محترمہ بینظیر بھٹو کی سالگرہ کا دن محض کیلنڈر کے کسی ہندسے کا نام نہیں، بلکہ یہ اس تاریخ ساز اور آفاقی شخصیت کی یاد کا استعارہ ہے جس نے مشرق کی سنگلاخ وادیوں سے اٹھ کر عالمی سیاست کے افق پر اپنے گہرے، انمٹ اور لازوال نقوش چھوڑے۔ دنیا انہیں مسلم امہ کی پہلی خاتون وزیر اعظم اور جمہوریت کی ایک آہنی علامت کے طور پر تو جانتی ہے، لیکن تاریخ کی ضخیم کتابوں میں درج ان کے جلی حروف کے پیچھے ایک ایسا انتہائی حساس دل، تڑپتا ہوا شعور اور بے پناہ فکری گہرائی چھپی تھی، جس سے عام قاری اکثر ناواقف رہتا ہے۔ وہ صرف اقتدار کے عالی شان ایوانوں کی زینت نہیں تھیں، اور نہ ہی ان کی سیاست روایتی جوڑ توڑ کا نام تھا؛ ان کی اصل طاقت وہ بے لوث انسانی رویے، نظریاتی پختگی اور پسے ہوئے طبقات کیلئے وہ دلی تڑپ تھی جس نے انہیں ایک مروجہ سیاست دان کے دائرے سے بہت بلند کر کے ایک ابدی و لازوال عالمی رہنما کے مرتبے پر فائز کر دیا۔انکی بے نظیر شخصیت کی یہ اٹھان کسی ایسے روایتی جاگیر دارانہ پنگھوڑے میں نہیں ہوئی جہاں غریب کو حقیر اور اچھوت سمجھا جاتا ہے، بلکہ ان کے والد قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں بچپن ہی سے ایک مختلف نہج پر پروان چڑھایا۔ وہ انہیں اپنے آبائی کھیتوں اور زمینوں پر لے جاتے اور تپتی ہوئی کڑی دھوپ میں کام کرتے ہاریوں کی طرف اشارہ کر کے کہتے کہ “بینظیر! دیکھو، یہ لوگ اس جھلساتی ہوئی گرمی میں پسینہ بہاتے ہیں، اور ان کے اسی خون پسینے کی بدولت تمہیں دنیا کی بہترین تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ تمہارے سر پر ان لوگوں کا ایک بھاری قرض ہے، اور تمہیں پڑھ لکھ کر واپس آنا ہے اور اپنے عوام کی خدمت کر کے اس قرض کو اتارنا ہے۔” یہی نہیں، بلکہ اس دور کے سخت روایتی اور پدرشاہی نظام کے برعکس، انہیں اپنے گھر کے کھانے کی میز پر ہمیشہ سب سے اعلی مقام دیا گیا تاکہ ان کے اندر یہ یقین راسخ ہو جائے کہ عورت صنفِ نازک ضرور ہے مگر وہ فکری اور عملی طور پر مرد سے کسی طور کم تر نہیں۔ اسی منفرد، انقلابی اور انسان دوست تربیت نے ان کے اندر وہ انقلابی سوچ پیدا کی جس نے آگے چل کر پاکستان کے غریب، مظلوم اور محروم طبقات کیلئے انکے دل میں بے پناہ محبت اور ہمدردی کے چشمے جاری کیے۔ایک ایسے دور میں جب مغربی دنیا پر برطانوی اشرافیہ کا ذہنی اور سیاسی دبدبہ قائم تھا، بینظیر بھٹو نے آکسفورڈ یونین کی پہلی ایشیائی خاتون صدر منتخب ہو کر تاریخ کا دھارا ہی بدل دیا۔ انہوں نے دنیا کے اس معتبر ترین فورم پر ثابت کیا کہ نوآبادیاتی نظام کے جبر سے آزاد ہونے والے ممالک کی بیٹیاں فکری محاذ پر مغرب کے بڑے بڑے دانشوروں کو زیر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ آکسفورڈ یونین کے اس باوقار ایوان میں ان کی تقاریر محض الفاظ کا جادوئی مجموعہ نہیں تھیں، بلکہ وہ تیسری دنیا کے پامال حقوق، استعماری و سامراجی نظام کے خلاف ایک توانا احتجاج اور جمہوریت کی بالادستی کا ایک بے باک اعلان تھیں۔ انہوں نے اسی دور میں عالمی مقتدر حلقوں کو یہ پیغام دے دیا تھا کہ آمریت کے سیاہ اندھیرے چاہے کتنے ہی گہرے اور طویل کیوں نہ ہوں، عوامی طاقت کا سورج بالآخر ان کا سینہ چاک کر کے ابھرتا ہے۔پاکستان کی بٹی ہوئی اور پامال سیاست میں واپسی کے بعد، ان کا اصل کارنامہ صرف انتخابی معرکے جیتنا یا سیاسی حریفوں کو شکست دینا نہیں تھا، بلکہ غریب کی مرجھائی ہوئی دہلیز تک حقیقی ریلیف پہنچانا تھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی فکری جمہوریت میں عورت صرف ایک ووٹر نہیں تھی، بلکہ وہ اسے معاشرتی تبدیلی کی حقیقی معمار بنانا چاہتی تھیں۔ فرسٹ ویمن بینک کا قیام اسی دور اندیش وژن کا شاخسانہ تھا۔ ایک ایسے روایتی معاشرے میں جہاں خواتین کو مالیاتی اور معاشی فیصلوں سے دانستہ دور رکھا جاتا تھا، انہوں نے خواتین کیلئے ایک ایسا مخصوص ادارہ قائم کیا جو انہیں آسان قرضے، کاروبار کے مواقع اور مالی خودمختاری کے راستے دکھا سکے۔ یہ صرف ایک بینک نہیں تھابلکہ اس فرسودہ سماجی سوچ کے خلاف ایک کھلا اعلانِ جنگ تھا کہ عورت کا کردار صرف گھر کی چار دیواری تک محدود ہے۔ اسی طرح خواتین کیلئے علیحدہ اور مخصوص پولیس اسٹیشنز کا تصور بھی اپنے وقت سے بہت آگے کی سوچ کا مظہر تھا۔ملک سے پولیو جیسی موذی وبا کے خاتمے کیلئے بھی ان کا کردار محض کسی روایتی سرکاری اشتہاری مہم تک محدود نہیں تھا۔ انہوں نے اس سنگین مسئلے کو ایک ذاتی، مولیاتی اور قومی ذمہ داری کے طور پر تسلیم کیا۔ جب معاشرے میں اس ویکسین کے خلاف شدید مذہبی اور سماجی توہمات کا راج تھا تو انہوں نے کسی سیاسی نقصان کی پروا کیے بغیر اپنی بیٹی آصفہ بھٹو زرداری کو عوامی سطح پر پولیو کے قطرے پلا کر ایک بے مثال علامتی پیغام دیا۔ اس ایک عمل نے پورے ملک میں ویکسین کے خلاف پھیلے ہوئے منفی پروپیگنڈے کی کمر توڑ دی اور لاکھوں ماں کو اپنی اولاد کو محفوظ بنانے کا حوصلہ دیا۔صرصرِ آمریت کے بدترین تھپیڑوں، سکھر اور کراچی کے تپتے ہوئے قید خانوں کی تنہائی، عقوبت خانوں کی روح فرسا سختیاں اور اپنے عظیم والد کی ناگہانی جدائی کا گہرا اور جانکاہ صدمہ جھیلنے کے باوجود، جب وہ دوبارہ عوامی تائید سے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچیں تو انہوں نے انتقام کی سیاست کو چھوئے بغیر یکسر مسترد کر دیا۔ انہوں نے اپنے عمل سے واضح کیا کہ جمہوریت کی بقا اور استحکام سستے اور پست سیاسی بدلے لینے میں نہیںبلکہ پرانے زخموں کو بھرنے، رواداری اور قومی مفاہمت کو فروغ دینے میں ہے۔ انکی اسی جمہوری وابستگی اور فکری پختگی کا سب سے بڑا تاریخی ثبوت میثاقِ جمہوریت تھا۔ اپنے بدترین سیاسی حریف میاں نواز شریف کیساتھ بیٹھ کر ایک وسیع تر جمہوری معاہدے پر دستخط کرنا اس بات کا بین ثبوت تھا کہ ان کے نزدیک قومی مفاد ہمیشہ ذاتی تلخیوں اور جماعتی عداوتوں سے بہت بڑا ہوتا ہے۔ یہ وہ تاریخی لمحہ تھا جب پاکستان کی دو بڑی متصادم سیاسی قوتوں نے کم از کم اصولی طور پر یہ تسلیم کر لیا کہ غیر آئینی مداخلت، کمزور پارلیمنٹ، دبائو زدہ عدلیہ اور غیر مستحکم سیاسی نظام ملک کو کبھی آگے نہیں لے جا سکتے۔ یہ ان کی فکری پختگی اور اعلی ظرفی کی وہ نایاب مثال ہے جس نے پاکستان کی سیاست کو انتقام کی دلدل سے نکال کر ایک مثبت، تعمیری اور پائیدار رخ دیا ۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں واضح کیا کہ اصل جنگ اسلام اور مغرب کے درمیان نہیں ہے، بلکہ خود مسلم دنیا کے اندر روشن خیالی، ترقی پسندی اور رجعت پسندی و انتہا پسندی کے مابین ہے۔ اپنی زندگی کے آخری لمحات اور آخری کتاب تک انہوں نے دنیا کو مفاہمت، سماجی انصاف، معاشی برابری اور بین الثقافتی مکالمے کا جو راستہ دکھایا، وہ آج بھی عالمی امن اور بقائے باہمی کا واحد عملی حل ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو آج جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں، لیکن ان کی غریب پروری، جمہوریت کی بقا کے لیے ان کی لازوال اور بے لوث جدوجہد، اور ان کا آفاقی و فکری فلسفہ دنیا بھر کے محروم، پسماندہ اور مظلوم طبقات کے دلوں میں امید کا ایک روشن چراغ بن کر ہمیشہ جگمگاتا رہے گا۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں