بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 30.2°C
Wednesday, 01 July 2026 | پاکستان: 16 محرم 1448

پاکستانی نظام پر مکیاویلی کے اثرات!

Wednesday, 1 July, 2026

یہ حقیقت ہے کہ نِکولو مکیاویلی نے اپنی شہرہ آفاق کتاب “دی پرنس” حکمرانوں کو اقتدار کے حصول، اس کے تحفظ اور مخالفین سے نمٹنے کے عملی اصول سمجھانے کے لیے لکھی تھی۔ اگر وہ آج کے پاکستان کا مختصر مطالعاتی دورہ کر لیتا تو شاید اپنی کتاب کا نیا ایڈیشن شائع کرتا، جس کا عنوان ہوتا: “دی پرائس: پاکستان میں طاقت کی اصل قیمت”۔ کیونکہ یہاں اقتدار محض سیاسی اختیار نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ فکر ہے، جہاں اصولوں سے زیادہ تعلقات اور قانون سے زیادہ مفادات کارفرما دکھائی دیتے ہیں۔ہمارے ہاں مکیاویلی کے نظریات صرف کتابوں تک محدود نہیں رہے بلکہ عملی سیاست، انتظامی رویوں اور سماجی ڈھانچے میں سرایت کر چکے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ مغرب میں انہیں سیاسی حقیقت پسندی کہا جاتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں یہی رویے “تجربہ”، “سیاسی بصیرت” اور “عملی حکمت” کے خوشنما عنوانات اختیار کر لیتے ہیں۔مکیاویلی کا پہلا اصول یہ ہے کہ جو اطاعت چاہتا ہے اسے حکم دینا آنا چاہیے۔ پاکستان میں اس اصول کو مزید وسعت دے دی گئی ہے۔ یہاں حکم دینے کے لیے باضابطہ عہدہ ضروری نہیں، صرف اثر و رسوخ کافی ہے۔ بعض اوقات محض یہ جملہ کہ “اوپر سے آرڈر ہے” پورے نظام کو متحرک کر دیتا ہے، اور اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص بھی خاموشی سے فائل سنبھال کر قطار میں کھڑا ہو جاتا ہے۔اطالوی مفکر نے یہ بھی کہا تھا کہ صرف نیکی ہمیشہ فائدہ نہیں دیتی۔ ہمارے معاشرے میں یہ بات ایک غیر تحریری قاعدہ بن چکی ہے۔ اگر کوئی شخص بغیر سفارش یا مفاد کے اپنا کام کروانے کی کوشش کرے تو اسے حیرت سے دیکھا جاتا ہے، جیسے وہ کسی متروک نظام پر عمل پیرا ہو۔ دیانت داری اپنی جگہ قابلِ احترام ہے، مگر عملی نظام میں اکثر بے بس نظر آتی ہے۔مکیاویلی کا ایک اور مشاہدہ یہ تھا کہ لوگ اپنے مالی نقصان کو جذباتی نقصان سے زیادہ دیر تک یاد رکھتے ہیں۔ پاکستان میں یہ حقیقت ہر بجٹ کے بعد پوری شدت سے سامنے آتی ہے۔ مہنگائی، معاشی دباؤ اور روزمرہ اخراجات عوامی گفتگو کا مرکزی موضوع بن جاتے ہیں، جبکہ سیاسی نعرے اور وعدے پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔خوف اور محبت کے درمیان انتخاب کے حوالے سے مکیاویلی کا خیال تھا کہ خوف زیادہ مؤثر ہتھیار ہے۔ ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں یہ رجحان مختلف سطحوں پر دیکھا جا سکتا ہے۔ طالب علم استاد سے، ملازم افسر سے، شہری اداروں سے اور کاروباری طبقہ مختلف ضوابط سے ایک طرح کے غیر مرئی خوف میں مبتلا رہتا ہے۔ نتیجتاً اعتماد کے بجائے احتیاط اجتماعی رویہ بن جاتا ہے۔اعتماد کے بارے میں مکیاویلی نے کہا تھا کہ ہر شخص پر مکمل بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔ پاکستانی معاشرے میں یہ سوچ اس قدر گہری ہو چکی ہے کہ اب سچ بولنے والے پر بھی پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے مقصد کیا ہے۔ اعتماد کا بحران صرف افراد تک محدود نہیں رہا بلکہ اداروں تک پھیل چکا ہے۔اطالوی فلسفی کا یہ بھی کہنا تھا کہ عوام اکثر حقیقت سے زیادہ تماشا پسند کرتے ہیں۔ یہی رجحان ہمارے میڈیا اور سیاست میں نمایاں ہے، جہاں پالیسی مباحثوں سے زیادہ اہم پریس کانفرنس کے مناظر، اور کارکردگی سے زیادہ وائرل کلپس سمجھے جاتے ہیں۔ اگر بجلی بند ہو جائے تو یہ انتظامی مسئلہ ہے، لیکن اگر کسی پریس کانفرنس میں مائیک خراب ہو جائے تو وہ بریکنگ نیوز بن جاتی ہے۔حکمرانی کے حوالے سے مکیاویلی کا خیال تھا کہ ضرورت پڑنے پر سختی ناگزیر ہے۔ ہمارے ہاں اس اصول کی عملی تعبیر یہ ہے کہ قانون اکثر کمزور کے لیے سخت اور طاقتور کے لیے نرم ہو جاتا ہے۔ ٹریفک پولیس کی مثال ہی لے لیجیے، جہاں عام شہری پر قانون فوراً نافذ ہو جاتا ہے، مگر طاقتور طبقات کیلئے راستے نسبتاً نرم ہو جاتے ہیں۔ مکیاویلی نے کہا تھا کہ جب ضرب لگانی ہو تو فیصلہ کن ہونی چاہیے۔ ہمارے معاشی نظام میں یہ ضرب اکثر بجٹ کے دن محسوس ہوتی ہے، جب ایک ساتھ کئی فیصلے عوامی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ترجیحات الجھ جاتی ہیں کہ کس مسئلے کو پہلے دیکھا جائے۔اس نے یہ بھی کہا تھا کہ دوسروں کو اپنا محتاج بنایا جائے۔ ہمارے ہاں یہ رجحان “سفارش کلچر” کی صورت میں موجود ہے۔ میرٹ اپنی جگہ اہم ہے، مگر عملی نظام میں اکثر سوال یہی ہوتا ہے: “کیا آپ کسی کو جانتے ہیں؟”اطالوی مفکر نے خبردار کیا تھا کہ ہر شخص قابلِ اعتماد نہیں ہوتا۔ پاکستانی عوام یہ سبق تقریباً ہر انتخاب کے بعد نئے انداز میں سیکھتے ہیں، جب وعدے اور حقیقت کے درمیان فرق واضح ہو جاتا ہے۔سیاسی اتحاد اور دشمنی کی تبدیلی بھی مکیاویلی کے فلسفے کا حصہ ہے۔ ہماری سیاست میں اتحاد مستقل نہیں ہوتے؛ آج کے حلیف کل کے مخالف اور کل کے مخالف پرسوں کے اتحادی بن سکتے ہیں۔ یہ صورتحال عام شہری کے لیے اکثر الجھن پیدا کرتی ہے۔طاقت کے توازن کے حوالے سے ہمارے ہاں صورت حال مسلسل تغیر پذیر رہتی ہے۔ کبھی ادارے، کبھی سیاسی قوتیں اور کبھی معاشی طبقات اثر انداز ہوتے ہیں، لیکن عام شہری ہمیشہ نسبتاً کمزور حیثیت میں رہتا ہے، جس پر ذمہ داریوں کا بوجھ زیادہ ہوتا ہے۔مکیاویلی کے فلسفے کی حدود سمجھنے کے لیے تاریخ پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ 1917ء کا روسی انقلاب، 1949ء کا چینی انقلاب، 1979ء کا ایرانی انقلاب اور 2011ء کی عرب بہار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جب معاشی ناہمواری، بے روزگاری اور ناانصافی بڑھتی ہے تو معاشرے میں بڑی تبدیلیاں جنم لیتی ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر انقلاب خوشحالی نہیں لاتا بلکہ اکثر نئے بحران پیدا کرتا ہے۔ اس لیے اصل ضرورت محض نظام بدلنے کی نہیں بلکہ اداروں کی مضبوطی، قانون کی بالادستی اور انصاف کے فروغ کی ہے۔جدید دور میں سماجی اور سیاسی تبدیلی میں سوشل میڈیا اور ابلاغِ عامہ کا کردار غیر معمولی ہو چکا ہے۔ نوجوان طبقہ ہر بڑی تحریک میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے، جبکہ تعلیم یافتہ معاشرے زیادہ سیاسی شعور رکھتے ہیں۔ تاہم یہی ذرائع بعض اوقات غلط معلومات، جذباتی تقسیم اور افواہوں کو بھی بڑھا دیتے ہیں، اس لیے شعور کے ساتھ ذمہ داری بھی ناگزیر ہے۔انتخابی منشور اور زمینی حقیقت کے درمیان فرق اکثر واضح ہوتا ہے۔ وعدے خوبصورت ہوتے ہیں مگر عمل ان کے برعکس نظر آتا ہے، جس سے عوامی اعتماد بار بار متاثر ہوتا ہے۔شکست کے باوجود خود کو مضبوط ظاہر کرنے کا رجحان بھی ہمارے سیاسی اور انتظامی نظام میں نمایاں ہے۔ ہر بحران کے بعد یہی تاثر دیا جاتا ہے کہ صورتحال قابو میں ہے، حالانکہ زمینی حقائق اکثر مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔تاہم اصل سبق یہی ہے کہ کسی بھی معاشرے کی طاقت خوف یا سختی میں نہیں بلکہ انصاف، شفافیت، قانون کی مساوات اور مضبوط اداروں میں ہوتی ہے۔ شفاف انتخابات، آزاد عدلیہ، جواب دہ ادارے اور انسانی حقوق کا تحفظ وہ بنیادیں ہیں جن پر پائیدار ریاستیں قائم ہوتی ہیں۔تاریخ یہی بتاتی ہے کہ وہی معاشرے ترقی کرتے ہیں جو اپنے شہریوں کو رعایا نہیں بلکہ شریکِ سفر سمجھتے ہیں، اختلافِ رائے کو دشمنی نہیں بلکہ اصلاح کا ذریعہ جانتے ہیں اور قانون کو سب کیلئے برابر نافذ کرتے ہیں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *