بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 25.9°C
Thursday, 02 July 2026 | پاکستان: 17 محرم 1448

آزاد کشمیر کا بحران: طاقت کے استعمال کا امکان

Thursday, 2 July, 2026

آزاد کشمیر ایک مرتبہ پھر ایک ایسے سیاسی اور انتظامی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے جہاں ہر گزرتا دن حالات کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ بظاہر یہ ایک مقامی احتجاج اور انتظامی معاملہ دکھائی دیتا ہے، لیکن اسکے اثرات آزاد کشمیر کی حدود سے کہیں آگے پاکستان کی داخلی سیاست ، ریاستی اداروں، جمہوری نظام اور قومی استحکام تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس بحران کو صرف قانون و انتظام یا امن و امان کے تناظر میں دیکھنا حقیقت کا مکمل عکس پیش نہیں کرتا۔حالیہ پیشرفت کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد میرے نزدیک یہ حقیقت واضح ہوتی جا رہی ہے کہ اس مسئلے کا حل سیاسی مفاہمت، مکالمے اور مذاکرات کے ذریعے نکالنے کے بجائے انتظامی اقدامات پر زیادہ انحصار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ اگر سیاسی حل واقعی ترجیح ہوتا تو وفاق میں شامل مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی اپنی سیاسی حیثیت، پارلیمانی قوت اور اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی سنجیدہ کوشش کرتیں۔ اسی طرح مولانا فضل الرحمن، حافظ نعیم الرحمن اور دیگر بااثر سیاسی و مذہبی شخصیات کو بھی اعتماد سازی اور ثالثی کے عمل میں موثر کردار ادا کرنے کا موقع دیا جا سکتا تھا۔تحفظِ آئین پاکستان اتحاد اور اپوزیشن جماعتوں کے امن وفد کو کہوٹہ سے واپس بھیجنے کے بجائے اگر انہیں فریقین کے درمیان رابطے اور مذاکرات کا ذریعہ بننے دیا جاتا تو شاید ایک مثبت پیش رفت سامنے آتی۔ مگر ایسے تمام امکانات محدود ہوتے گئے، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ سیاسی مکالمے کے بجائے سخت گیر حکمتِ عملی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔راشن کی قلت، میڈیا بلیک آٹ، نقل و حرکت پر پابندیاں اور دیگر سخت اقدامات بھی اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ بحران بڑھ رہا ہے۔ دوسری جانب کشمیری عوام پہلے سے زیادہ مشتعل اور اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر دونوں جانب سخت لہجے برقرار رہے اور خدانخواستہ تصادم بڑھا تو اس کے نتائج صرف آزاد کشمیر تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے پاکستان پر اس کے سیاسی، سماجی اور معاشی اثرات مرتب ہوں گے۔اس تمام صورتحال میں ایک بنیادی حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ آزاد کشمیر میں جاری یہ تحریک نہ پاکستان سے علیحدگی کی تحریک ہے، نہ ریاست کے خلاف بغاوت، اور نہ ہی اسے بغیر ٹھوس شواہد کسی بیرونی سازش کا نام دینا مناسب ہوگا۔یہ بنیادی طور پر عوامی مسائل، معاشی مشکلات، گورننس کے بحران اور عوامی مطالبات سے جڑی ہوئی تحریک ہے۔یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ آخر ایک عوامی مسئلہ اس نہج تک کیوں پہنچا جہاں ریاست اور عوام ایک دوسرے کے سامنے کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ اگر کسی بحران کو بروقت سیاسی بصیرت، موثر حکمرانی اور عوامی نمائندوں کے ذریعے حل نہ کیا جا سکے تو یہ حکمرانی کی صلاحیت پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ وہاں کے عوام نے ہمیشہ اپنے مسائل کے حل کے لیے سیاسی جدوجہد کو ترجیح دی ہے۔ اختلافِ رائے جمہوری معاشروں کا حسن ہوتا ہے، اسے تصادم میں بدل دینا کسی کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتا۔ اگر عوام کو یہ احساس ہونے لگے کہ ان کی آواز سننے کے بجائے انہیں خاموش کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے تو بے اعتمادی مزید گہری ہو جاتی ہے، اور یہی کیفیت کسی بھی بحران کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو آج پاکستان اور آزاد کشمیر میں پائی جانے والی بے چینی، سیاسی افراتفری اور ادارہ جاتی کمزوریوں کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ میری رائے میں اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ ملک میں حقیقی معنوں میں آئین کی بالادستی اور سول حکمرانی مضبوط نہیں ہو سکی۔ جب آئین، پارلیمنٹ اور عدلیہ جیسے بنیادی ادارے بار بار غیر معمولی سیاسی حالات یا نظری ضرورت کے تحت چلائے جائیں تو ادارے کمزور ہوتے ہیں، جمہوری عمل متاثر ہوتا ہے اور عوام کا اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔ میری رائے میں آج کی بے چینی، سیاسی عدم استحکام، معاشی مشکلات اور اداروں پر عوامی اعتماد میں کمی محض اتفاق نہیں بلکہ برسوں کی غلط پالیسیوں اور کمزور سیاسی فیصلوں کا نتیجہ ہے۔آزاد کشمیر کا موجودہ بحران بھی اسی وسیع تصویر کا ایک حصہ دکھائی دیتا ہے۔ اگر عوامی مطالبات کو صرف امن و امان کا مسئلہ سمجھ کر دیکھا جائے گا تو اصل مسئلہ اپنی جگہ برقرار رہے گا۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ عوامی مسائل کو مستقل طور پر دبایا نہیں جا سکتا۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آزاد کشمیر پاکستان کے لیے صرف ایک انتظامی خطہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور مسئلہ کشمیر کے تناظر میں ایک انتہائی اہم حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے وہاں پیدا ہونے والی ہر سیاسی کشیدگی کو غیر معمولی سنجیدگی، تحمل اور دوراندیشی کے ساتھ سنبھالنے کی ضرورت ہے۔بدقسمتی سے موجودہ حکمران قیادت کے طرزِ عمل سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ قومی مفاد، عوامی فلاح، ادارہ جاتی استحکام اور طویل المدتی ترقی کے مقابلے میں اقتدار کے تحفظ کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ اگر یہ تاثر درست ثابت ہوتا ہے تو اس کا نقصان کسی ایک جماعت یا حکومت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پوری ریاست، عوام اور آنے والی نسلوں کو اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ اب بھی وقت ہے کہ تمام متعلقہ فریق تصادم کے راستے سے ہٹ کر مذاکرات کی میز پر آئیں۔ اختلافِ رائے کو دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے اسے جمہوری عمل کا حصہ سمجھا جائے۔ عوامی شکایات کو سنا جائے، سیاسی قیادت کو اپنا کردار ادا کرنے دیا جائے اور ایسے فیصلے کیے جائیں جو وقتی سیاسی فائدے کے بجائے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کئے جائیں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *