بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 28.9°C
Tuesday, 23 June 2026 | پاکستان: 8 محرم 1448

بھارت کا کشمیر میں شیطانی ایجنڈا بے نقاب

Tuesday, 23 June, 2026

سنجیدہ مبصرین کے مطابق خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ جنوبی ایشیا میں اصل کشمکش صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اب یہ سیاسی، سفارتی اور بیانیاتی محاذوں تک پھیل چکی ہے کیوں کہ کسے علم نہیں کہ بھارت کی جانب سے گزشتہ کئی دہائیوں سے مسئلہ کشمیر کو داخلی معاملہ قرار دینے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم پاکستان کا مؤقف واضح اور دوٹوک ہے کہ کشمیر ایک بین الاقوامی تنازع ہے جسے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیا جانا چاہیے ۔ مبصرین کے مطابق بھارت کی پالیسی کا ایک اہم پہلو یہ رہا ہے کہ وہ عالمی سطح پر کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو کمزور دکھانے کی کوشش کرتا رہا ہے، جبکہ پاکستان مسلسل سفارتی سطح پر یہ مؤقف پیش کرتا آیا ہے کہ کشمیری عوام کے سیاسی، انسانی اور بنیادی حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی تناظر میں آزاد کشمیر کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ خطہ نہ صرف کشمیری شناخت کا حصہ ہے بلکہ مسئلہ کشمیر کے سیاسی اور سفارتی پس منظر میں بھی ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ 2019 میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت میں تبدیلی کے بعد پاکستان نے عالمی سطح پر اس معاملے کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات سے مسئلہ کشمیر کی تاریخی اور قانونی حیثیت قطعا ًتبدیل نہیں ہو سکتی۔ سفارتی ماہرین کے مطابق بھارت کی کوشش رہی ہے کہ کشمیر کو دنیا کے سامنے ایک داخلی انتظامی معاملے کے طور پر پیش کیا جائے، جبکہ پاکستان اسے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود دیرینہ تنازع کے طور پر اجاگر کرتا ہے ۔ جان کاروں کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق، سیاسی آزادیوں اور عوامی اظہارِ رائے سے متعلق خدشات مسلسل عالمی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ کشمیری عوام کو سیاسی آزادی، بنیادی حقوق اور اپنے مستقبل کے تعین کا حق ملنا چاہیے۔ اسی وجہ سے پاکستان کشمیر کے معاملے کو صرف علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی اور سیاسی مسئلہ قرار دیتا ہے۔اسی تناظر میں آزاد کشمیر کے اندرونی معاملات کو بھی وسیع تر قومی اور علاقائی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جمہوریت کی اصل روح عوامی نمائندگی، آئینی اداروں کی مضبوطی اور قانون کی حکمرانی میں مضمر ہوتی ہے۔ سیاسی اختلاف، احتجاج اور تنقید جمہوری نظام کا حصہ ہیں، لیکن ان سرگرمیوں کا مقصد ریاستی اداروں کو کمزور کرنا نہیں بلکہ انہیں مزید بہتر اور جوابدہ بنانا ہونا چاہیے۔سیاسی مبصرین کے مطابق کسی بھی خطے میں مستقل احتجاج، ہڑتالیں اور سڑکوں کی سیاست اگر ادارہ جاتی نظام کا متبادل بن جائیں تو اس کے منفی اثرات عوامی زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔ ترقیاتی منصوبے متاثر ہوتے ہیں، معاشی سرگرمیاں محدود ہوتی ہیں اور سب سے زیادہ نقصان عام شہری کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ آزاد کشمیر جیسے حساس خطے میں سیاسی استحکام کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ براہِ راست کشمیر کاز سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔یہ بات قابلِ غور ہے کہ پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں میں آزاد کشمیر کی ترقی کے لیے مختلف شعبوں میں تعاون کیا ہے۔ سڑکوں، توانائی، تعلیم، صحت، سیاحت اور بنیادی ڈھانچے کے متعدد منصوبوں میں وفاقی معاونت شامل رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر کی ترقی کا عمل سیاسی استحکام اور بہتر حکمرانی سے براہِ راست وابستہ ہے۔دوسری جانب تجزیہ کاروں کا مؤقف ہے کہ بھارت طویل عرصے سے کشمیر کے معاملے پر ایک متبادل بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کرتا رہا ہے جس میں پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو مختلف انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارتی ریاستی پالیسیوں کا مقصد کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو کمزور کرنا اور عالمی سطح پر مسئلے کی اہمیت گھٹانا ہے۔اسی تناظر میں پاکستان میں یہ تشویش بھی ظاہر کی جاتی ہے کہ بعض عناصر سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر ایسے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں جو بالواسطہ یا بلاواسطہ پاکستان مخالف مہمات سے ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں۔ جان کاروں کے مطابق کسی بھی سیاسی اختلاف کو بیرونی مفادات کیلئے استعمال ہونے سے روکنا ضروری ہے، کیونکہ قومی معاملات میں داخلی استحکام بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ عوامی مسائل کا حل صرف نعروں یا احتجاج سے نہیں بلکہ مؤثر حکمرانی، شفاف نظام اور اداروں کے ذریعے ممکن ہوتا ہے۔ آزاد کشمیر کے عوام کو روزگار، تعلیم، صحت، بجلی اور ترقی کے مواقع فراہم کرنا ریاستی ذمہ داری ہے، تاہم ان اہداف کے حصول کے لیے آئینی اور جمہوری راستوں کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔پاکستانی نقط نظر سے دیکھا جائے تو کشمیر کاز کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے درمیان سیاسی، سماجی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی برقرار رہے۔ ایک مستحکم، ترقی یافتہ اور مضبوط اداروں والا آزاد کشمیر نہ صرف اپنے عوام کے بہتر مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر کشمیر کے مقدمے کو بھی زیادہ مؤثر انداز میں پیش کر سکتا ہے۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن ریاستی اداروں کو کمزور کرنا، انتشار کو فروغ دینا یا ایسے شیطانی بیانیوں کو آگے بڑھانا جو پاکستان کے قومی مفادات کو نقصان پہنچائیں، کسی طور قابلِ قبول نہیں۔ مسئلہ کشمیر کے تناظر میں پاکستان کا مؤقف واضح اور ٹھوس ہے کہ خطے میں پائیدار امن، انصاف اور استحکام اسی وقت ممکن ہے جب کشمیری عوام کے سیاسی حقوق، علاقائی امن اور جمہوری اقدار کو حقیقی معنوں میں اہمیت دی جائے۔اسی حوالے سے آزاد مبصرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ دراصل بھارت چھوٹی ذہنیت کا بڑا ملک ہے امید کی جانی چاہے کہ سبھی باشعور اس ضمن میں اپنا قومی کردار ادا کرتے ہوئے بھارتی سازشوں کو کارگر ڈھنگ سے ناکام بنائیں گے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *