بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Sunday, 05 July 2026 | پاکستان: 21 محرم 1448

سندھ طاس معاہدہ اور بھارت کی ہٹ دھرمی

Sunday, 5 July, 2026

اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے منعقد ہونے والا سیمینار ایک غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا ۔ جنوبی ایشیا اس وقت جن نازک حالات سے گزر رہا ہے اور بھارت نے جس انداز سے پانی کو ایک تذویراتی ہتھیار میں تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے، اس تناظر میں اس سیمینار کی اہمیت غیر معمولی ہو جاتی ہے۔ اس سیمینار میں ایک جانب بھارت کی آبی جارحیت کے قانونی، سفارتی اور بین الاقوامی پہلوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، تو دوسری جانب یہ اجتماع اپنی نوعیت کے اعتبار سے جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور باہمی احترام کی ایک سنجیدہ خواہش کا اظہار بھی تھا۔ اس کی ایک اور اہم خصوصیت یہ تھی کہ اس میں صرف پاکستانی ماہرین ہی شریک نہیں تھے بلکہ بین الاقوامی ماہرین قانون اور اس مسئلے کی تاریخی و قانونی بنیادوں سے آگاہ ممتاز شخصیات نے بھی شرکت کی، جن میں ڈپٹی پرائم منسٹر اسحاق ڈار ، بلاول بھٹو زرداری، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عامر ریاض ، حنا ربانی کھر ، خرم دستگیر خان ، ، وکٹر گا ، سید مہر علی شاہ ، بلال احمر صوفی، پروفیسر لوانس کیٹسوگینس ، ڈاکٹر زیگون ، مصدق ملک اور دیگر اہم مقامی اور غیر ملکی شخصیات شامل ہیں ۔یہ سیمینار دراصل اس حقیقت کی یاد دہانی تھا کہ جب بین الاقوامی معاہدوں کی حرمت کو نظرانداز کیا جاتا ہے اور کسی ایک ریاست کے خلاف یک طرفہ اقدامات کیے جاتے ہیں تو اس کے نتائج صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا خطہ عدم استحکام اور جنگ کے خطرات کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔اس سیمینار میں بنیادی سوال یہ زیر بحث آیا کہ کیا بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو ختم یا معطل کر سکتا ہے؟ اس نکتے پر بین الاقوامی قانون کی روشنی میں تفصیلی گفتگو کی گئی اور واضح کیا گیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایسا معاہدہ نہیں جسے کوئی ایک فریق اپنی مرضی سے جب چاہے ختم یا معطل کر دے۔ بین الاقوامی معاہدے خواہ دو ریاستوں کے درمیان ہی کیوں نہ ہوں، وہ اس قدر کمزور یا بے وقعت نہیں ہوتے کہ انہیں یکطرفہ فیصلے کے ذریعے عملا بے اثر بنا دیا جائے۔شرکا نے اس امر پر زور دیا کہ سندھ طاس معاہدے میں ایسی کوئی شق موجود نہیں جو کسی ایک ریاست کو یہ اختیار دے کہ وہ اپنی صوابدید پر معاہدے کو منسوخ یا معطل کر دے۔ چنانچہ اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم یا معطل کرنے کی کوئی بھی کوشش درحقیقت معاہدے سے انحراف ہے، جو بین الاقوامی قانون اور ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی بنیادوں کے منافی تصور کی جاتی ہے ۔ بھارت اگر بھارت کی حدود سے پاکستان کی طرف بہنے والے دریاں کا پانی روکتا ہے تو کیا یہ پانی بھارت کی ملکیت ہے کہ وہ چاہے تو اسے روک لے اور چاہے تو پاکستان کی طرف جانے دے؟ بین الاقوامی قانون یہ کہتا ہے کہ یہ پانی کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں ہوتی۔ اس پر سب کا حق ہوتا ہے۔ بھارت سے جو پانی بہتا ہوا پاکستان میں آتا ہے وہ بھارت کی ملکیت نہیں اور بھارت اس پانی کو نہیں روک سکتا۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو یہ انسانیت کے خلاف جرم ، معاہدے سے انحراف اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پامالی اور آفاقی عالمی اصولوں کی خلاف ورزی ہو گی ۔ ایک اہم نکتہ یہ بھی زیر بحث آیا کہ اگر بھارت اپنے زیر کنٹرول یا زیر قبضہ دریاں کو اپنی ملکیت سمجھتا ہیاور وہ اس بات کو اہنا حق قرار دیتا ہے کہ وہ پاکستان کی طرف جانے واالے پانی کو روک دے تو کیا بھارت چین فیکٹر کو نظر انداز کر رہا ہے۔ یہ دریا تو چین سے آ رہے ہیں ، بھارت سے گزر رہے ہیں یا بھارت کے زیر قبضہ علاقوں سے گزر رہے ہیں ۔ اگر چین نے بھی ان کا پانی روک دیا تو بھارت کیا کرے گا؟ یہ نکتہ بھی سیمینار میں نمایاں طور پر زیر بحث آیا کہ اگر کوئی ریاست بین الاقوامی قانون اور دوطرفہ معاہدوں کی پابندی کو اپنی صوابدید کا معاملہ بنا لے تو پھر عالمی قانونی نظام کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟ دنیا میں امن کا انحصار اسی اصول پر ہے کہ ریاستیں بین الاقوامی قانون کا احترام کریں اور اپنے طے شدہ معاہدوں پر حسن نیت کے ساتھ عمل کریں۔ اگر یہ اصول کمزور پڑ جائے تو تنازعات کے حل کے قانونی راستے بھی کمزور ہو جاتے ہیں اور کشیدگی میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔پاکستان کے تناظر میں یہ معاملہ محض ایک قانونی بحث نہیں بلکہ قومی بقا کا سوال ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس کی معیشت، غذائی تحفظ اور کروڑوں شہریوں کا روزگار دریائے سندھ کے نظام سے وابستہ ہے۔ اگر پاکستان کے حصے کے پانی کو بین الاقوامی معاہدے اور قانونی ذمہ داریوں کو نظرانداز کرتے ہوئے روکا جائے تو اس کے اثرات صرف زرعی پیداوار تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا معاشی اور سماجی ڈھانچہ متاثر ہوگا۔سیمینار میں اس امر پر بھی توجہ دلائی گئی کہ پاکستان نے اس معاملے پر پہلے سفارتی اور قانونی راستہ اختیار کیا ہے اور اس کا مقف یہی ہے کہ تنازعات کا حل بین الاقوامی قانون اور معاہدوں کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ تاہم مقررین نے خبردار کیا کہ اگر معاہدوں کی خلاف ورزی معمول بن جائے، قانونی طریقہ کار غیر مثر ہو جائے اور تمام پرامن ذرائع ناکام ہو جائیں تو خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت حال نہ صرف پاکستان اور بھارت بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہے۔مقررین کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری کو اس معاملے کو محض دوطرفہ اختلاف سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ اگر بین الاقوامی معاہدوں کی پابندی کو کمزور ہونے دیا گیا تو اس سے صرف سندھ طاس معاہدہ ہی متاثر نہیں ہوگا بلکہ قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام کی ساکھ بھی مجروح ہوگی، جس کے اثرات دنیا کے دیگر سرحدی دریائی تنازعات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ا

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *