بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 31.2°C
Sunday, 05 July 2026 | پاکستان: 20 محرم 1448

پانی، موسمیاتی تبدیلی اور زرعی بحران

Sunday, 5 July, 2026

پاکستان کی معیشت کی بنیاد زراعت پر استوار ہے۔ کپاس، گندم، چاول، گنا، پھل اور سبزیاں نہ صرف ملکی غذائی ضروریات پوری کرتے ہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ بھی ہیں۔ مگر گزشتہ چند برسوں میں موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، بے ترتیب بارشوں، شدید گرمی، خشک سالی اور بڑھتی ہوئی آبادی نے اس بنیاد کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ آج یہ سوال پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو کیا پاکستان آنے والے برسوں میں غذائی تحفظ برقرار رکھ سکے گا؟ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید متاثر ہو رہے ہیں، حالانکہ عالمی کاربن اخراج میں اس کا حصہ بہت کم ہے۔ ایک طرف کہیں شدید بارشیں اور سیلاب فصلوں کو تباہ کر دیتے ہیں، تو دوسری طرف کئی علاقوں میں بارشوں کی کمی اور گرمی کی شدت خشک سالی کو جنم دیتی ہے۔ یہی غیر یقینی کیفیت کسان کیلئے سب سے بڑا امتحان بن چکی ہے۔ گزشتہ برسوں میں پاکستان نے شدید موسمی تغیرات کا سامنا کیا۔ کہیں درجہ حرارت نے نئے ریکارڈ قائم کیے، کہیں پانی کی کمی نے فصلوں کو متاثر کیا، جبکہ مختلف علاقوں میں غیر متوقع بارشوں نے کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچایا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلی کی رفتار یہی رہی تو آئندہ دہائی میں زرعی پیداوار پر مزید دبا پڑ سکتا ہے۔ پانی کا مسئلہ اس بحران کا دوسرا اور شاید سب سے اہم پہلو ہے۔ پاکستان کا بیشتر زرعی نظام دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاں پر منحصر ہے۔ لیکن آبادی میں مسلسل اضافہ، زیرِ زمین پانی کا بے دریغ استعمال، نہری نظام میں پانی کا ضیاع اور ذخیرہ کرنے کی محدود صلاحیت نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں آبی وسائل کے حوالے سے علاقائی کشیدگی بھی زیرِ بحث رہی، اور حکومت نے بین الاقوامی سطح پر اس بات پر زور دیا کہ مشترکہ دریاں کے پانی کو سیاسی دبا کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ حکومت نے اس سنگین صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بعض اہم اقدامات بھی کیے ہیں۔ مارچ 2026 میں پہلا قومی خشک سالی ایکشن پلان متعارف کرایا گیا، جس کا مقصد خشک سالی سے نمٹنے کے لیے ہنگامی ردِعمل کے بجائے پیشگی منصوبہ بندی، خطرات کی نشاندہی اور مختلف اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ اسی سلسلے میں منصوبہ بندی کے وفاقی اداروں نے بھی اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو وقتی بحرانوں سے نکل کر طویل مدتی واٹر سیکیورٹی پلاننگ کی طرف بڑھنا ہوگا۔ یہ اقدامات یقینا خوش آئند ہیں، لیکن ایک اہم سوال باقی ہے کہ کیا صرف منصوبے بنا لینے سے مسئلہ حل ہو جائے گا؟ بدقسمتی سے ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ پاکستان میں بہت سی بہترین پالیسیاں کاغذوں تک محدود رہ جاتی ہیں۔ جب تک ان پر مثر عمل درآمد، مالی وسائل کی فراہمی، صوبوں کے درمیان تعاون اور مسلسل نگرانی کا نظام قائم نہیں ہوگا، مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل رہے گا۔ زرعی شعبہ بھی جدید تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں ہو سکا۔ دنیا کے کئی ممالک مصنوعی ذہانت، سیٹلائٹ ڈیٹا، موسمی پیش گوئی، جدید بیج اور پانی بچانے والی ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی پیداوار بڑھا رہے ہیں، جبکہ پاکستان کے بیشتر کسان اب بھی روایتی طریقوں پر انحصار کرتے ہیں۔ نتیجتا پانی زیادہ استعمال ہوتا ہے، لاگت بڑھتی ہے اور پیداوار نسبتا کم رہتی ہے۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ پانی کا ضیاع ہماری اجتماعی بے احتیاطی کا نتیجہ ہے۔ اندازوں کے مطابق نہروں اور کھالوں کے ذریعے بڑی مقدار میں پانی کھیت تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتا ہے۔ دوسری جانب شہروں میں بھی پانی کے غیر ضروری استعمال، لیکیج اور ناقص نظام نے بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اس تمام صورتحال کا سب سے بڑا نقصان عام شہری کو اٹھانا پڑتا ہے۔ جب فصل کم ہوتی ہے تو خوراک مہنگی ہو جاتی ہے، مہنگائی بڑھتی ہے، کسان کی آمدنی متاثر ہوتی ہے اور قومی معیشت پر اضافی دبا آتا ہے۔ یوں پانی اور موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف ماحولیات کا نہیں بلکہ معیشت، خوراک، روزگار اور قومی سلامتی کا بھی مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہی کہ پانی اور زراعت کا بحران محض حکومت کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری قوم کا مسئلہ ہے۔ اگر آج موثر فیصلے نہ کیے گئے تو آنیوالے برسوں میں خوراک کی قیمتوں میں اضافہ، زرعی پیداوار میں کمی، دیہی بے روزگاری اور معاشی عدم استحکام مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ وقتی اقدامات کے بجائے ایک جامع اور دیرپا حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔ سب سے پہلے پانی کے ذخائر میں اضافے پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا۔ ہر سال اربوں کیوسک پانی سمندر میں چلا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف ملک کے کئی علاقے پانی کی قلت کا شکار رہتے ہیں۔ یہ تضاد ہماری منصوبہ بندی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اسی طرح نہری نظام کی جدیدکاری ناگزیر ہے۔ پرانی نہروں اور کھالوں میں پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے لائننگ، جدید نگرانی اور مثر تقسیم کا نظام متعارف کرایا جائے۔ اگر پانی کی ترسیل کے دوران ہونے والا ضیاع کم کر لیا جائے تو اضافی پانی حاصل کیے بغیر بھی لاکھوں ایکڑ زمین کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو قومی پالیسی کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ ڈرپ اور اسپرنکلر آبپاشی، لیزر لینڈ لیولنگ، جدید بیج، مٹی کے تجزیے اور موسمی پیش گوئی کی بنیاد پر کاشتکاری نہ صرف پانی کی بچت کرتی ہے بلکہ پیداوار میں بھی اضافہ کرتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ایسے نظام اپنانے والے کسانوں کو آسان قرضے، سبسڈی اور تکنیکی معاونت فراہم کرے تاکہ جدید زرعی طریقے صرف بڑے زمینداروں تک محدود نہ رہیں بلکہ چھوٹے کسان بھی ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں زرعی تحقیق کو بھی نئی سمت دینے کی ضرورت ہے۔ ہماری جامعات اور تحقیقی ادارے ایسے بیج تیار کریں جو زیادہ گرمی، کم پانی اور بدلتے موسم کا مقابلہ کر سکیں۔ اسی طرح کسانوں کو بروقت موسمی اطلاعات موبائل فون اور مقامی زرعی مراکز کے ذریعے فراہم کی جائیں تاکہ وہ فصلوں کی بوائی، آبپاشی اور کٹائی کے فیصلے بہتر انداز میں کر سکیں۔ ایک اہم مسئلہ زیرِ زمین پانی کا بے تحاشا استعمال بھی ہے۔ ملک کے کئی علاقوں میں ٹیوب ویلوں کے ذریعے پانی نکالنے کی رفتار، قدرتی طور پر اس کی دوبارہ بھرپائی سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔ اگر اس رجحان پر قابو نہ پایا گیا تو آنے والی نسلوں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ زیرِ زمین پانی کے استعمال کیلئے واضح قانون سازی، نگرانی اور موثر نفاذ کیا جائے۔ شہری علاقوں میں بھی پانی کے تحفظ کو قومی مہم بنایا جانا چاہیے۔ گھروں، سرکاری اداروں، صنعتوں اور تجارتی مراکز میں پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے قوانین اور عوامی آگاہی دونوں ضروری ہیں۔ اسکولوں اور جامعات کے نصاب میں پانی کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق عملی تعلیم شامل کی جائے تاکہ نئی نسل اس مسئلے کو صرف ایک خبر نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری سمجھے۔ نجی شعبہ بھی اس قومی کوشش کا اہم حصہ بن سکتا ہے۔ زرعی ٹیکنالوجی، سولر توانائی سے چلنے والے آبپاشی نظام، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے منصوبوں اور جدید زرعی آلات میں سرمایہ کاری نہ صرف معیشت کو فائدہ دے گی بلکہ ماحول دوست ترقی کی راہ بھی ہموار کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر تعاون ناگزیر ہے۔ پانی اور زراعت ایسے شعبے ہیں جن میں سیاسی اختلافات کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ مشترکہ منصوبہ بندی، شفاف اعداد و شمار اور سائنسی بنیادوں پر فیصلے ہی دیرپا نتائج دے سکتے ہیں۔ پاکستان کے کسان نے ہمیشہ مشکل حالات میں بھی ہمت نہیں ہاری۔ اس نے سیلاب، خشک سالی، مہنگائی اور وسائل کی کمی کے باوجود ملک کے لیے اناج پیدا کیا ہے۔ اب ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے جدید سہولیات، بہتر تحقیق، مناسب قیمت اور مثر حکومتی معاونت فراہم کرے۔ ایک مضبوط زرعی شعبہ صرف کسان کی خوشحالی نہیں بلکہ قومی معیشت، غذائی تحفظ اور سماجی استحکام کی ضمانت بھی ہے۔ آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ موسمیاتی تبدیلی مستقبل کا نہیں بلکہ آج کا مسئلہ ہے۔ اگر ہم نے پانی کے ہر قطرے کی حفاظت، ماحول کے تحفظ اور جدید زرعی اصلاحات کو قومی ترجیح نہ بنایا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ لیکن اگر ہم بروقت فیصلے کریں، سائنسی تحقیق کو فروغ دیں، وسائل کا دانشمندانہ استعمال کریں اور قومی اتفاقِ رائے کے ساتھ آگے بڑھیں تو یہی بحران پاکستان کے لیے ایک نئے آغاز کا موقع بھی بن سکتا ہے۔ قوموں کی ترقی صرف وسائل کی فراوانی سے نہیں بلکہ ان وسائل کے دانشمندانہ استعمال سے ہوتی ہے۔ پاکستان کے پاس زرخیز زمین، محنتی کسان اور قابل ماہرین موجود ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ وژن، تسلسل اور اجتماعی عزم کے ساتھ پانی، ماحول اور زراعت کو قومی ترجیح بنایا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو غذائی خودکفالت، معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *