پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں ، وسیع و عریض میدانوں اور جفاکش مٹی سے عزم و ہمت کی ایک ایسی لازوال داستان جنم لے چکی ہے جس نے ملکی کوہ پیمائی کی تاریخ میں ایک نیا اور سنہرا باب رقم کر دیا ہے۔ بلوچستان کی چودہ سالہ ہونہار طالبہ ملائکہ خان خلجی نے وہ کارنامہ انجام دے دیا ہے جو بڑے بڑے تجربہ کار کوہ پیماؤں کے لیے بھی ایک خواب ہوتا ہے۔ انہوں نے انتہائی کٹھن، دشوار گزار اور فلک بوس کھوسر گنگ چوٹی کو کامیابی سے سر کر کے بلوچستان کی پہلی خاتون کوہ پیما ہونے کا ناقابلِ تسخیر اعزاز اپنے نام کر لیا ہے۔ یہ تاریخی کامیابی صرف ایک فرد کی فتح نہیں ہے، بلکہ یہ بلوچستان کی ہر اس بیٹی کی اڑان ہے جو نامساعد حالات کے باوجود اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کا عزم رکھتی ہے۔یہ مہم الپائن کلب آف پاکستان کے زیرِ اہتمام منظم کی گئی تھی، جو ملک میں کوہ پیمائی کے فروغ، مہم جوئی اور نوجوانوں کی تربیت میں ہمیشہ صفِ اول کا کردار ادا کرتا آ رہا ہے۔ الپائن کلب کے تحت منعقدہ قومی ویمن ایکسپڈیشن 2026 میں ملک بھر سے باصلاحیت اورنوجوان خواتین کوہ پیماؤں نے حصہ لیا، لیکن اس پورے قافلے میں سب سے خاص اور نمایاں نام کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی 14 سالہ ملائکہ خلجی کا تھا، جو اس پوری مہم کی سب سے کم عمر ترین کوہ پیما تھیں۔ کم عمری کے باوجود ان کے ارادے چٹان سے زیادہ مضبوط تھے اور ان کی آنکھوں میں اپنے صوبے اور ملک کا نام روشن کرنے کا سچا جذبہ موجزن تھا۔
کھوسر گنگ چوٹی کو سر کرنے کا سفر کوئی آسان سفر نہیں تھا۔ چودہ سال کی معصوم عمر میں جہاں بچے اپنی پڑھائی اور کھیلوں میں مصروف ہوتے ہیں، ملائکہ خلجی نے کٹھن ترین حالات کا سامنا کرنے کے لیے خود کو ذہنی اور جسمانی طور پر تیار کیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر انسان کے اندر سچی لگن اور حب الوطنی کا جذبہ ہو، تو عمر کی کمسنی یا وسائل کی کمی کبھی بھی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ چوٹی پر پہنچتے ہی ملائکہ خان خلجی نے سب سے پہلا کام پاکستان کا سبز ہلالی پرچم فضا میں بلند کرنے کا کیا۔ اس پر وقار اور تاریخی لمحے نے نہ صرف مہم میں شامل دیگر اراکین کے دلوں کو گرمایا بلکہ پورے ملک، خصوصا بلوچستان کے عوام کے سر فخر سے بلند کر دیے۔ چوٹی پر لہراتا ہوا سبز ہلالی پرچم اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ بلوچستان کی مٹی انتہائی زرخیز ہے اور یہاں کی بیٹیاں اگر عزم کر لیں، تو وہ دنیا کی کسی بھی بلندی کو چھو سکتی ہیں۔ملائکہ خلجی کی اس غیر معمولی اور تاریخی کامیابی پر الپائن کلب آف پاکستان کی انتظامیہ اور ملک کے مقتدر حلقوں نے انہیں اور ان کے اہلِ خانہ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے۔ الپائن کلب کے حکام کا کہنا ہے کہ ملائکہ نے اتنی کم عمری میں جس ہمت اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ ملک کے تمام نوجوانوں کیلئے رشک کے قابل ہے۔ ان کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے دور افتادہ علاقوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے، ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ انہیں مناسب مواقع اور پلیٹ فارم مہیا کیے جائیں ۔ ملائکہ کے والدین بھی اپنی بیٹی کی اس عظیم الشان فتح پر بے حد مسرور ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی بیٹی پر ناز ہے جس نے بلوچستان کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ملک کا نام روشن کیا۔یہ فتح محض کوہ پیمائی کے میدان میں حاصل کیا گیا ایک کارنامہ نہیں ہے، بلکہ یہ عزم، استقامت، انتھک محنت اور لازوال حب الوطنی کی ایک روشن علامت ہے۔ ان کی کامیابی دنیا کے سامنے یہ سچائی واضح کرتی ہے کہ بلوچستان کی اصل اور حقیقی پہچان وہاں کے پسماندہ حالات نہیں،بلکہ وہاں کے با صلاحیت، بہادر، جفاکش اور پرامید نوجوان ہیں جو اپنے وطن سے محبت کے جذبے سے سرشار ہیں۔ ملائکہ نے اپنی کامیابی سے یہ ثابت کر دیا کہ اگر بلوچستان کے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملے، تو وہ ہر میدان میں ملک کا نام دنیا بھر میں روشن کر سکتے ہیں۔معاشرتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ کامیابی بلوچستان کی نوجوان نسل، بالخصوص بچیوں کیلئے حوصلے، امید اور تحریک کا ایک بہت بڑا پیغام ہے۔ بلوچستان کے قدامت پسند اور قبائلی معاشرے میں خواتین کا کھیلوں، خاص طور پر کوہ پیمائی جیسے کٹھن اور خطرناک شعبے میں آنا ایک غیر معمولی بات ہے۔ اب بلوچستان کی ہر بیٹی ملائکہ خلجی کی مثال دے کر اپنے خوابوں کو پورا کرنے کیلئے اپنے قدم آگے بڑھا سکے گی۔مستقبل کے حوالے سے یہ بات بلا مبالغہ کہی جا سکتی ہے کہ ملائکہ خلجی کا نام اب بلوچستان اور پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ کیلئے امر ہو چکا ہے۔ وہ اب صرف ایک کوہ پیما نہیں رہیں، بلکہ وہ بلوچستان کی نوجوان نسل کیلئے ایک آئیکون بن چکی ہیں۔ ان کی اس کامیابی نے حکومت اور کھیلوں کے اربابِ اختیار پر بھی یہ ذمہ داری عائد کر دی ہے کہ وہ بلوچستان میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنائیں اور وہاں کے نوجوانوں کو کوہ پیمائی سمیت دیگر کھیلوں میں آگے بڑھنے کیلئے تمام ممکنہ سہولیات فراہم کریں۔آخر میں، ملائکہ خلجی کی یہ شاندار فتح اس بات کا واضح اعلان ہے کہ عزم ہو تو ہر بلندی سر کی جا سکتی ہے۔ بلوچستان کی اس بیٹی نے برفانی چوٹیوں کو مسخر کر کے ملک کے کروڑوں نوجوانوں کو یہ سبق دیا ہے کہ حالات چاہے کتنے ہی کٹھن کیوں نہ ہوں، اگر ارادے سچے ہوں اور منزل پر نظر ہو، تو راستے خود بخود بنتے چلے جاتے ہیں۔ ملائکہ خان خلجی کی کامیابی پر پورا پاکستان انہیں سلام پیش کرتا ہے اور امید کرتا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی دنیا کی مزید بلند چوٹیوں پر پاکستان کا پرچم لہرا کر ملک کا نام روشن کرتی رہیں گی۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں