بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 28.3°C
Tuesday, 23 June 2026 | پاکستان: 8 محرم 1448

دہشتگردی: قربانیاں، چیلنجز اور قومی ذمہ داریاں

Tuesday, 23 June, 2026

پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل، صبر آزما اور خون آشام جنگ لڑ رہا ہے۔ اس جنگ نے نہ صرف ہزاروں قیمتی جانیں نگل لیں بلکہ ملکی معیشت، سماجی استحکام، تعلیمی سرگرمیوں اور عوامی زندگی پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ اگرچہ سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی تھی لیکن حالیہ برسوں میں ایک مرتبہ پھر ملک کے بعض علاقوں خصوصا خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے قومی سلامتی اور امن و امان کے حوالے سے نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ حال ہی میں خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز اور پولیس پر ہونے والے حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دہشت گرد عناصر اب بھی اپنی مذموم سرگرمیوں سے باز نہیں آئے۔ یہ حملے نہ صرف ریاستی اداروں کو چیلنج کرنے کی کوشش ہیں بلکہ عوام میں خوف و ہراس پھیلانے اور ملک کے امن کو سبوتاژ کرنے کی ایک منظم سازش بھی ہیں۔ تاہم یہ حقیقت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج، پولیس، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عوام پہلے بھی ایسے چیلنجز کا مقابلہ کر چکے ہیں اور آج بھی ملک کے دفاع اور امن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ دہشت گردی صرف ایک سکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی، سیاسی اور فکری چیلنج بھی ہے۔ جب کسی معاشرے میں انتہا پسندی، نفرت، عدم برداشت اور تشدد پر مبنی سوچ فروغ پانے لگے تو دہشت گرد تنظیموں کو اپنے لیے ہمدردیاں پیدا کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق اور بارود سے نہیں جیتی جا سکتی بلکہ اس کیلئے ایک مضبوط قومی بیانیہ، معیاری تعلیم، معاشی ترقی اور سماجی انصاف بھی ضروری ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ فوجی جوانوں، پولیس اہلکاروں، اساتذہ، طلبہ، صحافیوں، مذہبی شخصیات اور عام شہریوں سمیت ہر طبقے نے اس جنگ کی قیمت ادا کی ہے۔ سانحہ آرمی پبلک سکول، مختلف خودکش حملے، مساجد، امام بارگاہوں، بازاروں اور عوامی مقامات پر ہونیوالی دہشت گرد کارروائیاں آج بھی قوم کے اجتماعی حافظے کا حصہ ہیں۔ ان واقعات نے ہمیں یہ سبق دیا کہ دہشت گردی کسی ایک فرد، ادارے یا علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس کا کردار خصوصی طور پر قابلِ ستائش ہے۔ اکثر اوقات پولیس اہلکار محدود وسائل کے باوجود دہشتگردوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہوتے ہیں۔ خیبرپختونخوا پولیس نے گزشتہ کئی برسوں میں جس جرات، بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ پوری قوم کیلئے باعث فخر ہے۔ پولیس چوکیوں، تھانوں اور گشت پر مامور اہلکار مسلسل دہشت گردوں کا ہدف بنتے رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دہشت گردی کے مسئلے کی بعض جڑیں سرحد پار عوامل سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔ پاکستان کے مغربی سرحدی علاقوں کی جغرافیائی حساسیت اور افغانستان کی بدلتی صورتحال نے سکیورٹی چیلنجز میں اضافہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس تعاون اور علاقائی سطح پر سفارتی کوششوں کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ دہشت گرد عناصر کی نقل و حرکت اور مالی معاونت کے راستوں کو مکمل طور پر بند کیا جا سکے۔ دوسری جانب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی اہمیت بھی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ جدید دور میں دہشتگرد تنظیمیں اپنے طریقہ کار تبدیل کر رہی ہیں اور روایتی جنگ کے بجائے چھوٹے گروہوں اور خفیہ نیٹ ورکس کے ذریعے کارروائیاں کر رہی ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ریاستی ادارے جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل نگرانی اور معلوماتی نظام کو مزید مضبوط بنائیں تاکہ دہشت گردوں کو کارروائی سے قبل ہی بے نقاب کیا جا سکے۔ دہشت گردی کے خلاف کامیابی کے لیے عوامی تعاون بھی ناگزیر ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں صرف ریاستی ادارے عوامی تعاون کے بغیر دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں کر سکتے۔ شہریوں کو مشکوک سرگرمیوں کی بروقت اطلاع دینا، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کرنا اور شدت پسند نظریات کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی۔ اسی طرح والدین، اساتذہ، مذہبی رہنما اور سماجی شخصیات بھی نوجوان نسل کی مثبت تربیت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ میڈیا کا کردار بھی اس جنگ میں انتہائی اہم ہے۔ ذمہ دار صحافت نہ صرف عوام کو درست معلومات فراہم کرتی ہے بلکہ دہشت گردوں کے پروپیگنڈے کو ناکام بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ سنسنی خیزی سے گریز کرتے ہوئے قومی مفاد، سچائی اور ذمہ داری کو مقدم رکھے تاکہ دہشت گرد عناصر اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکیں۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی کیخلاف قومی اتفاق رائے کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن قومی سلامتی اور امن کے معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں، اداروں اور سماجی طبقات کو ایک صفحے پر آنا ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں متحد ہوتی ہیں تو بڑے سے بڑا خطرہ بھی ان کا راستہ نہیں روک سکتا۔ پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں جو قربانیاں دی ہیں، وہ کسی بھی قیمت پر فراموش نہیں کی جا سکتیں۔ شہدا کا خون اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم امن، استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، لیکن یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ پاکستان کے عوام، سکیورٹی فورسز اور ریاستی ادارے اس ناسور کے خاتمے کیلئے پُرعزم ہیں۔پاکستان کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کے باوجود یہ حقیقت حوصلہ افزا ہے کہ قوم نے ماضی کے مقابلے میں زیادہ شعور اور پختگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ آج عوام کی بڑی اکثریت دہشت گردی اور انتہا پسندی کو مسترد کر چکی ہے۔ یہی قومی سوچ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ دہشت گرد عناصر دراصل خوف، انتشار اور مایوسی پھیلانا چاہتے ہیں، لیکن جب قوم متحد ہو کر ان عزائم کو ناکام بناتی ہے تو دہشت گردی کی بنیادیں خود بخود کمزور پڑ جاتی ہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی سلامتی کے معاملے کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھا جائے۔ حکومت، اپوزیشن، عسکری قیادت، عدلیہ، میڈیا اور سول سوسائٹی کو ایک مشترکہ قومی لائحہ عمل کے تحت آگے بڑھنا ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک ادارے یا حکومت کی جنگ نہیں بلکہ پورے پاکستان کی جنگ ہے۔ جب تک قومی سطح پر مکمل ہم آہنگی اور تسلسل برقرار نہیں رہے گا، اس ناسور کے مکمل خاتمے کا خواب ادھورا رہے گا۔ پاکستان نے ماضی میں دہشت گردی کے خلاف بے مثال کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ آپریشن ضربِ عضب، ردالفساد اور دیگر سکیورٹی اقدامات نے دہشت گردوں کے منظم نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچایا۔ آج بھی ہمارے سکیورٹی ادارے پوری مستعدی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے جو قربانیاں دی ہیں، وہ ہماری قومی تاریخ کا ایک روشن باب ہیں۔ ان قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دینا چاہیے۔ ہمیں شہدا کے خون کی حرمت کو برقرار رکھتے ہوئے ایک ایسے پاکستان کی تعمیر کرنی ہے جہاں قانون کی حکمرانی ہو، شہری محفوظ ہوں، نوجوانوں کو ترقی کے مواقع میسر ہوں اور کوئی بھی دشمن قوت ہمارے امن کو یرغمال نہ بنا سکے۔ یہی شہداء کے ساتھ حقیقی وفاداری، قومی یکجہتی کا تقاضا اور پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *