آبنائے ہرمز ایک بار پھر دنیا کا خطرناک ترین ‘فلیش پوائنٹ’ بن چکی ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست عسکری تصادم نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک ایسی ہولناک جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ دو بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ایران کی جانب سے اس اہم ترین آبی گزرگاہ کو بند کرنے کا اعلان اور دوسری طرف امریکہ کا طاقت کے زور پر بحری آمد و رفت بحال رکھنے کا عزم، عالمی امن کیلئے ایک سنگین ترین چیلنج بن چکا ہے۔ صورتحال اس وقت مزید تشویشناک رخ اختیار کر گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ انکشاف کیا کہ واشنگٹن اور تہران ایک معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ چکے تھے لیکن عین وقت پر ایک بحری جہاز پر ایرانی ڈرون حملے نے سفارتکاری کی بساط الٹ دی اور دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز سے اٹھا کر میدانِ جنگ میں لا کھڑا کیا ۔ اس بحران کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ اب یہ جنگ صرف بیانات اور دھمکیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ عملی کارروائیوں کے تیسرے اور شدید ترین مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے قبرص کے کنٹینر بردار جہاز پر حملے کا ذمہ دار ایران کو ٹھہراتے ہوئے اس کی حدود میں 140 عسکری اہداف پر بمباری کی ہے۔ ان اہداف میں میزائل اور ڈرون تنصیبات، اسلحہ کے ذخائر اور ساحلی نگرانی کے مراکز شامل ہیں۔ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کا یہ بیان کہ “ایران نے غلط فیصلہ کیا اور اب اسے قیمت چکانی پڑے گی” اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ امریکہ اس بار ایران کی عسکری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچانے کا مصمم ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم ایران نے بھی اس جارحیت کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے انتہائی جارحانہ ردِعمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے عمان، اردن، کویت، بحرین اور قطر میں قائم امریکی فوجی تنصیبات، ریڈار سائٹس، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز اور ایندھن بھرنے والے پلیٹ فارمز کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے، اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ تنازع اب ایک علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اور معاشی اہمیت کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ دنیا کی وہ اہم ترین شہ رگ ہے جہاں سے روزانہ عالمی سطح پر فروخت ہونے والے خام تیل کا تقریبا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ ایران کا اس گزرگاہ کو بند کرنے کا فیصلہ دنیا کو ایک بدترین معاشی بحران میں دھکیل سکتا ہے۔ اگر یہ بندش چند دن بھی برقرار رہتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی، جس کا براہِ راست اثر دنیا بھر میں توانائی کے بحران اور بے لگام مہنگائی کی صورت میں نکلے گا۔ امریکہ کا یہ اصرار کہ ہرمز پر ایران کا یکطرفہ کنٹرول تسلیم نہیں کیا جائے گا اور امریکی افواج جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہیں، بین الاقوامی قوانین اور آزاد تجارت کے تحفظ کے نقطہ نظر سے تو درست ہو سکتا ہے، لیکن اس مقصد کے لیے طاقت کا بے دریغ استعمال جلتی پر تیل کا کام کر رہا ہے۔اس تمام تر صورتحال میں خلیجی ممالک کی پوزیشن انتہائی نازک ہو چکی ہے۔ اردن، کویت، عمان اور قطر جیسے ممالک، جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں، اب ایران کے براہِ راست نشانے پر ہیں۔ ان ممالک کی سرزمین پر امریکی تنصیبات کو نشانہ بنا کر ایران نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ خلیج میں موجود کسی بھی امریکی اثاثے کو محفوظ نہیں رہنے دے گا۔ یہ صورتحال ان خلیجی ریاستوں کیلئے ایک بڑا سیکیورٹی کا بحران بن چکی ہے، جو ایک طرف امریکہ کے ساتھ سیکیورٹی معاہدوں میں بندھی ہیں اور دوسری طرف ایران کی جغرافیائی قربت اور اس کے میزائلوں کی زد میں ہیں۔ اگر یہ خلیجی ممالک اس جنگ کی آگ میں جھلس گئے تو خطے کا پورا معاشی اور دفاعی ڈھانچہ زمین بوس ہو جائے گا۔وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی برداری، خصوصاً اقوامِ متحدہ، سلامتی کونسل اور چین و یورپی یونین جیسی عالمی طاقتیں فوری طور پر متحرک ہوں۔ اس وقت دنیا مزید کسی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی ۔ امریکہ اور ایران دونوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عسکری طاقت کا استعمال کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جب بھی طاقت کے بل بوتے پر فیصلے مسلط کرنے کی کوشش کی گئی، اس کے نتائج مزید تباہی، شدت پسندی اور عدم استحکام کی صورت میں برآمد ہوئے۔ صدر ٹرمپ کے بیان سے واضح ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان سفارتی چینلز کھلے تھے اور وہ کسی نتیجے پر پہنچنے والے تھے۔ لہٰذا اب بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ اسی سفارتی راستے کو دوبارہ اختیار کیا جائے۔ ایران کو چاہیے کہ وہ عالمی قوانین کے تحت بحری گزرگاہوں کی آزادی کا احترام کرے اور انتقامی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرنے سے گریز کرے جبکہ امریکہ کو بھی چاہیے کہ وہ ایران کی خودمختاری پر حملے بند کر کے خطے کو ایک ایسی بڑی جنگ سے بچائے جس کا اختتام کسی کے حق میں اچھا نہیں ہوگا۔ اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے گئے تو آبنائے ہرمز کی یہ چنگاری پورے کرہِ ارض کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔
بلوچستان میںدہشت گردوں کامزدوروںپربزدلانہ حملہ
بلوچستان میں ضلع واشک کے علاقے ماشکیل میں نامعلوم افراد نے دکانوں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جسکے نتیجے میں وہاں کام کرنیوالے پانچ مزدور شہید ہو گئے۔ مسلح حملہ آور فائرنگ کے فوراً بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ شہید ہونیوالے پانچوں افراد کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے تھا، جو یہاں دکانوں پر بطور مزدور کام کر رہے تھے۔صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف نے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم اور نہتے مزدوروں کو نشانہ بنانا انتہائی سفاکانہ اور بزدلانہ فعل ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، ایسے انسانیت سوز جرائم میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔بیگناہ مزدوروں کی شہادت کا واقعہ انتہائی سفاکانہ، پسماندہ سوچ کا عکاس اور شدید قابلِ مذمت ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والے یہ تمام افراد پنجاب کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھتے تھے جو وہاں دکانوں پر محنت مزدوری کر کے اپنے اہل خانہ کا پیٹ پال رہے تھے۔ غربت اور بیروزگاری کے ستائے یہ معصوم شہری جو ملک کے ایک حصے سے دوسرے حصے میں صرف دو وقت کی روٹی کمانے گئے تھے، انہیں جس بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا گیا، اس نے ایک بار پھر ریاست کے امن و امان کے دعوئوں اور معصوم شہریوں کے تحفظ کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ بلوچستان میں غیر مقامی مزدوروں، خصوصاً پنجاب اور خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے محنت کشوں کو اس طرح نسلی بنیادوں پر نشانہ بنایا گیا ہو۔ اس سے قبل بھی صوبے کے مختلف اضلاع میں شاہراہوں پر بسوں سے اتار کر، یا تعمیراتی سائٹس پر سوئے ہوئے مزدوروں کو چن چن کر قتل کرنے کے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ ان بزدلانہ کارروائیوں کا مقصد واضح ہے؛ دہشت گرد عناصر خطے میں خوف و ہراس پھیلانا چاہتے ہیں، صوبائی عصبیت کو ہوا دینا چاہتے ہیں اور بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں جاری ترقیاتی و معاشی سرگرمیوں کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ مزدور کسی بھی معیشت کا انجن ہوتے ہیں اور انہیں نشانہ بنا کر دراصل ملک کے معاشی استحکام اور قومی یکجہتی پر وار کیا جا رہا ہے۔اس واقعے کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ حملہ آور فائرنگ کے بعد آسانی سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست ان دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف ایک فیصلہ کن اور بلاامتیاز کارروائی کرے جو معصوم انسانوں کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں۔حکومتِ وقت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ ماشکیل واقعے کے مجرموں کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لائیں اور انہیں عبرتناک سزا دلائیں۔ اس کے ساتھ ہی، بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کام کرنے والے تمام غیر مقامی محنت کشوں، تاجروں اور نجی عملے کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنا روزگار کما سکیں۔ اگر محنت کشوں کو ان کی جان مال کا تحفظ نہ ملا، تو بلوچستان معاشی تنہائی کا شکار ہو جائے گا جس کا سب سے بڑا نقصان خود وہاں کے مقامی عوام کو اٹھانا پڑے گا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر ایک جامع سیکیورٹی پلان تشکیل دینا ہوگا تاکہ مستقبل میں ایسے خونریز سانحات کا سدِباب ممکن ہو سکے اور کسی بھی پاکستانی کو اس کی شناخت یا صوبائی تعلق کی وجہ سے نشانہ نہ بنایا جا سکے۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں