بین الاقوامی سیاست کے بدلتے ہوئے دھاروں میں پاکستان آج ایک ایسے ملک کے طور پر ابھرا ہے جو مصالحت، اعتدال اور تدبر کی علامت بن چکا ہے۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں اختلافات، تصادم اور بداعتمادی نے عالمی تعلقات کو الجھا رکھا ہے، پاکستان امن، مفاہمت اور ذمہ دار سفارت کاری کا استعارہ بن کر سامنے آیا ہے۔ ایک وقت تھا جب عالمی رائے عامہ پاکستان کو شک و شبہ، عدم استحکام اور داخلی مشکلات کی عینک سے دیکھتی تھی، مگر آج حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ امریکہ، یورپی ممالک، خلیجی ریاستیں، روس اور چین سمیت دنیا کی بڑی طاقتیں پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر دیکھتی ہیں۔ ان ممالک کے مفادات اب پاکستان کی سفارتی بصیرت، علاقائی اہمیت اور ذمہ دارانہ کردار کے اعتراف پر یکجا ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔پاکستان کے اس بلند ہوتے ہوئے عالمی وقار کا نمایاں مظہر اُس وقت سامنے آیا جب اس نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مفاہمت کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ صرف ایک سفارتی کامیابی نہیں تھی بلکہ اس بات کا اعلان بھی تھا کہ پاکستان عالمی سیاست میں ایک ذمہ دار، متوازن اور اعتماد کے قابل کردار کے طور پر اپنی جگہ بنا چکا ہے۔ وہ ممالک جو کبھی پاکستان کے ساتھ احتیاط برتتے تھے، آج اسی کے ساتھ تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں کیونکہ انہیں اس کے استحکام، بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور اختلافات کے ماحول میں مکالمے کو فروغ دینے کی صلاحیت پر اعتماد ہے۔تاہم عالمی سطح پر حاصل ہونیوالا یہ احترام پاکستان کو اپنے ہمسایہ خطے میں درپیش مسلسل چیلنجز سے محفوظ نہ رکھ سکا۔ مئی 2025ء میں بھارت کی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے نہایت ذمہ داری، تحمل اور مضبوط عزم کے ساتھ ایسا مؤثر ردعمل دیا جس نے سرحدی توازن کو دوبارہ بحال کر دیا۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے بجائے بھارت نے براہِ راست محاذ آرائی کے بجائے بالواسطہ دشمنی کی راہ اختیار کی اور پاکستان کے مختلف حصوں میں پراکسی سرگرمیوں اور تخریبی کارروائیوں کو ہوا دینے کی کوشش کی۔ پاکستانی اداروں نے ان تمام سازشوں پر گہری نظر رکھی اور ہر اقدام کا متناسب اور مؤثر جواب دے کر داخلی سلامتی کو یقینی بنایا، جبکہ غیر ضروری کشیدگی سے بھی گریز کیا۔تاہم بھارت کی سب سے خطرناک حکمتِ عملی آبی جارحیت کی صورت میں سامنے آئی ہے، جو سندھ طاس معاہدے کی منظم خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کی زرعی معیشت اور عوام کے معاشی مستقبل کو نشانہ بنا رہی ہے۔ 1960ء میں عالمی بینک کی سرپرستی میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی آبی تنازعات کے حل کی ایک تاریخی مثال سمجھا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت تین مغربی دریا—سندھ، جہلم اور چناب—پاکستان کے غیر محدود استعمال کے لیے مختص کیے گئے، جبکہ بھارت کو صرف محدود نوعیت کے غیر مصرفی حقوق دیے گئے، جن میں بالخصوص ایسے پن بجلی منصوبے شامل تھے جو دریاؤں کے قدرتی بہاؤ یا پاکستان تک پہنچنے والے پانی کے وقت اور مقدار کو متاثر نہ کریں ۔ اس کے برعکس مشرقی دریا بھارت کے حصے میں آئے۔ یہ تقسیم اس لیے کی گئی تھی تاکہ پنجاب اور سندھ کے وسیع زرعی علاقے، جو مغربی دریاؤں پر انحصار کرتے ہیں، ہمیشہ محفوظ رہیںلیکن بھارت مسلسل ان حدود کو پامال کرتا آ رہا ہے۔ جہلم کے نظام پر تعمیر کیا گیا کشن گنگا پن بجلی منصوبہ اس کی واضح مثال ہے جس کے ذریعے سرنگوں کے راستے پانی کا رخ موڑ کر پاکستان آنے والے پانی میں کمی کی گئی، جس سے نہ صرف آبپاشی بلکہ بجلی کی پیداوار بھی متاثر ہوئی۔ اسی طرح دریائے چناب پر رتلے منصوبہ اپنے ذخیرہآب، تلچھٹ کے انتظام اور تعمیراتی ڈیزائن کے باعث پاکستان کیلئے شدید تشویش کا باعث ہے کیونکہ پاکستان کا موقف ہے کہ یہ منصوبہ بھارت کو معاہدے میں دی گئی حدود سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے اور اس پر کنٹرول حاصل کرنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ بگلیہار منصوبے کی توسیع اور جہلم پر تُلبل نیوی گیشن منصوبے (ولر بیراج) کی بحالی نے بھی خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔ ان منصوبوں کے ذریعے بھارت دراصل پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، اس کا رخ موڑنے اور ایسے ڈیم تعمیر کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو موسمی بہاؤ کو تبدیل کر سکتے ہیں، بوائی کے اہم اوقات میں پانی کی فراہمی کم کر سکتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر اچانک پانی چھوڑ کر تباہ کن سیلاب بھی پیدا کر سکتے ہیں۔یہ تمام اقدامات نہ صرف سندھ طاس معاہدے کی روح بلکہ اس کے واضح قانونی تقاضوں کی بھی صریح خلاف ورزی ہیں۔ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا ایک ایسی خاموش جارحیت ہے جو توپ و تفنگ کی گھن گرج سے کم تباہ کن نہیں بلکہ اس کے اثرات کہیں زیادہ دیرپا اور خطرناک ہیں۔اسی دوران امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں پاکستان کی سفارتی کامیابی امن دشمن قوتوں کی نگاہ سے بھی اوجھل نہ رہی۔ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کی پالیسی پر کاربند اسرائیل ان پیشرفتوں سے سخت نالاں ہے جن میں پاکستان کی انتھک سفارتی کوششوں نے نمایاں کردار ادا کیا۔ اسی تناظر میں امریکہ کے صدر اور نائب صدر کی جانب سے نیتن یاہو پر ہونیوالی کھلی تنقید اور اس کی سیاسی سبکی نے پرانے اتحادیوں کے درمیان دراڑوں کو نمایاں کر دیا۔ ایسے حالات میں یہ بعید از قیاس نہیں کہ اسرائیل بھارت کو مزید اکسا رہا ہو تاکہ وہ پاکستان کیخلاف اپنی آبی دہشت گردی کو تیز کرے، ماضی کی ناکامیوں کا بدلہ لے اور خطے میں استحکام کی جانب بڑھتے ہوئے سفر کو سبوتاژ کرے۔پاکستان اپنی مضبوط ہوتی ہوئی سفارتی حیثیت کی بدولت آج اس قابل ہو چکا ہے کہ اس سنگین مسئلے کو عالمی ضمیر کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کرے۔اسے چاہیے کہ اقوامِ متحدہ کے ایوانوں سے لیکر واشنگٹن، ماسکو، بیجنگ، برسلز اور خلیجی دارالحکومتوں تک ہر مؤثر فورم پر بھارت کی ان خلاف ورزیوں کو مدلل، باوقار اور مسلسل سفارتی مہم کے ذریعے اجاگر کرے ۔یہ سفارتکاری انتقام یا تلخی پر نہیں بلکہ انصاف ، بین الاقوامی قانون اور قومی بقا کے اصولوں پر مبنی ہونی چاہیے۔دنیا کو یہ واضح پیغام دیا جائے کہ اگر بھارت کی یہ روش جاری رہی تو صرف جنوبی ایشیا کا امن ہی نہیں بلکہ عالمی قوانین اور معاہدوں کا تقدس بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔ پاکستان کے عالمی دوست بھی بخوبی جانتے ہیں کہ ایک مستحکم، خوشحال اور محفوظ پاکستان نہ صرف خطے بلکہ عالمی تجارت، انسدادِ دہشت گردی اور جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کیلئے بھی ناگزیر ہے۔دنیا کا کوئی بھی باوقار ملک خاموش تماشائی نہیں بن سکتا جب اس کی زندگی کی شہ رگ کو دانستہ طور پر کاٹنے کی کوشش کی جا رہی ہو۔آگے کا راستہ تدبر اور عزم، دونوں کا متقاضی ہے۔دنیا جس نے پاکستان کو ایک نئے زاویے سے دیکھنا شروع کر دیا ہے، اب اس بات کی منتظر ہے کہ آیا پاکستان آزمائش کی اس گھڑی میں بھی اپنے اصولی کردار سے اس احترام کو مزید مستحکم کر پاتا ہے یا نہیں۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں