بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 26.8°C
Wednesday, 01 July 2026 | پاکستان: 17 محرم 1448

دہشتگردی کی نئی لہر اور موثر ریاستی ردعمل

Wednesday, 1 July, 2026

پاکستان اس وقت دہشت گردی کی ایک نئی اور پیچیدہ لہر کا سامنا کر رہا ہے۔ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور سندھ خصوصا کراچی میں حالیہ مہینوں کے دوران دہشت گرد تنظیموں نے سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنیوالے اداروں اور شہری آبادی کو نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں متعدد سیکیورٹی اہلکار اور عام شہری شہید جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم ریاستی اداروں نے بھرپور جوابی کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کیے، کئی دہشت گردوں کو ہلاک کیا اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔تازہ ترین اور سب سے نمایاں واقعہ کراچی میں پیش آیا جہاں مسلح دہشت گردوں نے سندھ رینجرز کے ایک اہم ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا۔ حملہ آوروں نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کے ذریعے تنصیب میں داخل ہونے کی کوشش کی جس کے بعد شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اس حملے میں تین رینجرز اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہوئے جبکہ سیکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا اور ایک حملہ آور کو گرفتار بھی کیا۔ صدر آصف علی زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ کراچی کا واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دہشت گرد عناصر ملک کے بڑے شہری مراکز بھی ان کے نشانے پر ہیں۔ ماضی میں بھی کراچی پولیس آفس، پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور دیگر اہم تنصیبات پر حملے ہو چکے ہیں، تاہم ہر بار سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بڑے نقصان کو روکنے میں کامیابی حاصل کی۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا میں فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ سرحدی علاقوں، خصوصا پاک افغان سرحد کے قریب، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز مسلسل جاری ہیں۔ حالیہ کارروائیوں میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے زمینی اور فضائی آپریشنز کے ذریعے کم از کم 29 دہشت گردوں کو واصل جہنم کیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائیاں دہشت گردوں کے ٹھکانوں، تربیتی مراکز اور لاجسٹک نیٹ ورکس کیخلاف کی گئیں۔بلوچستان بدستور دہشت گردی اور شورش کا سب سے بڑا مرکز بنا ہوا ہے۔ صوبے میں علیحدگی پسند مسلح گروہوں اور دیگر دہشت گرد عناصر کی سرگرمیوں نے امن و امان کی صورتحال کو متاثر کیا ہے۔ رواں سال کے دوران مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز، عوامی تنصیبات، شاہراہوں اور ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنانے کی متعدد کوششیں کی گئیں۔ تاہم فورسز نے بروقت کارروائیوں کے ذریعے کئی حملے ناکام بنائے اور متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف عسکری کارروائیوں سے نہیں بلکہ سماجی اور اقتصادی ترقی کے ذریعے بھی ممکن ہے۔سال 2026 کے دوران دہشت گردی کے مختلف واقعات نے یہ واضح کیا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں اپنی حکمت عملی تبدیل کر رہی ہیں۔ مئی میں بنوں میں ہونے والے خودکش حملوں اور مسلح کارروائیوں میں متعدد پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ سیکیورٹی اداروں کو روایتی حملوں کے ساتھ ساتھ ڈرونز، خودکش حملہ آوروں اور جدید حربوں کا بھی سامنا ہے۔پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ان چیلنجز کے باوجود انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کیا ہے۔ فوج، رینجرز، فرنٹیئر کور، پولیس اور انٹیلی جنس ادارے مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کر رہے ہیں۔ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے نہ صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے بلکہ ان کے مالیاتی نیٹ ورکس، سہولت کاروں اور رابطہ کاروں کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہیں۔ حالیہ مہینوں میں متعدد سہولت کار گرفتار کیے گئے اور دہشت گردوں کے اسلحہ کے ذخائر برآمد کیے گئے ہیں۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی عوام اور سیکیورٹی فورسز نے بیشمار قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں فوجی، پولیس اہلکار، رینجرز جوان اور عام شہری اس جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ انہی قربانیوں کی بدولت پاکستان نے ماضی میں دہشت گردی کے بڑے نیٹ ورکس کو شکست دی اور ملک میں امن کی فضا بحال کی۔ آج بھی یہی عزم اور قربانی دہشت گردی کے خلاف قومی مزاحمت کی بنیاد ہے۔ پاکستان کو درپیش موجودہ دہشت گردی محض ایک داخلی سیکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ ایک علاقائی اور جغرافیائی سیاسی چیلنج بھی ہے۔ سرحدی سلامتی، انٹیلی جنس تعاون، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع اور پسماندہ علاقوں کی ترقی دہشت گردی کے مستقل خاتمے کیلئے ناگزیر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قومی اتحاد، سیاسی استحکام اور ریاستی اداروں کے درمیان موثر تعاون بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قوم متحد ہوئی، دہشت گردی اور انتہاپسندی کے تمام منصوبے ناکام ہوئے۔ آج ایک بار پھر ملک کو اسی قومی یکجہتی، عزم اور قربانی کی ضرورت ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی حالیہ کامیاب کارروائیاں اس امر کا ثبوت ہیں کہ ریاست دہشت گردی کے خاتمے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے پوری قوت کے ساتھ سرگرم عمل ہے۔ اگر یہی قومی عزم برقرار رہا تو پاکستان نہ صرف موجودہ دہشت گردی کی لہر پر قابو پا لے گا بلکہ خطے میں امن، استحکام اور ترقی کی نئی مثال بھی قائم کرے گا۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *