شہید محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتی ہیں۔ وہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری اسلامی دنیا کی پہلی منتخب خاتون وزیر اعظم تھیں بلکہ جمہوریت، ترقی پسند سیاست اور آئین کی بالادستی کی علامت بھی تھیں ۔ اپنے دونوں ادوارِ حکومت میں محترمہ بینظیر بھٹو نے پاکستان کی داخلی اور خارجہ پالیسیوں کو جمہوری اقدار، سماجی انصاف اور قومی ترقی کے اصولوں کے مطابق تشکیل دینے کی کوشش کی۔ اگرچہ ان کی حکومتوں کو غیر منتخب قوتوں کی مزاحمت، سیاسی عدم استحکام اور بار بار برطرفی جیسے چیلنجز کا سامنا رہا، تاہم ان کی پالیسیوں نے پاکستان کی سیاست اور ریاست پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔محترمہ بے نظیر بھٹو نے 1988 میں جنرل ضیا الحق کی گیارہ سالہ فوجی آمریت کے خاتمے کے بعد اقتدار سنبھالا۔ انکے اولین مقاصد میں جمہوری اداروں کی بحالی، شہری آزادیوں کا فروغ اور آئین کی بالادستی کا قیام شامل تھا۔ ان کی حکومت نے سیاسی قیدیوں کو رہا کیا، ذرائع ابلاغ پر عائد پابندیوں میں نرمی کی اور سیاسی تکثیریت کی حوصلہ افزائی کی۔بے نظیر بھٹو کا پختہ یقین تھا کہ جمہوری تسلسل کے بغیر پائیدار قومی ترقی ممکن نہیں۔ ان کی جدوجہد نے پارلیمانی جمہوریت کو تقویت دی اور آئین کی بالادستی کو مضبوط کیا۔ ان کا سیاسی ورثہ آج بھی جمہوریت پسند قوتوں کیلئے مشعلِ راہ ہے۔محترمہ بے نظیر بھٹو اس امر سے بخوبی آگاہ تھیں کہ انسانی ترقی قومی ترقی کی بنیاد ہے۔ اسی لیے انہوں نے تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کو خصوصی اہمیت دی۔انکی حکومت نے بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کیلئے نئے تعلیمی ادارے قائم کیے اور خواتین کی سماجی و سیاسی شمولیت کی حوصلہ افزائی کی۔ زچہ و بچہ کی صحت، حفاظتی ٹیکہ جات کی فراہمی اور صحت کی سہولیات میں بہتری پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ ان اقدامات کے نتیجے میں شرح خواندگی میں اضافہ، صحت کے شعبے میں بہتری اور بالخصوص خواتین اور دیہی آبادی کو بااختیار بنانے میں مدد ملی ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی سب سے اہم داخلی خدمات میں خواتین کے حقوق اور انکے اختیارات کا فروغ نمایاں ہے۔ انہوں نے فرسٹ ویمن بینک، خواتین پولیس اسٹیشنز اور خواتین کی ترقی کے متعدد پروگرام متعارف کروائے۔انکی قیادت نے روایتی تصورات کو چیلنج کیا اور پاکستان سمیت مسلم دنیا کی لاکھوں خواتین کو سیاست، تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی میں آگے بڑھنے کی ترغیب دی۔خواتین کو بااختیار بنانے کی یہ کوششیں نہ صرف صنفی مساوات کے فروغ کا باعث بنیں بلکہ معاشی ترقی اور سماجی استحکام میں بھی معاون ثابت ہوئیں۔محترمہ بے نظیر بھٹو نے معاشی ترقی کیلئے ایسی پالیسیوں کو فروغ دیا جن کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا، نجکاری کو فروغ دینا اور نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔ ان کی حکومتوں نے انفراسٹرکچر کی ترقی، ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے کی توسیع اور معیشت کی جدید خطوط پر استواری کیلئے اقدامات کیے۔انہوں نے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور دیہی ترقی کے پروگرام بھی متعارف کروائے تاکہ غربت میں کمی اور عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری لائی جا سکے۔ان کی سفارتی کاوشوں نے مغربی جمہوری ممالک اور بین الاقوامی اداروں میں پاکستان کی ساکھ کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔محترمہ بے نظیر بھٹو نے قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے امریکہ کیساتھ تعمیری تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اقتصادی تعاون، ترقیاتی امداد اور تزویراتی مذاکرات پر زور دیا۔امریکہ کیساتھ انکی سفارت کاری کا مقصد پاکستان کیلئے معاشی معاونت حاصل کرنا، جمہوری اداروں کو مضبوط بنانا اور عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت میں اضافہ کرنا تھا۔محترمہ بے نظیر بھٹو نے پاکستان اور چین کے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مستحکم کیا۔ انہوں نے چین کو پاکستان کا قابل اعتماد دوست قرار دیتے ہوئے تجارت، دفاع اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا۔آج پاکستان اور چین کے مضبوط تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہیں، جن کے استحکام میں بے نظیر بھٹو کی سفارتی کوششوں کا نمایاں کردار رہا۔محترمہ بے نظیر بھٹو جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام کی حامی تھیں۔ انہوں نے بھارت کیساتھ مذاکرات، اعتماد سازی کے اقدامات اور پرامن بقائے باہمی پر زور دیا۔ان کا یقین تھا کہ جنوبی ایشیا میں امن ہی اقتصادی ترقی اور علاقائی خوشحالی کی ضمانت ہے۔ ان کی پالیسی تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دیتی تھی۔امن کی خواہش کیساتھ ساتھ محترمہ بے نظیر بھٹو کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی مضبوط حامی تھیں۔ انہوں نے عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا اور کشمیری عوام کیلئے سفارتی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔انکی کاوشوں نے مسئلہ کشمیر کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم جزو بنائے رکھا۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے بالخصوص مشرقِ وسطی کے مسلم ممالک کیساتھ پاکستان کے تعلقات کو فروغ دیا ۔انہوں نے مسلم ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، سیاسی ہم آہنگی اور اتحاد پر زور دیا۔مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم ہونے کے ناطے انہوں نے عالمِ اسلام میں پاکستان کے وقار میں نمایاں اضافہ کیا۔محترمہ بے نظیر بھٹو کی داخلی اور خارجہ پالیسیاں ایک جمہوری، ترقی پسند اور فلاحی پاکستان کے وژن کی عکاس تھیں۔ جمہوریت کیلئے ان کی وابستگی نے ایک مشکل دور میں آئینی سیاست کو زندہ رکھا۔ خواتین کو بااختیار بنانے، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ان کے اقدامات نے عام شہریوں کو براہِ راست فائدہ پہنچایا اور محروم طبقات کیلئے نئے مواقع پیدا کیے ۔بین الاقوامی سطح پر ان کی کوششوں نے پاکستان کے عالمی تشخص کو بہتر بنایا اور ایسے تزویراتی تعلقات کو مضبوط کیا جو آج بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہیں۔ شدید سیاسی دبا اور ادارہ جاتی رکاوٹوں کے باوجود بے نظیر بھٹو اس یقین پر قائم رہیں کہ جمہوریت، وفاقیت، سماجی انصاف اور پرامن بین الاقوامی تعلقات ہی ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کی ضمانت ہیں۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں