے تعلیم بھی انہی میں شامل تھی۔ اسکولی تعلیم مکمل طور پر صوبائی دائرے میں آ گئی جبکہ اعلی تعلیم وفاقی قانون سازی کی فہرست میں برقرار رہی۔ عملی طور پر اس ترمیم نے ایک مالی خلا پیدا کر دیا: وفاقی سطح پر وزارتِ تعلیم کا خاتمہ ہو گیا ،اس طرح پاکستان دنیا کے صرف دو وفاقی ممالک میں سے ایک بن گیا جہاں وفاقی وزارتِ تعلیم موجود نہیں، دوسرا کینیڈا ہے۔نیت درست تھی۔ صوبے اپنی آبادی اور مقامی تقاضوں کو دور کی وفاقی بیوروکریسی سے بہتر سمجھتے ہیں لیکن یہ منتقلی مناسب مالی منصوبہ بندی اور صلاحیت سازی کے بغیر کر دی گئی۔ محدود انتظامی تجربے اور تنگ بجٹ رکھنے والے صوبوں نے خود کو ان تعلیمی ذمے داریوں کیساتھ پایا جن کیلئے وہ پوری طرح تیار نہ تھے۔ نتیجہ ملک بھر میں غیر یکساں کارکردگی کی صورت نکلا۔یہ اصولا اختیارات کی منتقلی کیخلاف دلیل نہیں بلکہ یہ مطالبہ ہے کہ یہ منتقلی مناسب وسائل کیساتھ کی جائے اور وقت کیساتھ ایمانداری سے جائزہ لیا جاتا رہے۔
اصلاح اور نجکاری: ایک فریب کار مغالطہ:۔ پاکستان کی سرکاری جامعات کو سنجیدہ اصلاحات کی ضرورت ہے اس سے انکار ممکن نہیں۔ انتظامی نااہلی، وائس چانسلر کی تقرریوں میں سیاسی مداخلت اور کمزور تحقیقی کارکردگی ایسے مسائل ہیں جو ریکارڈ پر موجود ہیں۔ ایچ ای سی کی 2024-25 جائزہ رپورٹ کے مطابق95 میں سے صرف سات جامعات اعلیٰ ترین تحقیقی زمرے میں جگہ بنا سکیں۔مالی سال 2023 میں یونیورسٹی داخلوں میں 13 فی صد کمی ریکارڈ کی گئی ،اقتصادی سروے نے اسے معاشی مشکلات اور گھریلو آمدنی میں کمی سے جوڑا۔ ٹائمز ہائر ایجوکیشن 2024ء کی درجہ بندی میں صرف ایک پاکستانی جامعہ 401سے 500 کے درمیان جگہ پا سکی۔ یہ اعداد و شمار تشویش ناک ہیں۔مگر یہ ارقام کم سرمایہ کاری اور بدانتظامی کو بے نقاب کرتے ہیں سرکاری ملکیت کے اصول کو نہیں۔ کسی ناکام سرکاری ادارے کا وجود یہ ثابت نہیں کرتا کہ ریاست کو اسے چھوڑ دینا چاہیے۔یہ ثابت کرتا ہے کہ اس ادارے کو بہتر انتظام، شفاف حکمرانی اور مناسب مالی معاونت کی ضرورت ہے۔پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنزکی نجکاری ایک خبردار کرنے والی مثال پیش کرتی ہے۔ پی آئی اے اس لیے نہیں ڈوبی کہ وہ سرکاری ملکیت میں تھی،وہ تباہ ہوئی کیونکہ متعاقب حکومتوں نے سیاسی مداخلت، بے جا بھرتیاں اور مالی احتساب سے مکمل غفلت کی۔جب کسی ادارے کو بدانتظامی کے ذریعے زوال پذیر ہونے دیا جائے اور پھر نجی ہاتھوں میں منتقل کر دیا جائے تو یہ اصلاح نہیں،بلکہ ناکامی کی منتقلی ہے۔
کامیاب معیشتوں کا سبق: ریاست پیچھے نہیں ہٹی:۔یہی منطق جامعات پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ وہ ممالک جنہوں نے اپنی معیشتوں کو کامیابی سے بدلا جنوبی کوریا، سنگاپور، ملائیشیا انہوں نے سرکاری اعلی تعلیم میں بھاری سرمایہ کاری کی اور جامعات کو قومی بوجھ نہیں بلکہ قومی اثاثہ سمجھا۔ یہاں تک کہ پھلتی پھولتی نجی تعلیم والے ممالک بھی طاقتور سرکاری جامعات برقرار رکھتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ تعلیم صرف منافع کے لیے نہیں ہوتی۔ خالص علوم، علومِ انسانی اور استاد سازی جیسے شعبے فوری تجارتی منافع نہیں دیتے نجکاری زدہ جامعات عوامی بھلائی کیلئے انہیں کبھی رضاکارانہ طور پر برقرار نہیں رکھیں گی۔
دائو پر کیا لگا ہے؟ سماجی ترقی کا دروازہ: سرکاری جامعات تاریخی طور پر پاکستان میں سماجی بلندی کا سب سے اہم ذریعہ رہی ہیں۔ درمیانے اور نچلے آمدنی کے خاندانوں کے طلبا پیشہ ورانہ زندگی کا حقیقی موقع انہی اداروں سے حاصل کرتے ہیں۔ اگر نجکاری سے فیسیں آسمان کو چھونے لگیں تو یہ راستہ بند ہو جائے گا ۔ نتیجہ صرف معاشی عدم مساوات نہیں بلکہ نسل در نسل مواقع کا سکڑتا ہوا دروازہ ہوگا۔پاکستان کا آئین اس معاملے میں واضح ہے۔ آرٹیکل 25-A پانچ سے سولہ سال کی عمر کے بچوں کیلئے مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دیتا ہے ۔ یہ اصول روح کے اعتبار سے اعلیٰ تعلیم تک بھی پھیلتا ہے: ریاست کا وجود اپنے شہریوں میں سرمایہ کاری کیلئے ہے اس سرمایہ کاری سے دستبردار ہونے کیلئے نہیں جب وہ دشوار ہو جائے۔
ریاست کا اصل امتحان:جامعات کی نجکاری کی بحث اصل میں اس سوال کی بحث ہے کہ پاکستان کس قسم کا ملک بننا چاہتا ہے۔ جو قوم تعلیم میں سرمایہ کاری کرے اور مواقع کو حقیقی معنوں میں کھلا رکھے وہ آگے بڑھنے کی راہ بناتی ہے۔ جو قوم اپنے اداروں کو زوال دینے کے بعد انہیں بیچ دے وہ مسائل حل نہیں کرتی، بس ذمے داری کا بوجھ کسی اور کے کندھوں پر ڈال دیتی ہے۔اصلاح ضروری اور بہت عرصے سے التوا میں ہے لیکن اصلاح کا مطلب ہے شفاف حکمرانی، میرٹ پر مبنی تقرریاں، تحقیقی سرمایہ کاری میں اضافہ، اور تعلیمی بجٹ بڑھانے کا سنجیدہ عزم محض ملکیت کی تبدیلی نہیں۔ نجی ادارے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن ایک مضبوط سرکاری شعبے کے ساتھ، اس کے متبادل کے طور پر نہیں۔سرکاری جامعات کو نجی مفادات کے حوالے کرنے سے پہلے ریاست کو ایک سچا سوال کا جواب دینا ہوگا: کیا ہم اپنے مسائل حل کر رہے ہیں، یا بس ریاست کی ذمے داری کو کسی اور سمت منتقل کر رہے ہیں؟






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں