بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Friday, 24 July 2026 | پاکستان: 11 صفر 1448

طالبان کے دور کی معاشی ناکامیاں

Friday, 24 July, 2026

قابض طالبان رجیم کے 5 سالہ ترقیاتی حکمتِ عملی ناکام، معاشی کامیابیوں کے بلند و بانگ دعوے زمینی حقیقت سے کوسوں دور ہیں۔ امریکی تعاون سے چلنے والے معروف بین الاقوامی میڈیا نیٹ ورک ریڈیو فری یورپ، ریڈیو لبرٹی کی رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم میں افغان معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ بڑھتی مہنگائی، بے روزگاری اور سرمایہ کاری کے فقدان نے عوام کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ مئی میں سالانہ مہنگائی کی شرح 8 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ پچھلے سال اسی مہینے میں یہ شرح 0.5 فیصد تھی، اشیا ئے خور و نوش افغان عوام کی پہنچ سے دور ہیں، غذائی اشیا کی قیمتوں میں 8.2 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔طالبان رجیم کی ناقص اقتصادی پالیسیوں کے باعث افغانستان کا معاشی بحران ہر گزرتے دن کے ساتھ ابتر ہونے لگا۔ خواتین کے روزگار اور کاروبار پر پابندیوں نے افغان خاندانوں کی مالی مشکلات اور معاشی بحران کو مزید سنگین کردیا ہے، افغان رجیم کی نااہلی کے باعث بے روزگاری بلند سطح پر پہنچ چکی ہے، 2025 میں شرح 13.35 فیصد ریکارڈ کی گئی۔عالمی ماہرین کے مطابق طالبان رجیم کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی نے افغانستان کوسفارتی تنہائی کا شکارکردیا ہے جسکا خمیازہ وہاں کی معیشت اور عام عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے، افغان رجیم کی انتہاپسند پالیسیوں اورخواتین پر کام کی پابندیوں نے ملک کی نصف پیداواری افرادی قوت کو ناکارہ بنا کر معاشی بحران کو مزید گہرا کردیا ہے۔افغانستان میں طالبان حکمرانی کے تحت انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر افغان اور بین الاقوامی اداروں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سخت مالی پابندیوں، محدود آزادیوں اور معاشی پالیسیوں کی ناکامی نے لاکھوں افغان شہریوں کی زندگیوں کو متاثر کر دیا جبکہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں معمول بنتی جا رہی ہیں۔ ملک میں بے روزگاری اور مسلسل بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات نے ہزاروں خاندانوں کو شدید بحران سے دوچار کر دیا، کم آمدنی، مہنگائی اور روزگار کے محدود مواقع کے باعث نوجوان تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہیں جبکہ بہت سے افراد معمولی تنخواہوں کے باوجود اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہیں۔ماہرینِ اقتصادیات کا کہنا ہے کہ افغانستان میں سرمایہ کاری اور معاشی بحالی اْس وقت تک ممکن نہیں جب تک سیاسی استحکام اور قابل انتظام حکومتی ڈھانچہ قائم نہیں ہوتا، طالبان کی نااہلی اور غیر واضح پالیسیوں نے ملکی معیشت کو مزید کمزور کر دیا۔ماہرینِ نفسیات نے خبردار کیا ہے کہ غربت، بے روزگاری اور معاشرتی عدم استحکام نوجوانوں میں ذہنی دباؤ اور خودکشی کے رجحانات میں خطرناک اضافہ کر رہے ہیں ۔ دوسری جانب سینٹر فار سیویلیئنز ان کانفلکٹ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں شہریوں کی حفاظت کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے جہاں بنیادی سکیورٹی اور انسانی آزادیوں کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔خواتین پر سخت پابندیوں، تعلیم اور روزگار کے مواقع کے خاتمے اور سفاک طرزِ حکمرانی نے افغانستان کو شدید معاشی اور سماجی بحران میں مبتلا کر دیا ہے جس کا بوجھ براہِ راست عام شہریوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ افغانستان میں طالبان رجیم کی ناقص پالیسیوں سے مقامی تاجر شدید متاثر ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں ٹن سامان اور زرعی پیداوار کو شدید نقصان پہنچا ہے۔طالبان رجیم کی شدت پسندی اور ناکام پالیسیوں نے افغان معیشت تباہ کردی ہے جبکہ جاری سرحدی بندش نے افغان تاجروں کو دیوالیہ کر دیا ہے۔ افغانستان سے پڑوسی ممالک کیلئے تجارتی راستوں کی بندش کے باعث پکتیکا کی منڈی میں زرعی اجناس کے ڈھیرلگ گئے ہیں ۔ پاک ، افغان سرحد کے ساتھ ساتھ ایرانی بارڈر بھی بند ہے اورنااہل طالبان رجیم تاجروں کومتبادل راستے اور معاشی ریلیف فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے۔ایک وائرل ویڈیومیں پکتیکا کا تاجر بتا رہا ہے کہ آلوکی فصل غیر معمولی طور پر بہت زیادہ ہے اورہر تاجرکی کوشش ہے کہ اسے ایران بھیج سکے،تاہم ایرانی بارڈر بند ہے ۔ افغان طالبان رجیم کی غیر لچکدار پالیسیوں کے باعث افغانستان میں کاروبار، برآمدات اور روزگار کو شدید نقصان ہو رہا ہے۔طالبان رجیم کی ناقص پالیسیوں کیوجہ سے لاکھوں افغان شہری اپنے گھر بار چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے ۔ افغان طالبان نے شریعت کی سخت اور کڑی تشریحات کی بنا پر 350معصوم افغانوں کو قید خانوں میں ڈال دیا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے افغانستان کے محقق زمن سلطانی کے مطابق طالبان کے زیر سایہ افغانستان تارکین وطن کی واپسی کیلئے دنیا کا خطرناک ترین ملک ہے۔افغان طالبان بین الاقوامی شناخت حاصل کرنے کیلئے یورپ میں قائم افغان سفارت خانوں پر زبردستی قبضہ جما رہے ہیں۔ طالبان رجیم افغان مہاجرین کی واپسی کے نام پر بین الاقوامی برادری کو اندھیرے میں رکھ کر گمراہ کر رہی ہے۔یورپی یونین کے خصوصی ایلچی جیل برٹرانڈ کے مطابق طالبان رجیم انسانی حقوق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔طالبان رجیم کی ناقص اقتصادی پالیسیوں کے باعث افغانستان معاشی تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا۔ قابض طالبان رجیم میں افغانستان میں غربت، بھوک اور افلاس نے سنگین صورتحال اختیار کرلی ہے، جبکہ مفلوج نظام حکومت اور معیشت کی تباہی سے افغانستان ایک ناکام ریاست کی تصویر پیش کررہا ہے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ طالبان رجیم میں افغانستان میں بھوک اور غذائی عدم تحفظ کی صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے، افغانستان میں ایک کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، جبکہ خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ طالبان رجیم کی نااہلی کے باعث افغانستان اس وقت معاشی تباہی اوربڑے پیمانے پر بیروزگاری جیسے کئی بحرانوں کی زد میں ہے۔ اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نیخبردار کیا ہے کہ افغانستان میں غذائی قلت کا شکارخواتین اور بچوں کے علاج کیلئے ناگزیرمخصوص خوراک کی فراہمی بھی شدید متاثر ہے۔ ماہرین کیمطابق طالبان رجیم نے ملکی وسائل کو عوامی خوشحالی کے بجائے دہشتگردوں کی پشت پناہی کیلئے وقف کر رکھا ہے، جس کا خمیازہ افغان عوام بھگت رہے ہیں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *